Home / کالم / میں کہ تاریخ کا طالب علم :

میں کہ تاریخ کا طالب علم :

, تحریر
.ابوبکرقدوسی
کبھی کبھی سوچتا تھا کہ جب غرناطہ میں خون مسلم ارزاں ہو چلا تھا ، تب ترکی میں عثمانی اوج ثریا پر تھے ، ہندستان میں مسلمان ناقابل شکست سلطنت قائم کر چکے تھے — ایسا عروج کمال کا عروج اور طاقت —–
میں بہت جذباتی ہوا کرتا تھا ، گھنٹوں خواب بنتا ، دل چاہتا کہ وقت واپس آ جائے ، اور کوئی اندلس کو نکل جائے – کوئی عالم گیر ، کوئی ابرہیم لودھی ، کوئی شاہ جہاں تاج محل کو ادھورا چھوڑ کے ، باقی کی رقم سے توپ و تفنگ خریدے اور الحمراء کو بچا لے – دریایے کبیر کے کنارے اترے اور وادیوں میں نکلے ، بکھرے مجاہدین کو صدا دے ….کہ آؤ کہ ہم پار پردیس سے ، سات سمندر پار سے تمھارے بھائی چلے آئے ہیں –
پھر سوچتا کہ وہ کون سا ایسا رسل ، رسائل کا زمانہ تھا کہ بھائی کو بھائی کی خبر ہوتی – بزدلی اور بے حمیتی کو کچھ تو بہانے چاہیے ہوتے ہیں نا –
اور پھر اجداد کی عزت کا معامله تھا – لیکن سوچتا بہت تھا –
میں کہ تاریخ کا طالب علم تھا –
پھر تکریت ، فلوجہ ، بغداد اجڑے – ازابیلا اور فرڈی نینڈ کی روح جارج بش کی شکل میں دوبارہ زمین پر اتر آئی –
میں چپ چاپ دیکھتا رہا
کہ میں تاریخ کو ٹک ٹک دیکھ رہا تھا – کبھی فلوجہ کا دھواں اور کبھی پس منظر کو پیش منظر میں بدلتا ، غرناطہ کا لہو …..
پھر حلب ، دمشق ، موصل ، اور اب غوطہ ……..
مجھے سب بھول گیا ، ہاں سب بھول گیا کہ میرے من میں کیا کیا شکوے عثمانیوں اور مغل ، لودھی ، افغانی حکمرانوں سے جو پیدا ہوتے تھے ، میں حیران حیران سا سوچتا رہتا کہ یہ سب اندلس کیوں نہ گئے ، وہاں اپنے بھائیوں کی مدد کیوں نہ کی ، امت کیوں لاچار اجڑ گئی –
ہاں سب شکوے بھول گئے –
میں اب تاریخ کا طالب علم نہیں تھا ….. اب میں تاریخ بنا رہا تھا ، اب میں تاریخ کا حصہ تھا — اس تاریخ کا جس تاریخ میں ایک ایک جلتے بدن کی کہانی تصویر بن کے روز میرے کمپیوٹر پر آ موجود ہوتی –
جلتے گھر ، اجڑتے محلے ، مرتے بچے ، سسکتی مامتا ، بے بس موت مرتی جوانی ، بھوک سے بلکتی معصوم ادائیں ، تاراج ہوتی مقدس قبائیں ، لہو روتی لاچار مائیں – رزو مجھے دکھتی اور میں خاموشی سے منہ موڑ لیتا –
ہاں میں ابوبکر قدوسی کہ کبھی تاریخ کا طالب علم تھا ، اب خود تاریخ تھا ، کہ جس نے بغداد کا سقوط دیکھا ، نوحہ پڑھا ، کچھ آنسو بہے اور پھر اپنی زندگی میں کھو گیا ، اور تاریخ ہو گیا –
مجھے سمجھ آ گئی کہ اندلس کیوں برباد ہوا – کوئی اس کی مدد کو کیوں نہ پہنچا –
مجھے اپنے سوال کا جواب مل چکا تھا –

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے