Home / کالم / عقیدہ ترقی و دنیا کی تباہی*

عقیدہ ترقی و دنیا کی تباہی*

*تحریر

سید خالد جامعی صاحب۔
__________________
زمین پر جتنا کوڑا پیدا ہورہا ہے اس کے لئے دو کروں (Planets) کی ضرورت ہے۔

ترقی کے عقیدے سے دنیا تباہ ہورہی ہے مگر یہ عقیدے کی قیمت ہے۔
پانی کو ٹیکنو سائنس،جدیدیت،جدید صنعت،ترقی نے گندہ کیا ہے۔تمام صنعتیں جو کیمیائی فضلہ (Chemical Waste)پیدا کرتی ہیں،اسے وہ
(1)پانی میں
(2)زمین میں
(3)یا ہوا میں پھینکتی ہیں۔
لہذا صنعتوں سے نکلنے والا کیمیائی دھواں چمنیوں سے نکل کر ہوا میں اور کیمیائی صنعتی فضلہ فیکٹری سے نکل کر پانی اور زمین میں پھینک دیا جاتا ہے۔پلاسٹک کی بوتلیں،ڈبے،پیکنگ ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔پنگوئین کی کتاب
The Waste
پڑھ لیجئے مصنفہ لکھتی ہیں کہ زمین کا ایک کرہ (Planet)جتنا کوڑا پیدا کررہا ہے اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے دو ایسے ہی کروں (Planets)کی ضرورت ہے۔تاریخ انسانی کی تئیس تہذیبوں نے مل کر بھی اتنا کوڑا پیدا نہیں کیا جتنا کوڑا جدید صنعتی ترقی کے باعث دنیا ایک سال میں پیدا کرتی ہے یہ کوڑا پانی،ہوا،زمین،سمندر،
سب کو گندہ کررہا ہے ہزاروں مخلوقات مررہی ہیں لیکن انسان اپنے مزے ترقی عیش کے لیے
ترقی کو روکنے ختم کرنے پر تیار نہیں وہ خود کو دنیا کو تباہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ عقیدے کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہے ترقی کا پہیہ روکنے پر تیار نہیں۔
چیف جسٹس صاحب سے بنیادی سوال صرف یہ ہے کہ زندگی__یعنی صاف پانی اہم ہے یا ترقی یا جدیدیت یا فیکٹری؟
چیف جسٹس صاحب فیصلہ کر دیں کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح حاصل ہے؟اصل صاف میٹھا پانی کیمیائی مادوں سے صاف کئے بغیر اگر درکار ہے تو تمام صنعتیں،ترقی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔کیا چیف جسٹس صاحب یہ فیصلہ کرسکتے ہیں؟ کیا جدید ریاست،عوام،چیف جسٹس کو یہ فیصلہ کرنے دیں گے؟ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ترقی کی بھی قیمت ہے__گندہ پانی_اور ترقی نہ کرنے کی بھی ایک قیمت ہے،صاف پانی__آپ کس قیمت پر کس چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ترقی کے لیے گندہ پانی پینا چاہتے ہیں۔ترقی چھوڑنا نہیں چاہتے۔لہذاترقی ہوگی تو گندہ پانی ملے گا۔امریکہ،برطانیہ میں بھی گندہ پانی ہی ملتا ہے مگر وہ کیمیائی عمل سے صاف کرکے کیمیائی پانی بن جاتا ہے،فطری پانی نہیں ہوتا۔جیرڈڈائمنڈ کی کتاب
The Collaps
میں ایک باب چین پر ہے وہ پڑھ لیجئے۔تیس سالہ چینی ترقی کے نتیجے میں چین کے تمام دریا،ندی،نالےآلودہ ہوگئے۔پانی پینے کے قابل ہی نہیں رہا،اب اسے صاف کیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے