Home / کالم / عہدِانقلاب کے مٹتے آثار

عہدِانقلاب کے مٹتے آثار

انتخاب
خورشید ندیم
📕📕📕📕
دو شخصیات ایک ساتھ رخصت ہوئیں۔ڈاکٹر لال خان اور حفیظ الرحمٰن احسن۔ایک نے سرخ انقلاب کے لیے زندگی کو وقف کیے رکھا اور دوسرے نے سبزانقلاب کے لیے۔دونوں نے خواب دیکھااور تعبیر کی حسرت لیے زمین میں اتر گئے۔یہ حضرات اُس نظریاتی کشمکش کی آخری نشانیوں میں سے تھے، جو کئی سال پہلے ہی تاریخی حوالہ بن چکی۔یہ ان نظریات کے آثار میں تھے جولگتا ہے کہ تیزی کے ساتھ مٹتے جا رہے ہیں۔
برادرم ذیشان حسین نے پہلی مرتبہ مجھے ڈاکٹر لال خان سے ملوایا۔وہ ایک نجی ٹی وی کے اُس پروگرام کے پروڈیوسر تھے،میں جس کا میزبان تھا۔ذیشان ایک پڑھے لکھے، خوش اطواروخوش ذوق نوجوان ہیں جوآج بھی سرخ انقلاب کے رومان میں جیتے ہیں۔ٹی وی چینل کا یہ پروگرام علمی ونظریاتی مباحث کے لیے خاص تھا۔ذیشان کی کوشش ہو تی تھی کہ وہ علمی دنیا کی ممتاز ترین شخصیات کو تلاش کریں جو اپنے اپنے نظریات کی گہری بصیرت رکھتی ہوں۔اپنے علمی ذوق کی وجہ سے وہ ڈاکٹر لال خان ہی نہیں،محترم احمد جاوید صاحب سے بھی بہت قریب تھے اور ہیں جو سر تا پا ایک مذہبی شخصیت ہیں۔
ڈاکٹر لال خان اکثر میرے پروگراموں میں شریک ہوتے اور اشتراکی بصیرت کے ساتھ عصری مسائل پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے۔بلا کا حافظہ تھا۔مارکس اور لینن جیسے اشتراکی قائدین کی طویل تحریرں اورتقریرں،انہیں ازبر تھیں۔روانی سے سنا تے۔اپنے نظریات پر کسی مفاہمت کے قائل نہیں تھے۔اشتراکیت کے خلاف کوئی بات،کبھی کبھی احساس ہوتا کہ دلیل کو بھی قبول نہ کرتے۔آخری دم تک اسی رومان میں جیے۔
سوویت یونین کا خاتمہ، ان کے خیال میں اشتراکیت کا خاتمہ نہیں تھا۔وہ اس تجربے کو اصل اشتراکی نظریات سے الگ کر کے دیکھتے۔چین میں آنے والی اصلاحات ان کے نزدیک اشتراکی نظریات سے انحراف تھا۔ان کا تجزیہ تھا کہ چین نے سرمایہ دارانہ معیشت کو اپنا لیا ہے اور اس کے فطری نتیجے کے طور پر،وہاں ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے اوردوسری طرف ایک مراعات یافتہ طبقہ وجود میں آ رہا ہے۔وہ ان اصلاحات کے شدید ناقد رہے۔”دنیا“ کے کالموں میں بھی انہوں نے بارہااپنا یہ نقطہ نظر صراحت کے ساتھ بیان کیا۔
اشتراکی تصورِ تاریخ کے تحت انہوں نے پاکستان کی تاریخ بھی لکھی۔وہ 1969 ء کے ’سماجی انقلاب‘ کو ملک کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑسمجھتے تھے جس کے نتیجے میں سیاست نے بھی ایک نیا رخ اختیار کیا۔پیپلزپارٹی کا قیام بھی اسی سماجی تبدیلی کا ایک مظہر تھا۔اسی وجہ سے پیپلزپارٹی بھی ان کے رومان میں شامل تھی۔وہ ان لوگوں میں سے جن کی یہ خواہش رہی کہ پیپلزپارٹی بائیں بازو کے نظریات کی علم بر دار بن کر کھڑی رہے۔ ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔
حفیظ الرحمٰن احسن اس نظریاتی کشمکش میں،لکیرکی دوسری طرف کھڑے تھے۔وہ جماعت اسلامی میں تھے۔جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی فکری قیادت میں اشتراکی خیالات کے خلاف جو معرکہ لڑا،وہ دنیا کی نظری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔عام تاثر یہی ہے کہ جماعت اس معرکے میں سرخرو رہی۔اشترکیت کے خلاف جماعت کی جد وجہد ہمہ جہتی تھی۔اس کا ایک محاذ ادب بھی تھا۔
اشتراکیت نے ادب ہی کے راستے برصغیر کے سماج میں راستہ نکالا۔ترقی پسند تحریک اس کا ہراول دستہ رہی۔اس میں شبہ نہیں کہ اشتراکیت ادب کے میدان میں فاتح ٹھہری۔نظم و نثر میں جیسے لوگ اس تحریک نے پیدا کیے، برصغیر کی ادبی تاریخ میں ان کی مثال تلاش کر نا مشکل ہے۔علامہ اقبال اپنے پورے قدکاٹھ کے ساتھ کھڑے تھے لیکن وہ اس معرکہ آرائی سے پہلے دنیا سے اٹھ چکے تھے۔ترقی پسند تحریک نے، فیض صاحب کی شہادت کے مطابق اقبال کو منہدم کرنے کی مہم شروع کی جس نے خود فیض صاحب کو اس تحریک سے دور کردیا۔جو اس کا مہم کا حصہ نہ تھے،انہوں نے کوشش کی کہ اقبال کو بھی مارکسسٹ بناکر پیش کریں۔
اشتراکیت کے خلاف جماعت اسلامی،جوہمہ جہتی جنگ لڑ رہی تھے، ادب کے محاذ پر پسپائی کا شکار تھی۔ایک صاحبِ طرز انشاپرداز ہونے کے باوجود، مولانا مودودی کی شہرت ایک عالمِ دین اور سیاست دان کی تھی۔جماعت اسلامی نے جب ادبی محاذکوگرم کرنے کا فیصلہ کیا تواس کی قیادت نعیم صدیقی مرحوم کو سونپی گئی۔انہوں نے ادبی لشکریوں کی جو صف مرتب کی،حفیظ الرحمٰن احسن ان میں نمایاں تر تھے۔نعیم صدیقی صاحب کے رسالے”سیارہ“ کے وہ مدیر رہے اورادب کے محاذپر پوری جاں فشانی کے ساتھ نظریاتی جنگ لڑی۔
یہ اتفاق ہے کہ ان کا نظریاتی خواب بھی اسی انجام سے دوچارہوا،جو ڈاکٹر لال خان کے خواب کا ہوا۔ڈاکٹر صاحب پیپلزپارٹی سے مایوس ہوئے اور اسے اشتراکی خیالات سے منحرف قرار دیا۔اسی طرح احسن صاحب جماعت اسلامی سے مایوس ہوئے اور اسے مو لانا مودودی کے افکار سے منحرف سمجھا۔وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے جماعت سے الگ ہوکر’تحریک اسلامی‘ کے نام سے ایک الگ جماعت بنائی جو ان کے خیال میں مولانا مودودی کے افکار کی سچی پیرو کار اور اسلامی انقلاب کی داعی تھی۔
پاکستان میں نظریاتی لوگ اکثرایک جیسے انجام سے دوچار ہوئے۔بائیں بازو کے جو لوگ پیپلزپارٹی سے مایوس ہوئے اور انہوں نے اپنے تئیں نئی ’نظریاتی‘ پیپلزپارٹی بنانے کی کوشش کی،وہ عوام کو متوجہ کرنے میں ناکام ہوئے۔اس ضمن میں حنیف رامے سے لے کر معراج محمد خان تک، کئی افراد کے نام لیے جا سکتے ہیں۔اسی طرح جنہوں نے
جماعت اسلامی نے الگ ہوکر‘نظریاتی‘جماعت اسلامی بنانا چاہی،ان کا انجام بھی یہی ہوا۔ان میں ڈاکٹراسراراحمد مرحوم سے لے کر،نعیم صدیقی جیسے کئی حضرات کا ذکر کیاجا سکتا ہے۔
اشتراکی انقلاب اوراسلامی انقلاب کے علم بردار کیوں ناکام ہوئے؟یہ سوال دنیا میں تو زیر بحث آیا مگر ہمارے ہاں اس پر کوئی بامعنی علمی مشق نہیں ہو سکی۔نظریاتی لوگوں کو اپنی سیاسی بقا کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں میں پناہ لینا پڑی۔قمرالزماں کائرہ اور چوہدری منظور صاحب جیسے ’اشتراکی‘ جانتے ہیں کہ انہیں سیاسی طور پر زندہ رہنا ہے تو پیپلزپارٹی ہی میں رہنا ہے۔معراج محمد خان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل بن گئے تھے۔اسی طرح احسن اقبال،صدیق الفاروق اور جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ کا سہاراتلاش کر لیا۔
میری طالب علمانہ رائے میں یہ نظریاتی کشمکش اب قصہ پارینہ ہے۔سرمایہ دارانہ نظام نے عملی میدان میں اشتراکیت کو فیصلہ کن شکست دے دی۔اسلامی انقلاب والے تو دنیا کو کوئی متبادل پیش ہی نہیں کر سکے۔ایران سے سوڈان اور افغانستان سے ترکی تک، انہیں اقتدار ملا لیکن وہ بھی سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی توڑ نہ دے سکے۔انہوں نے سرمایہ داری کو اپنا لیا پھر پاپائیت کو اختیارکر لیا۔مجھے اندیشہ ہے کہ ان پامال راستوں پر چلنے والوں کی کوئی منزل نہیں۔
زندگی،تاہم صرف نظریات کا نہیں، کردار کا بھی نام ہے۔ڈاکٹر لال خان اورحفیظ الرحمٰن احسن جیسے لوگ اپنے کردار کی اس قوت کی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے کہ انہوں نے تادمِ آخر اپنے نظریات سے رشتہ نبہایا۔انہوں نے کسی شخصی مفاد کو اپنی منزل نہیں بنایا اوریوں ایک برتر اخلاقی جگہ پر کھڑے رہے۔ایسے لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں جو دوسروں کی بہتری کے لیے خواب دیکھتے ہیں۔یہ زمین کا نمک ہیں۔عالمِ انسانیت کوآج جو المیہ درپیش ہے،وہ علم کا کم اوراخلاق کا زیادہ ہے۔معاشروں کو زندہ رہنے کے لیے علمی قوت کے ساتھ اخلاقی قوت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارا المیہ علمی بھی ہے اور اخلاقی بھی۔جب ہماری صفوں سے کوئی صاحبِ علم اٹھتا ہے تو اس کا متبادل تلاش کر نے کے لیے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑاتے ہیں۔اکثر یہ نگاہ ناکام لوٹ آتی ہے۔یہی معاملہ صاحبانِ کردار کا بھی ہے۔ڈاکٹر لال خان جیسے لوگ بائیں طرف کم ہوتے جا رہے ہیں اور حفیظ الرحمٰن احسن جیسے لوگ دائیں طرف۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں اپنی مغفرت سے نوازے اور دنیا میں وہ معاشرہ وجود میں آئے جس کا دونوں نے خواب دیکھاتھا۔دونوں کا خواب اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک تھا:ایک خوش حال معاشرہ جس میں کوئی محروم نہ ہو۔جس میں کوئی زکوۃ کا مستحق نہ ہو۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے