Home / اردو ادب / اجنبی کل اور آج“

اجنبی کل اور آج“

ترتیب ؤ تحقیق
بابرالیاس
ایڈمن قلمدان
📕📕📕📕📕
پہلی بات
(اگر ہم سمجھ جائیں؟)
مئی ۷۰۰۲؁ء میں ایک کتاب جسکی طبع اول کے مصنف احسن عزیز صاحب اور ناشر محمد صہیب قرنی ہیں کی کاوش سے شائع ہوئی جس کا عنوان تھا
”اجنبی کل اور آج“
جس میں چوبیس مضمون اٹھاسی صفحات پر مشتمل ہیں چند دن پہلے یہ کتاب مجھے پڑھنے کیلئے مولانا تبسم تحسین صاحب نے دی اور ساتھ یہ کہا کہ انشاء اللہ یہ کتاب تمہارے لیے نئی راہیں کھولے گی اور ایسا ہی ہوا اس کتاب کامطالعہ کرنے کے بعد میں یہ بات کہنے سے قاصر نہیں کہ اس کتاب میں احسن عزیز صاحب نے جس خوبصورت انداز میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو بیان فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کا ان تعلیمات پر عمل کرنا واضح کیا اس طرح مجھے ابھی تک کسی اور کتا ب میں نہیں ملی اسی کتاب کا صفحہ نمبر ۵ سےایک مضمون آپ کی نظر کر رہا ہوں امید ہے کہ آپ کو پسندآئے گا کیونکہ اس مضمون میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ دین محمد ﷺغالب و مغلوب رہنے کیلئے آیا ہے اور مسلمانوں کو اس نسخہ شفا ء سے فیض یاب ہوناپڑے گاکیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔
چنانچہ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق اعظم ؓ نے طواف کے دوران ایک بدو کو یہ دعا کرتے اور دہراتے ہوئے سنا کہ یا اللہ مجھے قلیل لوگوں میں شامل فرما لے۔آپؓ نے اسے ٹوکا کہ یہ کیا دعا کرتے ہو۔ اس نے کہا کہ اے عمرؓ! آپ نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ میرے کم ہی بندے شکر گزار ہوتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ بدو بھی عمر سے زیادہ قرآن جانتے ہیں۔
کیا آج ہم علم و فضل کے مدارج طے کرنے والے ………… معاملہ فہمی میں عرب کے ایک بدو سے بھی گئے گزرے نہیں ہیں؟
آج ہم بہت کثرت میں ہیں! ……………… حالات کے دھارے میں خس و خاشاک کی مانند بہتی ہوئی یہ کثرت ………… امام المجاہدین ﷺ کے الفاظ میں وہن کے مرض میں مبتلا یہ کثرت ………… باعث فخر ہے یا باعثِ ندامت!!
آج آنکھیں راہ تکتی ہیں ان قلیل لوگوں، ان اجنبیوں کے نقشِ پا پر چلنے کا عزم کرنے والوں کی جو امت کے جسد مردہ میں زندگی کی روح پھونک دیں۔ جن کے حق میں حضرت علی ؓ نے یوں گواہی دی:
ّ”کہاں ہیں وہ گروہ جنہیں اسلام کی طرف بلایا جاتا تھا تو وہ اسے قبول کرلیتے تھے؟
وہ قرآن کو پڑھتے تھے اور اپنے اعتقادات کو اس کے ساتھ مضبوط کرتے تھے۔ جہاد کے لیے برانگیختہ ہوتے تھے۔
(اللہ کے خوف سے) روتے روتے ان کی آنکھیں تباہ ہوگئی تھیں۔ ان کے شکم روزہ رکھتے رکھتے لاغر ہوگئے تھے۔ دعائیں کرتے کرتے ان کے ہونٹ سوکھ گئے تھے۔
شب بیداریوں سے ان پر زردیاں چھاگئی تھیں۔
سجدوں کا غبار ان کے چہروں پر موجود رہتا تھا۔ وہ لوگ میرے بھائی تھے جو چلے گئے“۔
مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے“۔ پوچھا گیا”کون اجنبی، یارسول اللہ ﷺ؟“۔ فرمایا ”برے لوگوں کی کثرت میں (گھرے ہوئے) نیک لوگ۔ جو ان کی نافرنانی کریں گے، وہ ان کا کہنا ماننے والوں کے مقابلے میں زیاد ہوں گے“۔ اسلام کی اجنبیت کے اس دور میں اجنبیوں کا راستہ………… نسخہ شفا یہی ہے۔ بدی کے سمندر سے اپنے آپ کو بچا نکالنا، اور بروں کی پروا کیے بغیر نیکی او ر اصلاح کو اپنا شعار بنا لینا، اور دورِ اولیّن کے غرباء کی طرح اپنے دین کی جانب واپس پلٹ آنا ہی بڑی کامیابی ہے۔ دین کی طرف پلٹ آئیے اس عزم اور یقین کامل کے ساتھ کہ ہم اس دین کے پیرو ہیں جس کی ساری کی ساری تعلیمات انفرادی اعمال سے لے کر جہاد اور قتال کے میدانوں تک پھیلی ہوئی روشن تعلیمات سراسر حق ہیں اور ان میں ذرہ برابر بھی کوئی ایسی شے موجود نہٰں ہے کہ جس پر عمل پیرا ہونا ہمارے لیے دنیا کی قوموں کے سامنے شرمسای کا باعث بن سکے۔
امام عبداللہ عزام ؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ”اسلام کے خلاف کفارنے پچھلے ۰۰۴۱ سو سال میں جنتی سازشیں کی ہیں اگر ہمارے اس دین حق کی جگہ کوئی اور دین ہوتا تو کئی بار مٹ کر ختم ہوچکا ہوتا“۔ یہ دین مٹنے کے لیے نہیں آیا.
یہ دین مغلوب رہنے کے لیے بھی نہیں آیا
تمام حالات و واقعات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اللہ کی مشیت حرکت میں ا ٓچکی ہے، اللہ ایک مرتبہ پھر محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کو غلبہ و سرفرازی عطا فرمانا چاہتاہے۔ ”غرباء“ کے قافلے ایک مرتبہ پھر منظّم ہو رہے ہیں یہی فیصلے کی گھڑی ہے، دین کی نصرت کے لیے قدم بڑھائیے، اللہ کی مدد اور نصرت کی ”مبشرات“ آپ کی منتظر ہیں:ولینصرن اللہ من ینصر ہ ط ان اللہ لقوی عزیز (الحج ۲۲:۰۴)۔اور (یاد رکھو) اللہ ضرور اس کی مدد کر ے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ بڑا قوت وال (اور) زبردست ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے اور آپ کو نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات جو صحابہ کرام ؓ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں اُن پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے