Home / بین الاقوامی / افغانستان کی صورتحال اور سابق روسی صدر میخائل گورباچوف کا تجزیہ

افغانستان کی صورتحال اور سابق روسی صدر میخائل گورباچوف کا تجزیہ

🖋️از قلم مفکر اسلام
مولانا زاھد الراشدی صاحب

ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
مارچ ۲۰۱۰ء
افغانستان کی صورتحال کے بارے میں لندن کانفرنس کے موقع پر طالبان سے مذاکرات پر زور دینے کے بعد افغانستان میں اتحادی فوجوں نے دباؤ بڑھا دیا ہے اور طالبان راہنماؤں کی گرفتاریوں کی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ لندن کانفرنس کا مقصد خود برطانوی حکومت کے نمائندے نے یہ بتایا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کا فیصلہ طالبان کی قوت کو تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں طالبان کی ۸۰ فیصد اکثریت جنگ کی حامی نہیں ہے اور انہیں الگ کرنے کے لیے مذاکرات کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ لیکن بین الاقوامی ماہرین اور خطہ کے حالات سے واقفیت رکھنے والے عالمی دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ افغانستان میں نیٹو افواج کی ہزیمت پر پردہ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اوبامہ انتظامیہ افغانستان سے نکلنے سے پہلے آخری زور لگا کر اپنی پسپائی کے تاثر کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سلسلہ میں سوویت یونین کے آخری صدر میخائیل گورباچوف نے ایک حالیہ مضامین میں صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۱ فروری ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والے ان کے اس مضمون کے چند اقتباسات بطور خاص قابل توجہ ہیں:

۱۹۷۹ء میں سوویت قیادت نے افغانستان میں فوجیں اتارنے کے جواز میں کہا تھا کہ وہ وہاں اپنے دوستوں کی مدد کرنے اور انتشار کے شکار ملک میں استحکام پیدا کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم سے افغانستان جیسے ملک کی پیچیدہ صورتحال کو سمجھنے میں بہت بڑی غلطی سر زد ہوئی اسی لیے ہم جو چاہتے تھے نتائج اس کے بالکل برعکس برآمد ہوئے۔ عدم استحکام میں اضافہ ہوا اور ایک ایسی جنگ گلے پڑ گئی جس کا نہ صرف ہزاروں افراد شکار ہوئے بلکہ خود ہمارے اپنے ملک کو مہلک نتائج بھگتنا پڑے۔
۱۱ ستمبر مغربی قائدین کے خواب غفلت سے بڑبڑا کر بیدار ہونے کا ہولناک لمحہ تھا تب بھی مغرب کے فیصلہ سازوں نے جو فیصلے کیے وہ گہری سوچ بچار سے عاری تھے اور جو بعد ازاں غلط ثابت ہوئے۔
افغانستان میں فوج کی گرفت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے، یہ ایک کھلا راز ہے جس کا خود امریکی سفیر حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اعتراف کر چکے ہیں۔ میں نے بھی گزشتہ چند ماہ میں بار بار پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب میں ایک ہی بات دہرائی ہے اور وہی میں صدر اوبامہ سے کہنا چاہوں گا کہ جنہیں یہ مصیبت ان کے پیشرو سے ورثے میں ملی ہے اور وہ یہ کہ اس مصیبت کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے سیاسی حل اور افغانستان سے بیرونی افواج کا مکمل انخلا جو قوی مفاہمت کا متقاضی ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مندوب نے بھی حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں اسی چیز پر زور دیا ہے کہ ’’پورے افغانستان سے بیرونی فوجوں کا مکمل انخلا‘‘ کتنے شرم کی بات ہے کہ ایسا پہلے کہا اور کیا کیوں نہیں گیا؟
یہ تجزیہ سوویت یونین کے آخری صدر میخائیل گورباچوف کا ہے جنہوں نے افغانستان سے جہاد افغانستان کے بعد روسی فوجوں کے انخلا کا فیصلہ کیا تھا اور جن کے دور میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تھی۔

یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ جب افغانستان میں سوویت یونین کی فوجیں افغان عوام کے ساتھ برسر پیکار تھیں تب اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے روس کا دورہ کر کے ماسکو میں روسی لیڈروں کو یہ نصیحت کی تھی کہ وہ برطانیہ کے تجربہ سے سبق حاصل کریں جسے افغانستان پر فوج کشی میں عبرتناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور اب سوویت یونین کے آخری صدر امریکی صدر کو مشورہ دے رہے ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلا کے بغیر اس مصیبت سے ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔

دراصل امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نائن الیون کے بعد یہ سمجھ لیا تھا کہ طالبان شاید صرف ایک گروہ کا نام ہے جسے طاقت کے ذریعے شکست دی جا سکتی ہے، لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ سوویت یونین کی طرح امریکی اتحاد کی جنگ بھی پوری قوم کے خلاف ہے اور یہ مسلّمہ تاریخی حقیقت ہے کہ قوموں کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

3 comments

  1. Avatar

    I have read so many posts regarding the blogger lovers but this post is
    really a pleasant piece of writing, keep it up.

  2. Avatar

    Way cool! Some very valid points! I appreciate you penning this
    write-up and also the rest of the site is also very good.

  3. Avatar

    When some one searches for his necessary thing, therefore he/she desires to be
    available that in detail, so that thing is maintained over here.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے