Home / کالم / خودکشی حرام موت”

خودکشی حرام موت”


✍️دانش ریاض
متعلم جامعہ دار العلوم کراچی.
___________________
چند ایام قبل ایک افسوس ناک خبر نظر سے گزری کہ غربت کے شکار ایک شخص سے اس کے بچوں نے سردی سے بچاؤ کیلئے گرم کپڑوں کا مطالبہ کیا۔ والد نے اپنے آپ کو تہی دست پایا اور بچوں کا مطالبہ پورا نہ کر سکا۔ نتیجتاً خود سوزی کا ارتکاب کرتے ہوئے اس عالمِ فانی سے کوچ کر گیا اور پسماندگان کو داغِ مفارقت دے گیا۔
ہمارے ملک میں خودکشی کا یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ایسے بہت سے واقعات ہیں جو وقتاً فوقتاً پیش آرہے ہیں۔ جیسے گزشتہ برس 2019میں لاہور میں 27 مرد اور 21 عورتوں نے خودکشی جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ میں سے دو افراد خودکشی کرتے ہیں۔ نیز یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی موت کو خودکشی ظاہر کیا جاتا ہے۔ جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی ہے کہ جن کی موت کو طبعی،حادثاتی یا ناگہانی موت قرار دے دیا جاتا ہے۔
آج کل خودکشی کا رجحان اتنا بڑھ رہا ہے کہ پوری دنیا میں آئے روز خود کشی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس کی شرح فیصد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 10 سال قبل “آغا خان یونیورسٹی آف کراچی” کی ایک ریسرچ سامنے آئی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ عالمی اعتبار سے ہر دو منٹ میں ایک آدمی خودکشی کر رہا ہے۔ جبکہ 2019 کے آخر میں “عالمی ادارہ صحت” نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے اور ہر سال مجموعی طور پر اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کا شکار ہو رہے ہیں۔ دنیا میں خودکشی کی سب سے زیادہ شرح سویڈن جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جاپان میں اس کو ایک بہادرانہ اور مقدس فعل سمجھا جاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ خودکشی کرنے والے افراد میں سے 90 فیصد لوگ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں جبکہ دیگر اسباب میں غربت، ناامیدی، احساسِ کمتری، ناانصافی اور اسلامی تعلیمات سے نا بلدی شامل ہے۔
اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ یہ دنیا کارخانئہ خداوندی ہے۔ اس میں جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور جو کچھ ہو گا سب اللّٰہ تعالیٰ کے حکم و ارادے سے ہے۔ انسان کے اس دنیا میں آنے اور جانے کا وقت تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔ موت نہ وقت سے پہلے آ سکتی ہے نہ بعد میں۔ اسی لئے موت کی تمنا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔چنانچہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ “کسی کو بھی موت کی تمنا نہیں کرنی چاہئے۔ اس لئے کہ اگر وہ نیک ہے تو امید ہے کہ اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا اور اگر وہ برا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ تائب ہو جائے”(الحدیث)۔ جب موت کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے تو خودکشی کرنا اسلام میں کیسے روا ہو سکتا ہے۔
خودکشی کرنا اسلامی تعلیمات کے یکسر مخالف ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ “تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو”(النساء،٢٩)۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرایا اور اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور ہمیشہ اس میں اوپر سے گرتا رہے گا اور جس نے زہر چاٹ کر اپنے آپ کو قتل کیا تو جہنم میں زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور ہمیشہ جہنم کی آگ میں زہر چاٹتا رہے گا”(الحدیث)۔ ایسا شخص اپنے گناہ کی سزا پانے کے لیئے جہنم میں تو ضرور جائے گا البتہ ایمان کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ جنت میں ضرور داخل ہو گا۔ اس فعل حرام کی شناعت پر متنبہ کرنے کیلئے ہی یہ کہا گیا ہے کہ خواص ایسے شخص کے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے خودکشی کرنے والے شخص کا جنازہ لایا گیا تو آپ علیہ السلام نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار فرما دیا۔
اگر ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات عام ہوں تو خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کم ہو سکتے ہیں۔ آج کا معاشرہ انتشار ذہنی کا شکار ہے۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔ جس کی وجہ سے مادہ پرست، طباسلامی تعلیمات سے ناآشنا اور پریشان لوگ خود کشی جیسے فعل حرام کا ارتکاب کرنے لگے ہیں۔ اب حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ مہنگائی اور روزگاری کا خاتمہ کریں تاکہ لوگ اپنی قیمتی جانوں کو خودکشی کرنے میں ضائع نہ کریں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے