Home / کالم / قوم پرستی

قوم پرستی

ازقلم🖋
سید خالد جامعی صاحب دامت برکاتہم
ــــــــــــــ

قومی ریاست کا اصل مقصد صرف اپنی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں، اس کی دوستی دشمنی صرف اور صرف اپنے مفادات کے تابع ہوتی ہے، قومی ریاست کا ترقی کےلئے صرف ایک اصول ہے کہ *اس کا کوئی اصول نہیں* قومی ترقی Tax اور قرضے کے بغیر ممکن نہیں، دنیا میں ترقی کا کوئی ماڈل قرضے کے بغیر کام ہی نہیں کرتا۔
ــــــــــــ
امریکہ نے سعودی صحافی کے قتل پر سعودی عرب کو دھمکی دی تو جواب ملا امریکہ نے پابندیاں لگائیں تو ایران سے دوستی کر لیں گے، روسی فوج کو ملکی حفاظت کی دعوت دیں گے، چینی کرنسی میں تیل فروخت کریں گے (سعودی عرب 16 اکتوبر جنگ کراچی) ٹرمپ کے ساتھ ناچنے والے سعودی حکمران شاہ اور ولی عہد جو ایران سے بات چیت کےلئے تیار نہ تھے، اب ایران سے دوستی کےلئے تیار ہیں، یہ رویہ جدیدیت کا پیدا کردہ قومی رویہ ہے مفاد بدلے تو دوست بدل دو۔
ــــــــــــ
چین نے برمی مسلمانوں پر ظلم کی حمایت کی، UNO میں برما کے خلاف قرارداد ویٹو کرنے کی دھمکی دی، پورا عالم اسلام چپ رہا، اردوان، پاکستان، پاکستانی علماء، پاکستانی مذہبی جماعتیں کسی نے چین کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا کہ CPEC سے ہمیں فائدہ تھا، ہمارا قومی مفاد یہی تھا کہ ہم چپ رہیں، یہی مذہبی قوم پرستی ہے۔
ــــــــــــ
شاہ سلمان کو ولی عہد بنانے کے بعد سعودی عرب میں علماء کے ساتھ کیا ہوا؟ اسلام کے ساتھ کیا ہوا؟ یہ عالم اسلام اور پاکستان کا موضوع نہیں کیونکہ سعودی عرب سے امداد مل رہی ہے، پانچ سال تک بغیر قیمت کے تیل مل رہا ہے تو ہمیں اس سے کیا کہ سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ ہمارے دینی رویے اور دینی فکر ہے۔
ــــــــــــ
عمران نے کہا تھا کہ IMF سے قرض لینے سے بہتر ہے کہ خود کشی کر لوں مگر اب وہ خود کشی نہیں کر رہے کہ خود کشی حرام ہے، اسد عمر کہہ رہے ہیں کہ قرضے ادا کرنے کےلئے قرضے لینے ہوں گے دنیا کے سامنے میں کشکول لے کر پھر رہا ہوں، 2 ارب ڈالر ماہانہ خسارہ ہے گیس کی قیمت نہ بڑھاتے تو کمپنیاں بند ہوجاتیں، IMF کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے، قرضے ڈالر سے اداء ہوتے ہیں وہ ہم چھاپ نہیں سکتے، IMF سے قرض لینے سے دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوتے ہیں، نجکاری کریں تو بے روزگاری بڑھے گی سرکاری ادارے کا انتظام اچھا ہوتو یہ منافع بخش ہوسکتےہیں(اسد عمر جنگ کراچی 16اکتوبر 2018)
ــــــــــــ
ہم مسلسل جدیدیت اورجدید قومی ریاست کے بارے میں عوام کو اور علمائے کرام کو آگاہ کر رہے ہیں کہ وہ جدید ریاست کی حقیقت، ماہیت، اصلیت اور حیثیت سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کی روشنی میں قوم پرستانہ سیاست ترک کرکے اصولی مباحث اختیار کریں، یورپ کا دنیا کےلئے مہلک ترین تحفہ قوم پرستی (نیشنل ازم) تھا، اس کی مہلک ترین شکل مذہبی قوم پرستی اور عالم اسلام میں مسلم قوم پرستی تھی، یعنی سب سے پہلے میری قوم،اس اصول کے تحت دنیا کا ہر مسلم ملک مشرف کی طرح یہی کہتا ہے *سب سے پہلے پاکستان* قوم پرستی کے اس مغربی اصول کے تحت ہر قومی ریاست اپنے معاشی، مالی، مادی، افادی _مفاد ترقی کو ہر شے پر مقدم رکھتی ہے، مسلم قوم پرستی نے مسلمانوں کو امت کی جامعیت سے نکال کر قومیت کے دائرے میں محدود، محصور، مقید کر دیا،لہذا اب تمام مسلم قومی ریاستوں کا کام صرف اپنی ترقی ہے،اس کے سوا انہیں کسی دوسرے کام سے کوئی تعلق نہیں ترکی، سعودی عرب، عالم اسلام کے تمام ممالک، پاکستان_ان ممالک کے حکمران، مذہبی جماعتیں، عوام،علماء سب مسلم قوم پرستی کے تحت بڑے بڑے حادثات پر خاموش ہیں، سعودی عرب میں علماء پر کیا گزری ہے، اسلام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، چین، برما میں اور چین میں مسلمانوں پر کیا ظلم کر رہا ہے یہ ہمارا مسئلہ نہیں،
قوم پرستی کے نتیجے میں ان حادثات و سانحات کی مختصر تصویر ہم نے اوپر سرخیوں میں پیش کردی ہے،ان سرخیوں کو پڑھ کر آپ جدید قومی ریاست اور ترقی کی آفتوں سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں، ان سرخیوں میں تمام مباحث، مقدمات، مسائل، معاملات، مشکلات سموئی ہوئی ہیں،صرف دیدہ بینا کی ضرورت ہے جو ان کو سمجھ سکے ـــــــ

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے