Home / کالم / آپنی تحریر کو پُرکشش بنائیں

آپنی تحریر کو پُرکشش بنائیں

**ازقلم:-
**صدیق احمد صوابوی**

ہماری کلاس 9th کی بات ہے جب میں نے پہلی بار اردو کی کتاب کھولی تو میں نے اس کتاب کو اپنی ذہنیت سے مطابقت میں پایا –
چند دنوں میں کتاب سے تمام نثری اسباق نظر سے گزارے جس نے میری ادبی صلاحیتوں کو ابھارا – مجھ میں بذات خود لکھنے کا جذبہ پیدا کیا – اسی دن سے میں چھوٹے موٹے مضمون عام موضوعات پر لکھ رہا ہوں چونکہ میں یہاں اپنی آپ بیتی بیان نہیں کرنا چاہتا بلکہ میں قلیل تجربہ سے بلادلیل اردو ادب کے بنیادی قواعد کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں – اردو ادب کا دائرہ بہت وسیع ہے اور کثیر اصناف پر مشتمل ہے جن میں نظم ، غزل ، مضمون ،شخصیت نگاری ،افسانے اور ناول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں —
تمام اصناف اپنی حیثیت کے مطابق بہت مفید ہیں اور ادب کے لیے ہر ایک لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے – ایک ادیب معاشرے کے مسائل طنزومزاح اور اپنے تجربے کے پیش نظر معلومات کو ادب کا لباس پہنا کر عام لوگوں کو پیش کرتا ہے –
ایک ادیب کی تحریر کو عام لوگ جب پڑھتے ہیں تو صرف اس میں پوشیدہ “رائٹرکا پیغام” اخذ کرتے ہیں لیکن ایک ادیب جب دوسرے ادیب کی تحریر پڑتا ہے تو اس کی بنیاد کے ساتھ ساتھ ادبی نکات ، تراکیب ، محاورات ادب کے قواعد و ضوابط سے بھی استفادہ کرتا ہے –
ایک مضمون لکھنے کے لئے چند بنیادی اصول ہے جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں —

1- *بنیاد*
بنیاد یا اساس ایک تحریر کے لیے ضروری ہوتا ہے – اس میں معاشرے کے تمام مسائل طنزومزاح وغیرہ بروئے کار لائے جاتے ہیں –
زیر نظر مضمون میں ادب کی تخلیق بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے جوکہ قارئین کو میرا ایک پیغام ہے —

2 – *مواد اور معلومات*
دلچسپ تحریر لکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ لکھنے والے کے پاس اس موضوع پر مستند اور غیر مستند عقلی و نقلی دلائل اور معلومات کا ذخیرہ موجود ہو —
زیر قلم مضمون میں ترتیب وار تخلیقی ادب کے اصول اس کا مثال ہے —

3 – *تسلسل*
پرکشش مضمون لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تحریر میں ہر جملے اور پیراگراف کے ماقبل اور مابعد سے ایک مطابقت ہو جسے پڑھنے والے کو مضمون سمجھنے میں آسانی ہو —

4 – *ذاتی تجربہ*
مضمون کے مطابق تحریر میں موقع محل کی مناسبت سے اپنے تجربات ، احساسات وغیرہ شامل کرنا اور اس پر قیاس کرکے تبصرہ کرنا تحریر کو اور بھی پرکشش بناتا ہے –

5 – *اختتامیہ*
چونکہ مضمون کا سارا خلاصہ اختتامیہ پر ہوتا ہے اسی لئے لکھاری کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون کا اختتام محتاط جملوں سے کرے –
مضمون طنزومزاح کا ہو یا کوئی اور صنف ہو —
لیکن خیال رہے کہ اس کا اختتام سنجیدہ الفاظ سے کیا جائے تاکہ ادیب کے تخیل کا صحیح ترجمانی ہو سکے –

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے