Home / کالم / روٹی

روٹی

تحریر
(صبا رانا)
📕📕📕📕📕

حلیمہ 14 سال کی ہے۔ اور اپنی اماں اباکی تیسرے نمبر والی بیٹی ہے۔ وہ اپنی اماں کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں کام پہ جاتی تھی۔
حلیمہ کو ایک سال سے زیادہ وقت ہوگیا تھا میری آنٹی کے گھر آتے۔ حلیمہ ایک چپ ساد لڑکی تھی۔ اس کو جب بھی کوٸی کام کہا یا پوچھا جاتا وہ صرف ہاں نا اورٹھیک ہے جواب دیتی اس کے علاوہ کبھی کچھ نہ کہتی۔
میرا اپنی آنٹی کے گھر بہت بار جانا ہوتا۔ میں نے حلیمہ کو بہت بار مخاطب کیا مگر حلیمہ نے مختصر جواب کے علاوہ بات نہیں کی۔
میں نے کٸ بار دیکھا تھا حلیمہ اپنے مقرہ کام سے فارغ ہوکے صحن کے اگلے حصے میں گیراج میں پڑی کرسی پہ بیٹھ کہ اکثر اخبار کو دیکھا کرتی تھی۔

ایک دن میں چھٹی کے باعث اپنی آنٹی کے ہاں ہی رک گٸ اس دن حلیمہ کی امی نے کام سے چھٹی کی تو حلیمہ آگٸ۔ آنٹی نے پوچھا تمہاری اماں کیوں نہیں آٸی تو حلیمہ نے کہا کہ اماں بیمار ہیں اس لیے مجھے بھیجا ہے۔
آنٹی کہا اچھا ٹھیک ہے تم بس کچن کی چیزیں ٹھیک کردو باقی میں کرلوں گی۔
حلیمہ نے کہا ٹھیک ہے۔ آنٹی اپنے کمرے میں چلی گٸ اور حلیمہ کچن میں کپ دھو رہی تھی۔ میں بھی حلیمہ کے پاس گٸ اور پوچھا کہ تمہاری اماں کو کیا ہوا۔ تو حلیمہ نے مجھے گھورتے ہوۓ دیکھا اور کہا بیمار ہے بتایاتو ہے۔
اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے کچن میں کھڑے رہنے سے گھبرا رہی ہے تو میں باہر صحن میں چلی آٸی۔
حلیمہ نے اپنا کام ختم کیا اور کچن کی شلف سے روٹی کے ڈبے کا ڈھکن گر پڑا جس پہ حلیمہ پریشان ہوگٸ۔ میں نے صحن کی کھڑکی سے کچن میں دیکھا تو حلیمہ رات والی روٹیاں گن رہی تھی۔ ایک میری اماں کی ۔ ایک بڑی بہن کی ایک چھوٹی بہن کی آدھی میری۔
یہ دیکھتے ہی میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔ حلیمہ نے روٹیاں گن کہ واپس وہی ڈبے میں رکھ دی۔ اور ڈراٸنگ روم میں پڑے صوفے سیدھے کرنے لگی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے حلیمہ آنٹی کے کمرے سے باہر آنے کا انتظار ہو۔ مگر آنٹی نہیں آٸی 1 بج چکا تھا تپتی دھوپ سر پہ تھی حلیمہ نے گیراج سے اخبار کا آدھا حصہ پھاڑا اور کچن میں چلی آٸی میں ابھی تک حلیمہ کی حرکتیں نوٹ کررہی تھی جس کی شاید حلیمہ کو خبر نہیں تھی۔
حلیمہ نے جلدی سے روٹیاں اخبار میں لپیٹی اور فوراً گیراج میں رکھ آٸی۔ واپس آٸی تو آنٹی سے کہا کہ باجی کوٸی اور کام ہے تو بتادیں ورنہ میں جاو۔ آنٹی نے حلیمہ سے کہا کہ ایک منٹ رکوں رات کی کچھ روٹیاں بچ گٸ تھی جس میں سے دو صبح ناشتے میں ہم نے کھا لی ہے باقی کی تم لے جاو اور یہ چاول بھی لے جانا اپنی اماں کے لیے۔ آنٹی نے روٹی والے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا حلیمہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا کیونکہ وہ روٹی تو حلیمہ نے پہلے ہی چوری کرلی تھی۔
آنٹی نے پوچھا کہ کیا ہوا تمہاری طبعیت ٹھیک ہے حلیمہ نے کہا جی ٹھیک ہے۔ آنٹی نے حلیمہ کو جانے کا کہا اور خود کمرے میں چلی گٸ۔ حلیمہ نے چاول والا ڈبہ اٹھایا اور روٹی گیراج سے اٹھاٸی اور جانے لگی۔ تو میں نے حلیمہ کو آواز دی تو وہ رک گٸ۔ میں نے کہا برا نا ماننا میں پوچھ کہ شرمندا نہیں کرنا چاہتی مگر تم آٸیندا چوری نہ کرنا روٹی مانگ لینا۔
اس نے اداس بھرلے لہجے میں کہا کہ آپی ہم جیسے غریبوں کی قسمت میں رات کی روٹی بھی مشکل سے آتی ہے مجھے ڈر تھا کہ باجی روٹی نہ دے گی تومیری اماں آج پھر دو دن سے بھوکی سوۓ گی۔ اس لیے میں نے وہ چوری کی تھی۔ میں نے کہا کہ تم بے فکر ہوکے جاو اور یہ لو راستے سے تازہ روٹی لیتی جانا اور اپنی اماں سے یہاں کے واقعہ کے بارے میں کچھ نہ بتانا۔

حلیمہ چلی گٸ مگر مجھے بہت گہرا سبق دے گٸ کہ ہم لوگ بہت ناشکرے ہیں تین وقت کا تازہ کھانا ملتا ہے ہزاروں نکھرے کرتے ہیں۔ جن کو ایک وقت کا بھی میسر نہ ہو وہ پھر بھی الحمداللہ پڑھتے ہیں۔ اور اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کو بنا کہے کھانا دیا کریں۔ اللہ پاک جزاۓ خیر عطا کرے آمین۔

اگر بھوک مٹانے کیلیے کوئی شخص روٹی چوری
کرتا ہے تو ہاتھ چور کے نہی بادشاہ کے کاٹے جائیں
حضرت علی(علی المرتضی)

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے