Home / کالم / گاندھی جی اور مذہب,,دوم

گاندھی جی اور مذہب,,دوم

تحقیق
عبدالغنی محمدی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کائنات قوانین سے چلتی ہے ؟
خدا براہ راست اس کائنات میں دخل دیتاہے یا اس نے قوانین بنادیے اور انہی کےمطابق یہ کائنات چل رہی ہے ۔ مسلم علم کلام میں یہ بہت اہم بحث رہی ہے ۔ مسلمانوں میں بھی اس حوالے سے مختلف مکاتب رہے ہیں جو کائنات کو چلانے کے حوالے سے مختلف نظریات کے قائل ہیں ۔ بعض نے تویہاں تک تشدد اور تعمق اختیار کیا کہ چھوٹی سے چھوٹی جزئیات میں بھی خدا کو لے آئے جبکہ بعض کے ہاں خدا اصول بناتاہے اور جزئیات انہی کے مطابق تشکیل پاتی ہیں ۔ گاندھی جی اپنے ملک کے مندروں کے مشاہدے پر کہتے ہیں کہ اگر کسی کو خدا کے بے حساب عفو اور رحم کی شان دیکھنا ہو تو ان مقدس مقامات کو دیکھے ۔ یہ جوگیوں کا داتا لوگوں کو اپنے نام سے کیسی کیسی ریاکاری اور بے دینی کرتے دیکھتا ہے اور درگزر کرتاہے ۔ اس نے مدت ہوئی ہمیں بتا دیا ہے کہ جیسا کرنا ویسا بھرنا ۔ ” کرم ” کے اٹل قانون سے کسی کو مضر نہیں ۔ پھر خدا کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس نے تو قانون بنا کر گویا دنیا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔
کائنات میں جاری و ساری قوانین پر کسی کی حکومت ہے کہ نہیں ؟ موجودہ دور کا انسان سمجھتا ہے کہ ہمارے پاس اس چیز کے شواہد نہیں کہ وہ قوانین کسی خاص ذات کے تخلیق کردہ ہیں اس لئے وہ اس کے انکاریا اثبات میں سے کسی پوزیشن پر نہیں ہے ۔مذاہب کے پیر و کار موجودہ دور کے انسان کی اس پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر اس کو مذہب کے سایہ میں لا سکتے ہیں جس کا ذہن بالکل کورا ہے ۔
توہم پرستی :
گاندھی جی سانپوں اور زہریلی چیزوں کو بھی مارنے کے حق میں نہیں تھے ۔ کئی مواقع پر بے آباد جگہوں کی آباد کاری میں وہ ایسی چیزوں کو نہیں مارتے تھے اس کو توہم کہیں یا کچھ بھی لیکن ان کے مطابق ان چیزوں نے ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا ۔ میری چشم عقیدت کوا س میں رحمن رحیم کی کارسازی نظرآ تی ہے ۔ کوئی اس کو ضعیف الاعتقادی سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے ، کوئی اگر کہتاہے کہ خدا کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے تو کہتارہے لیکن میرا تجربہ تو یہی کہتاہے ۔ گاندھی جی جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں ایسی سو چ اور فکر عام ہونے جارہی ہے جو ان چیزوں کو توہم اور فضول سمجھتی ہے وہ ان خیالات سے واقف ہیں اور اسی کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے تجربات تو میرے عقائد و نظریات کی تائید کرتے ہیں ۔
گاندھی کو کئی مرتبہ اپنے ذاتی ، اپنی بیوی یا بچے کے علاج میں ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ دودھ ، یخنی یا گوشت کے استعمال کی ڈاکٹر کی طرف سے سخت تاکید کی جاتی ہے لیکن گاندھی جی اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں ۔ موت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان چیزوں نہیں اپناتےہیں ۔
پانی کا علاج ، مٹی کا علاج اور گھریلو ٹوٹکوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے خود ہی علاج کرتے ہیں ۔ باوجودیکہ مذہبی رہنما گوشت کے استعمال کی بوقت ضرورت یا بیماری اجازت دیتے ہیں لیکن گاندھی ان کی نہیں مانتے ہیں ۔ گاندھی ڈاکٹری علاج پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔ میرا عقید ہ ہے کہ انسان کو دواؤں کے استعما ل کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے محض غذا میں احتیاط کرنے ، مٹی پانی کے علاج اوراسی قسم کے گھریلو چٹکلوں سے اچھے ہوسکتے ہیں ۔
گاندھی جی کی یہ سوچ اس لحاظ سے یقینا اہم ہے کہ روایتی علاجوں سے جس قدر فائدہ ہوسکتا اسے ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اسی طرح ہر معاملے میں ڈاکٹروں پر انحصار کرنے کی بجائے گھر میں معمولی علاج اور دواد ارو ہوناچاہیے ۔ لیکن جدید علاج کو اس قدر نظر انداز کردینا اور خالصتا توہم کے انداز میں ان کے بارے سوچناعجیب سا بھی لگتاہے ۔ شاید کچھ چیزوں کے بارے تہذیب بھی آڑے آجاتی ہے کہ گاندھی جی اپنے تہذیبی ورثے کو شدت سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں ۔ اکثر اوقات تو انگریزوں کو دل سے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن بعض جگہ وطن اور دھرم کی محبت ان کے آڑے آجاتی ہے ۔ میرے خیال میں اس میں بھی اصل دخل میلان طبع کو ہے ۔ جدید طرز علاج نے اب تو اپنی افادیت کو ہر ایک کے ہاں تسلیم کروالیا ہے لیکن ہر نئی چیز کو شک اور توہم کے انداز میں دیکھنے کی عادت یقینا قابل غور ہے ۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے