Home / کالم / جام_صادق

جام_صادق

#تحریر:
محمداحمد
معروف سیاستدان جام صادق بڑے دبنگ قسم کے وزیر اعلیٰ گذرے ہیں، ان کے بڑے واقعات مشہور ہیں.
ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں وزیر بلدیات رہے. بعد میں وزیر اعلیٰ بنے تو سندھ سے پیپلز پارٹی کا سندھ سے مکمل خاتمہ کردیا تھا.
جب ضیاء الحق کا دور آیا اور مارشل لا اپنے عروج تھا تو جام صادق بھی احتساب بمعنی انتقام کے نشانے پر تھے.
ضیا الحق کا زور تھا کہ کسی طرح جام صادق کو دھرلیا جائے اور سلاخوں کے پیچھے دہکیل دیا جائے.
معافی کی ایک صورت تھی کہ وعدہ معاف گواہ بن جائیں ورنہ جیل بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں.
انہوں نے وعدہ معاف گواہ بننے سے صاف انکار کردیا کہ مجھے سندھ میں زندگی گذارنی ہے پوری عمر لوگ ملامت کا نشانہ بناتے رہیں گے.
ان کو پکڑنے کی پوری تیاری مکمل کرلی گئیں انہوں نے اس وقت کے کور کمانڈر جس کا نام بھول رہا ہوں کو کہا کہ
سر مہربانی کریں!
جان بخشی کرادیں تو احسان ہوگا انہوں نے گھبرائیں مت!
وہ جنرل صاحب ان کو ایئرپورٹ پر لے گئے اور طیارہ کی اڑان تک ساتھ رہے. (یہ ہوتی ہے وفاداری)
جام صادق دبئی میں جلاوطنی کے دن گذارتے رہے.
حکومت پاکستان کی طرف سے امارات کی حکومت پر جام صادق کی حوالگی کے حوالے سے زور ڈالا تو شہزادوں کو جام صادق کے احسانات یاد آئے کہ شاید انہوں نے ان شکار کھیلائے ہونگے. انہوں نے اپنے مراسم کی وجہ سے حکومت پاکستان کے حوالے تو نہیں کیا لیکن ان کو مشورہ دیا کہ ہم پر مزید پریشر بڑھ سکتا ہے کہیں ہم مجبور نہ ہوجائیں اس لیے آپ لندن چلے جائیں.
جام صاحب لندن چلے گئے وہاں مصطفی کھر بھی جلاوطنی کے دورے پر تھے یہ بھی ان کے ساتھ مقیم ہوگئے.
دبئی میں شہزادوں کے خرچ پر ٹہرے ہوئے تھے اور یہاں مصطفیٰ کھر ان کا خرچ برداشت کررہے تھے.
مصطفی کھر پر پریشر بڑھا تو وہ ملک واپس آگئے تو جام صادق بے گھر اور بے سہارا ہوگئے.
اب ان کے پاس مٹر گشت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا.
یہ سیدھے سڑک کنارے جا رہے تھے بھوک نے بہت ستایا تھا کہ ایک پارک تھا جہاں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ تفریح میں مگن تھے.
اب جام صادق کا بیان ہے کہ ایک بچہ برگر کھا رہا تھا میں بھوک سے اتنا نڈھال تھا کہ دل کررہا تھا کہ یہ برگر بچے سے چھین کر کھالوں لیکن مجھے اندر کے انسان نے اجازت نہیں دی. جب وہ فیملی تفریح کرکے چلی گئی تو میں نے برگر کے بچے ہوئے ذرات کھائے اور وہاں ایک اخبار پڑا تھا وہ پڑھنے لگ گیا.
اس میں خبر تھی کہ پاکستان کے معروف بینکار………..ایک تقریب سے خطاب کررہے ہیں.
امید کی کرن پیدا ہونے لگی کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے
میں قریبی آفس گیا اور اس جگہ کی ایڈریس معلوم کی اور وہاں پہنچ گیا.
وہ صاحب ملے اور میں نے اپنا سارا ماجرا بیان کیا تو ان کو رحم آیا اور مجھے کچھ پیسے اور رہائش گاہ فراہم کی جہاں میں نے باقی جلاوطنی کے دن گذارے.
جو لندن میں اب تک سندھی لوگوں کے مرکز اور پناہ گاہ ہے.
وہ فوجی جب مخالف تھے توجان کے درپے تھے بعد میں جب ان کو ضرورت پڑی اور پی پی مخالفت میں بیرون ملک سے جام صادق صاحب کو بلاکر وزارت اعلی کا منصب حوالے کیا.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے