Home / کالم / کیا یہ آزادی ہے؟

کیا یہ آزادی ہے؟

ازقلم⁦🖋️⁩
حافظ بلال بشیر
🌼🌼🌼🌼🌼

چند دن پہلے میرے دو دوست طارق روڈ کراچی پر کسی کام سے جا رہے تھے کہ ان کے سامنے اچانک ایک واقعہ پیش آیا دونوں چونک گئے، اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور میرے ساتھ واقعہ شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم دونوں پیدل ایک کام سے جا رہے تھے ہمارے آگے ایک باحجاب خاتون چلی جا رہی تھی اس کے فون پر کوئی فون آیا یا پھر اس نے خود کال کرنے کے لیے اپنا موبائل نکالا اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر ابھی فون سیدھا بھی نہیں کیا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک لڑکی آئی جس نے جوگر شوز پہنے ہوئے تھے اور جینز پینٹ شرٹ زیب تن تھی جٹ سے با حجاب خاتون سے فون چھین کر فرار ہو گئ اور با حجاب خاتون جو کہ برقعے میں تھی اس سے کہاں اتنی سپیڈ سے دوڑا جا سکتا تھا وہ بیچاری مدد کے لیے اپنے آس پاس کے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا لیکن کوئی مرد مدد کےلئے اس لیے نہیں آگے بڑھا کہ موبائل فون چھیننے والی بھی خاتون تھی اگر کوئی مرد اس کے پیچھے دوڑ لگا کر اس کو پکڑ لیتا نہ جانے وہ اس پر کیا الزامات لگا دیتی ۔ جب سے یہ واقعہ سنا تو میں اس سوچ میں پڑھ گیا کہ کیا یہ آزادی ہے ؟ یا کہیں پر تربیت کی کمی ہے۔ یقیناً دونوں چیزیں ہیں اگر اس لڑکی کی ایسے گھرانے میں تربیت ہوتی جہاں پر اس کو سکھایا جاتا کہ دوسرے کا ناحق مال دبانا ایک بہت بڑا جرم اور کبیرہ گناہ ہے۔ اور ایسے شخص کے بارے میں اللّٰہ پاک کے نبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
     ((مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِؤٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔))
ترجمہ:جو کسی مسلمان کا مال نا حق ہتھیائے گا وہ اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔
       یہاں میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یقیناً بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ اور قوم وجود میں آتی ہے، اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش کالحجر ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبلوغت کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوںگے جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔ نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔ لفظِ ’’تربیت‘‘ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔ تربیت ِ اولاد بھی اُنہیں اقسام میں سے ایک اہم قسم اور شاخ ہے۔ آسان الفاظ میں ’’تربیت‘‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ:’’ برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ،پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ’’تربیت‘‘ ہے۔ ‘‘ تربیت کی دو قسمیں: تربیت دو قسم کی ہوتی ہے: ۱:…ظاہری تربیت،۲:…باطنی تربیت ۔ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش وغیرہ کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد اُن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔ اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اُن کی ضروریات کی کفالت پر اُنہیں اُبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب بڑھتے ہیں کہ آزادی کیا ہے آزادی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ قوم کے افراد اپنے افکار،نظریات اور فلسفے کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔قوموں کے افکار اور نظریات صدیوں کے سفر کے بعد متعین ہوتے ہیں۔یہی افکار ان کے تہذیبی ورثے کی بھی آئینہ داری کرتے ہیں۔آزادی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ افراد اپنے اس تہذیبی ورثے کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس کے ارتقاء میں معاون ہوں اور ان مزاہم قوتوں کا بھی قلع قمع کریں جو اس ورثے کوتباہ کرنے پر آمادہ ہوں۔آزادی بالعموم تاریخی،سماجی،معاشی اور تہذیبی عوامل کے تحفظ اور بقا کا نام ہوتی ہے۔ اور یہ آزادی نہیں ہوتی ہے جس میں نہ تو لباس اپنے افکار و ثقافت کے مطابق ہو نہ وضع و قطع۔ میں اپنی اس تحریر کے ذریعے تمام والدین سے مخاطب ہو کر کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنے بچوں کی تربیت اور آزادی کی فکر اپنی افکارِ و ثقافت، نظریات، اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کریں آپ کا بچہ قوم کا بچہ ہے اور قوم کا ورثہ ہے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے