Home / کالم / بے بسی

بے بسی

تحریر
بابرالیاس
چیف ایڈیٹر قلمدان
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
عید قرباں کے موقع پر دنیا بھر میں جہاں ایک طرف آج جانور ذبح کیے جارہے ہیں، وہاں دوسری جانب برما میں روہنگیا مسلمان قربانی کے جانوروں کی طرح ذبح کیے جارہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جانور آسانی سے ذبح نہیں ہوتا، اس کے پاؤں باندھے جاتے ہیں، دسیوں لوگ رسیوں سے اسے جکڑتے ہیں، لیکن پھر بھی جب چھری پھیری جاتی ہے، تب وہ بھاگنے کی بہت کوشش کرتا ہے۔ کبھی موقع پر موجود افراد میں سے کسی کو زخمی بھی کردیتا ہے، لیکن آپ روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی کا تصور کیجیے کہ وہ بے چارے اپنی جان بچانے تک کی کوشش نہیں کررہے۔ ان کو علم ہے کہ بچنے کی کوشش کریں تو اس سے بھی بری موت مارے جائیں گے اور اس بات کا بھی یقین ہے کہ تقریبا پانچ درجن اسلامی ممالک میں سے بھی کوئ ان کی مدد کو نہیں آنے والا، سب اپنی اپنی موج مستیاں میں مگن ہیں، اس لیے بدھ دہشتگردوں کے ہاتھوں جتنی جلدی اور جتنی خاموشی سے ذبح ہوجائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی ویڈیوز دیکھ کر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان پر اس سے سیکڑوں گنا زیادہ ظلم ہورہا ہے، جتنا ہم صرف تصور کر سکتے ہیں۔ جو بدھ درندے روہنگیا مسلمانوں کو ذبح کرکے کھا سکتے ہیں، ان کے معصوم بچوں کو ذبح کر کے جانوروں کے آگے پھینک سکتے ہیں، سوچیے وہ ظلم میں مزید کہاں تک گئے ہوں گے۔ ہم تو بچپن سے یہی سنتے آئے کہ بدھ مت مذہب والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں، لیکن روہنگیا مسلمانوں پر ان کے مظالم کی ویڈیوز دیکھ کر تو لگتا ہے کہ انسانیت سے ان کا کوئ رشتہ ہے ہی نہیں۔ ان کے چہرے انسانوں کی طرح ہیں، لیکن ان کے سینوں میں بھیڑیوں کے دل ہیں اور شاید ہیں بھی بھیڑیوں کی نسل سے، تبھی تو بھیڑیوں کی طرح اندانوں کی چیر پھاڑ کررہے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں برمی فوج، پولیس، حکومت، ان کا میڈیا اور عوام سب ملوث ہیں۔ سب مل کر اجتماعی طور پر مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں، تماشا دیکھتے ہیں، تالیاں پٹتے ہیں اور ان کی لاشوں کے ٹکڑے کرکے چیلوں کو ڈالتے ہیں۔ شاید سب نے ہی درندوں کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق برمامیں بدھ دہشتگردوں نے5روز میں 100کلو میٹر پر مشتمل مسلم آبادی صفحہ ہستی سے مٹادی ہے۔ ایمنسٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 5روز میں2100دیہات مسلمانوں سمیت جلادیے گئے، 10ہزار افراد بھاگتے ہوئے مارے گئے ، 1500سے زائد خواتین عصمت دری کے بعد فوج میں تقسیم کردی گئیں،زندہ انسانوں کے اعضا کاٹ کر چیل کووے چھوڑے جارہے ہیں، ایک لاکھ 30ہزار افراد شدید زخمی،ایک لاکھ جنگلوں میں محصور ہیں ،بنگلہ دیشی حکومت کی سنگدلی کے باعث کشتیوں میں سوار20ہزار افرادسمندر میں بھٹکنے پر مجبور ہیں، لگتا ہے دنیا میں انسانیت نام کی چیز نہیں۔ آئندہ10 دن میں کسی ملک نے مداخلت نہ کی تو اموات میں لاکھوں کا اضافہ ہوسکتا ہے، فوری طور پر امن فوج بھیجی جائے۔ یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں جو ایمنسٹی نے اپنے ذرایع سے معلوم کیے ہیں اور وہ بھی صرف پانچ دن کے، حقیقت میں روہنگیا مسلمان برما میں کن حالات سے دوچار ہوں گے، اس کو صرف وہی جانتے ہیں، جن پر بیت رہی ہے۔ اپنی پرامن زندگیوں کو تمام تر سہولیات اور عیاشیوں سے گزارنے والے تقریبا پانچ درجن مسلم ممالک ان مشکلات کو محسوس بھی نہیں کرسکتے۔ کاش ہمارے بس میں ھوتا ان غنڈوں کو سبق سکھا دیتے ان تمام مظالم کے باوجود کسی ایک مظلوم مسلمان سے یہ انسان نما بھیڑے ایمان نہیں چھین سکے یا اللہ اپ ان ظالموں کو اپنی قوت و قدرت سے ختم کر دے. امین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے