Home / کالم / 14 فروری کے حوالے سے دانشوروں سے ایک سوال ۔

14 فروری کے حوالے سے دانشوروں سے ایک سوال ۔

سوال ؤ تحریر
راجہ نوید حسن
🌼🌼🌼🌼🌼
ہیر اور راہنجا جس طرح ہماری لوک داستان اور روایت ہے ۔پھر ہم اس پر کیوں نہیں رکھتے کیونا بربلا لکھا جائے کہ راجا اپنی جوانی کے دنوں میں اپنی بھابیوں کے ستانے پر دولن کی تلاش میں نکلا تو اسی جستجو اور تلاش کے دوران اسے ایک گھر میں نوکری کرنا پڑی کیونکہ وہ نوکری کی تلاش میں نہیں تھا دلہن کی تلاش میں تھا اس نے 12سال بے سے چرائی شاید کے وزیروں دس سال اور بھینسیں چراتا لیکن بھینس والوں کی لڑکی جوان ہوگی اگر اس زمانے میں سولہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کی جاتی تھی یا یوں تصور کر لیا جائے کہ دلہن کے چچا نہیں ہیر اور رانجھے پر قد غن لگا کر شادی کیلئے اس کے باپ کو کہا پھر تو یقینا یہ بات ہے کہ سولہ اور اٹھارہ سال کی ہی ہیر ہو گی ۔اس اندازے کے مطابق اگر سولہ سال کی عمر سے بارہ سال کی عرصہ نکال دیں تو ہیئر کی عمر آٹھ سال بچتی ہے پھر تو رانجھے کا کردار سخت مشکوک ہو جاتا ہے ۔دوسری جانب راہنجہ جب تخت ہزارہ گھر سے نکلا تو وہ کوئی جنگجو نہیں تھا کہ محمد بن قاسم کی طرح 16 سال کی عمر میں کسی جرنیلی محاذ پر نکلا ہو۔بلکہ وہ پختہ ستائے ہوئے عمل کے بعد یقینا بیس سال کی عمر میں گھر سے نکلا اور بارہ سال کی ریاضت اس وقت اس کی عمر 32 سال ہوگی۔اور جو کچھ اس نے نوکری اختیار کی تو اس کا خالص مقصد ۔ ۔ مالک کی بیٹی سے شادی کرنا تھا اور وہ انتظار کر رہا تھا کہ اس کا انتخاب اس عمر کو پہنچے کیسا تعجب انگیز قسم کا یہ عشق محبت کا کھیل ہے کہ جس میں اپنی عمر سے دگنی عمر کی چھوٹی لڑکی یعنی دانشور لوگ بہت اچھی طرح سوچ سکتے ہیں ابھی حال ہی میں جو بل منظور ہوا ہے معاشرتی رویوں کے حوالے سے تو ہماری تاریخ کا یہ معاشرتی رویہ کہانی کس عمر کے کیلنڈر پر کھڑی ہے ہم اپنے لحاظ سے کس طرح کی سوچوں پر پروان چڑھتے آئے ہیں اور آج سے پہلے اس ڈگر پر کسی نے سوچا ہے کہ اپنے مالک کی سات آٹھ سال کی بچی پر بری نظر رکھنا مذہبی گرفت میں کس طرح کا ہے چلو چھوڑے ہہیر کی داستان کو لیکن افسوس ہے کہ یہ 14 فروری کا جو نوہا پیٹا جاتا ہے تو ہمارے معاشرے کے لکھاریوں کو اس کے خلاف طبع آزمائی کی ضرورتکیوں پیش ہوتی ہے کہ وہ اس پر پے در پے لکھے جارہے ہیں حیا تو ہمارا مذہبی فریضہ اولیں ہے میرے مطابق میں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے بہتر ہے اپنی تربیت اور اصلاح کرنی چاہیے ورنہ ہم لکھ کر دبے لفظوں میں ویسے کاموکی تشہید میں ہیں تو مصروف ہیں یقینا اس لوک داستان سے انس رکھنے والے لوگ ناراضگی کا اظہار کریں لیکن اس سے بہتر سمجھانے کی کوئی راہ نو بھی ایسے لوگوں سے میں معذرت خواہ ہوں

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے