Home / کالم / عورت مارچ، اور اسلام،

عورت مارچ، اور اسلام،

تحریر
سیف اللّٰه صدیقی،

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق،،،
نہ ابلہِ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند،،،

سرزمینِ سندھ اس وقت مغربی این جی او کے پیسوں پر پلنے والی چند آنٹیوں کی شدید یلغار میں ہے، جو خود تو نہ گھر کی ہیں نہ گھاٹ کی، جن کا خاندانی پس منظر عزت و شرافت سے خالی ہے، جنہیں نہ اسلامی تعلیمات سے واقفیت ہے نہ اور نہ ہی مشرقی تہذیب و تمدن سے سروکار، انہیں اپنا گھر، معاشرہ، اور پردہ قید لگتا ہے، جو نہ اپنے آباؤ و اجداد کی عزت و تقدس کا خیال رکھتی ہیں، اور نہ ہی شریعتِ محمدی کی پاسداری کا خیال رکھتی ہیں،

ان مغربی تہذیب کی فریفتہ خواتین کو یورپی ماحول اور معاشرہ چاہیے، جہاں یورپی خواتین چست اور عریاں لباس پہن کر مردوں کے ساتھ مل جل کر کام کرتی ہیں، وہ خواتین انہیں پسند ہیں جو ماں اور باپ جیسے عظیم رشتوں سے ناواقف ہیں، شوہر اور بھائی جیسے محافظ رشتوں سے نابلد ہیں، جہاں بہن اور بھائی کا تصور مفقود ہوچکا ہے، جہاں والدین بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اولڈ ہاؤسز میں قید و بند کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں،

سیکیولر اور لبرلزم کی دلدادہ، یورپی ایجنڈوں کی تکمیل کی خاطر چند آوارہ خواتین جن کا پہلے یہ نعرہ تھا،
میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو،

اب کی بار ان کے نعرے کچھ اس طرح ہیں،
نہ ملا چاہیے، نہ مذہب، تم قاتل ہو، تم ریپیسٹ ہو ، وغیرہ جیسے خطرناک نعرے لگا کر مکروہ عزائم کے تحت برسرِ میدان ہیں،

اسلام نے عورت کے جو حقوق متعین کیے ہیں، جو عزت و اکرام اسلام نے عورت کو دیا ہے، آج وہ نہ کسی مذہب میں ہے نہ ہی کسی ازم میں ہے، اسلام نے عورت کے درجات رکھے ہیں، ان کے لیے حدود و قیود متعین کیے ہیں، انہیں گھر کے چار دیواری کے اندر کے تمام کام سرانجام دینے اور رہنے کا حکم دیا ہے، شریعت نے انہیں باہر نکلنے پر پردہ کرنے کا حکم دے کر اس کی عزت دو چند کردی ہے،ان کے لیے ایسا لباس منتخب کیا ہے جیسے پہننے سے معاشرے میں عزت اور وقار بڑھ جاتا ہے،

عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو نے اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے، ماں اگر حمل سے ہے تو جھاد جتنا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے، اگر بچے کے پیدائش کے وقت درد کی تکلیف کے باعث فوت ہو جائے تو شھادت جیسا عظیم رتبہ دیا جاتا ہے،
عورت اگر بیٹی کے روپ میں ہے تو اسے رحمتِ الہی قرار دیا گیا ہے، اس کی صحیح پرورش پر والدین کے لیے اجر عظیم عطا کیا جائے گا،

عورت اگر بہن کے روپ میں ہے تو سراپا شفقت قرار دی گئی ہے، جو بھائیوں کے ناز نخرے برداشت کرتی ہے، جس کے لیے شادی کے بعد اس کے گھر سودا سلف دینے، اس کے ساتھ ایثار و ہمدردی کرنے پر سات نسلوں تک رزق کی فراوانی کا اعلان کیا گیا ہے،

عورت اگر بیوی کے روپ میں ہے تو اسے باعث سکونِ قلب کہا گیا ہے، اس کے ساتھ کھانا کھانے اور اس کے ساتھ مسکرانے کو صدقہ کرنے جتنا ثواب ملنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے، اس کی ضروریات زندگی پوری کرنے کو صلہ رحمی سے تعبیر کیا گیا ہے،

آزادی کے پرفریب نعرے لگانے والی عورتوں کو استعمال کرنے والے دل میں مکروہ عزائم رکھنے والے مرد حضرات سوچیں،

کیا ان کا ضمیر یہ بات گوارہ کرےگا کہ ان کے گھر کی خواتین اس طرح کے خوفناک نعروں سے لبریز پلے کارڈز اٹھا کر راستوں، چوکوں، اور چوراہوں پر دندناتی پہریں؟؟؟؟

کیا انہیں یہ بات پسند ہے کہ ہمارے گھر کی عورتیں گلی کوچوں میں اس طرح کے غلیظ نعرے لگاتی پہریں؟؟؟

باضمیر لوگ جواب دیں؟؟؟؟

#عورت_آزادی_مارچ_نامنظور

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے