Home / اردو ادب / یہ شرم مٹائے بیٹھے ہیں۔

یہ شرم مٹائے بیٹھے ہیں۔

انتخاب
ریحانہ کوثر سرگودھا
📕📕📕📕📕📕📕📕
نادان یہ عورت کیا جانے
سب گھات لگائے بیٹھے ہیں،

باتوں میں تو کیسے آئے گی
سب بات بنائے بیٹھے ہیں،

کب قدم تیرے رستہ بھٹکیں
سب نظریں جمائے بیٹھے ہیں،

یہ مال سمجھتے ہیں تجھ کو
سبھی بازار سجائے بیٹھے ہیں،

منہ سے تجھے مظلوم کہیں
سوچوں میں نچائے بیٹھے ہیں،

تو بہن بھی ہے تو ماں بھی ہے
سب رشتے گمائے بیٹھے ہیں،

یہ مرد عورت کے رشتے کو
بس کھیل بنائے بیٹھے ہیں،

یہ بد ہیں، بدکردار بھی ہیں
صورت کو چھپائے بیٹھے ہیں،

گر ایسا نہیں تو چپ کیوں ہیں
کیوں دین گمائے بیٹھے ہیں،

سبق جو ہیں اللہ نے دئیے
کیوں سارے بھلائے بیٹھے ہیں،

تو ان پر بھروسہ نہ کرنا
یہ جال بچھائے بیٹھے ہیں،

خود اپنی حفاظت کرنی ہے
یہ شرم مٹائے بیٹھے ہیں۔
#

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے