Home / کالم / گاندھی جی اور مذہب : اول

گاندھی جی اور مذہب : اول

ترتیب ؤ تحقیق
عبدالغنی محمدی
💐💐💐💐💐
اس سلسلے کی دو اہم قسطیں جن میں گاندھی صاحب کے مذہبی تصورات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے ۔
گاندھی ایک خدا کو مانتے ہیں ، ہندو مختلف بتوں کو پوجتے ہیں لیکن اس میں بھی مظاہر قدرت جن میں خدا نظر آتاہے کی عبادت کرتے ہیں ۔ اصل میں ان کے ہاں ساری کائنات کی اصل ایک ہی ذات ہے ۔ خدا کے حوالے سے گاندھی جی اپنے عقیدے کو واضح کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ سمندر میں سفر کرتے ہوئے طوفان آجاتا ہے ، اس کیفیت کونقل کرتے ہیں کہ ہندو ، مسلمان ، عیسائی سب کے سب آپس کے اختلافات بھول گئے تھے اور اس خدائے واحد کو جو سب کا معبو د ہے یاد کررہے تھے ۔
حق وہ روح کلی ہے جو ساری کائنات میں جاوی و ساری ہے انسان اس کے جلوے کی تاب تبھی لاسکتا ہے جب وہ ادنی مخلوق کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہو ۔ ہندو چونکہ مظاہر میں ذات حق کو دیکھتے ہیں ، کسانوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے کہتے ہیں مجھے ان کے ساتھ خدا کا نور ، اہمسا اور حق کا جلوہ نظر آیا ۔گاندھی جی کے مذہبی خیالات میں انسانیت کی خدمت کو سب سےبنیادی اہمیت حاصل ہے ۔
ان کو عیسائیت متاثر کرتی ہے وہ یہودیت سے بالکل متاثر نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس کو اپنے مذہب سےمتضاد سمجھتے ہیں ،یہودیت میں اسلام کی مانند ہی خالص توحید پائی جاتی ہے اس لئے ان کے مذہبی خیالات اس مذہب کے ساتھ مطابقت نہیں پیدا کرسکتے ہیں ۔
گاندھی جی کا زمانہ وہ ہے جس میں ہندوستان میں عیسائیت کے مشنز کام کرتے تھے ، اور وہ تعصب اور تشدد سے کام لیتے ہیں اس لئے یہ ان کو دل وجان سے برا سمجھتے ہیں ۔ لیکن انگلستان میں عیسائیت کے مطالعہ اور مختلف عیسائی پادریوں اور مذہبی لوگوں کے ساتھ میل جول سے یہ عیسائیت سے آشناہوتے ہیں ، ان کوعیسائیت کی اخلاقیات اور رہبانیت پسندی وسادگی بہت بھاتی ہے ۔ دراصل عیسائیت میں یہ چیزیں ان کے اپنے فلسفہ زندگی اور ہندو ازم سے قریب نظر آتی ہیں تو اس طرح وہ عیسائیت کو اس لحاظ سے اچھا جاننے لگتے ہیں ۔ لیکن عیسائیت کا عقیدہ کفارہ ان کو حیرت میں ڈالتا ہے جس میں ماننے والے اپنے نبی پر اپنے گناہوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں ، اسی طرح خدا کا بیٹا ایک خاص قوم میں ہونا اور انہی کی بخشش کا ذریعہ ہونا ان کے لئے قابل قبول نہیں ۔ جب خدا سب کا ہے تو بخشش صرف ایک قوم کے لئے کیوں ؟ ساری انسانیت کے لئے یہ رحمت کیوں نہیں ۔
گاندھی جی کہتے ہیں کہ میں گناہ کے عذاب سے نجات نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو خود گناہ سے بلکہ اس کے خیال سے نجات کی جستجو ہے ۔آریائی مذاہب ہندو مت ، جین مت ، بدھ مت ان تمام میں یہ خیالات مشترک ہیں ، یہ روح کے چھٹکارے کےلئے محنت کرتے ہیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک گناہوں سے بالکل پیچھا نہ چھڑا لیا جائے ، کیونکہ گناہ سے روح ملوث ہوجاتی ہے اور چھٹکارہ نہیں حاصل کرپاتی ۔
ہندو مذہب کے بارے گاندھی جی کہتے ہیں ،ہندو دھر میں جتنی دقت نظر ، نزاکت خیال ، روحانی بلندپروازی اور کشادہ دلی ہے کسی مذہب میں نہیں ۔ہندو مذہب ایک فلسفی مذہب رہاہے ، ہندوستان کی فلاسفی قدیم شہرت رکھتی ہے انہی فلسفیانہ خیالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ ہندومذہب کے بارے یہ کہتے ہیں ۔ ہندو مذہب اس حوالے سے یقینا بہت کشادہ دل ہے کہ اس سے بہت سے مذاہب نے جنم لیا لیکن اس نے کسی کو بھی اپنے سے باہر نہیں کیا بلکہ سب کو ہندو ازم کا حصہ ہی سمجھا ۔ بدھ مت ، جین مت ، یا سکھوں کے جس قدر بڑے گزرے ہیں ان کو ہندو بھی بڑ ا سمجھتے ہیں ۔ اصل میں تو حیدی مذاہب سے قبل دنیا میں موجود مذاہب خود کو حق کہنے کے ساتھ دیگر کو باطل کہنا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، اور ہندوا زم بھی انہی مذاہب میں سے ہے ۔
گاندھی مسلمانوں کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں ،تورات کے مطالعے سے ان کو نیند آنے لگتی ہے ، انجیل ان کو متاثر کرتی ہے ،اس میں اخلاقیات اور رحمدلی کا ذکر ملتاہے حضرت عیسی کا پہاڑی کا وعظ وہ بہت پسند کرتے ہیں ۔
حضرت عیسی اور گوتم بدھ کا تقابل کرتے ہوئے کہتے ہیں ، گوتم بدھ کے دل میں اوروں کا کتنا دردر تھا ان کی ہمدردی انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ ساری مخلوق کو محیط تھی ۔ یعنی جانورو ں اور دیگر مخلوقات کے حوالے سے ہندو تصورات کا تقابل کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے ہاں ان کو کھانے کی اجازت نہیں ۔
گاندھی جی کے مطابق مذہب اور اخلاقیات دو الگ چیزیں نہیں ہیں ، بلکہ جو مذہب اخلاقیات نہ سکھائے وہ مذہب نہیں ہے مذہب کا وظیفہ ہی اخلاقیات سکھانا ہے ۔ حسن اخلاق ستیا گری کی جان ہے ۔ حسن اخلاق سے مراد محض ظاہری شیریں کلامی نہیں بلکہ باطنی شیریں مزاجی اور اپنے مخالفوں کی دلی خیر خواہی ہے ۔ مذہب سے ہٹ کر بھی اخلاقیات ہوسکتی ہیں کہ نہیں یہ آج کی دنیا کی بڑی بحثوں میں سے ہے ، یورپ آج مذہب کومعاشرتی زندگی سے جد ا بھی کردے لیکن اس کی اخلاقیات مذہب سے ہی پھوٹی ہیں ، یہ عیسائیت سے اخذکردہ اخلاقیات ہیں۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ آج کی دنیا میں اخلاقیات کی مسلمہ اقدار وہی ہیں جو مذہب نے متعارف کروائی تھیں ، اچھائی اور برائی کے حوالے سے مذہبی اقدار میں تبدیلی کی بہت بات کی جاتی ہے اور انسانی معاشروں میں کافی تبدیلی آچکی ہے لیکن اخلاقیات کا سوطہ مذہب ہی ہے جس کی بنیادوں سے انسانیت آج بھی ہٹ نہیں سکی ۔
گاندھی مذہب اور سیاست میں تفریق کے قائل نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ حق کی جستجو ہی مجھے سیاست میں کھینچ لائی ۔ میری ناچیز رائے میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ مذہب کے مفہوم کو ناآشنا ہیں ۔ لیکن یہاں پر گاندھی کے ذہن میں مذہب کا خاص مفہوم انسانیت کی خدمت ہے اور سیاست بھی اسی کو کہتے ہیں ۔ میرے خیال میں سیکولر حکومت ہونی چاہیے یا مذہبی اور ہندو سٹیٹ ؟ گاندھی اس مقام پر اس سوال کو ایڈریس نہیں کررہے ۔
ہمارے صوفیاء کی مانندہندوؤں میں ضبط نفس ، خواہش کو دبانا اور روحانیت کو حاصل کرنا ، ذات حق سے جا ملنا ایسی چیزیں ہی اصل مذہب ہیں ۔ گاندھی جی کی تمام مذہبی زندگی انہی چیزوں کے گرد گھومتی ہے ۔ وہ سادہ خوراک کھاتے ہیں اور خواہشوں کو دباتے ہیں ، آسائش نہیں اختیار کرتے ہیں ، بیوی سے دور رہتے ہیں ا ن کا مقصود ضبط نفس اور روح کا جسم پر غلبہ اور روح کی صفائی ہے تا کہ وہ نجات پاسکے ۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے