Home / اسلام / درس قرآن نمبر85* *نسخ آیت کی تفسیر*

درس قرآن نمبر85* *نسخ آیت کی تفسیر*

**مدرس:
محمد عثمان شجاع آبادی*
📕📕📕📕📕📕📕
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مَّا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ وَلاَ الْمُشْرِکِیْنَ أَن یُنَزَّلَ عَلَیْْکُم مِّنْ خَیْْرٍ مِّن رَّبِّکُمْ وَاللّہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ٭مَا نَنسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَوْ نُنسِہَا نَأْتِ بِخَیْْرٍ مِّنْہَا أَوْ مِثْلِہَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّہَ عَلَیَ کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌ٭
ترجمہ:جو لوگ کافر ہیں، اہلِ کتاب یا مشرک، وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو اور اللہ تعالیٰ تو جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے ا ور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے ٭ ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اس کو فراموش کرا دیتے ہیں تو اُس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے؟
*ربط:*
پچھلی آیت میں یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اس آیت میں بھی ان کی شرارتوں کا ذکر ہے۔
*تفسیر:*
مَّا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا……اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ نبوت کی وضاحت کی ہے،کہ نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے کہ نیکیاں کرکے،رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری اختیار کرکے کمائی جائے،جیسا کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت کسبی ہے محنت کرکے رسول اللہﷺ کے درجے کو پہنچ سکتا ہے بلکہ آپ سے بھی درجے میں آگے بڑھ سکتاہے(،معاذاللہ)
یہود بی اسی وجہ سے آپ کی مخالفت کررہے تھے کہ نبوت بنی اسماعیل میں کیوں چلی گئی ہے تو اللہ نے فرمایا ہے کہ نبوت اللہ کا فضل ہے اللہ جسے چاہتے ہیں اپنے فضل سے نوازدیتے ہیں،بے شک اللہ ہر شی پر قادر ہے۔
مَا نَنسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَوْ نُنسِہَا ……اس آیت مبارکہ میں یہود کے ایک خاص شبہ کا جواب دیا ہے،یہود سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں اسلامکے متعلق یہ شبہ ڈالنے کی کوشش کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے تو اس میں احکام کیوں بدل دیے جاتے ہیں،ایک ہی خدا کی طرف سے مختلف احکام کیسے نازل ہوسکتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ہے کہ میں مالک ہوں،میرے اختیارات غیر محدود ہیں،میں چاہوں کسی حکم کو منسوخ کردوں،یا کسی حکم کو مسخ کردوں،اور اس حکم کی جگہ دوسرا حکم دیتا ہوں،یہ تنسیخ احکام کوئی نئی بات نہیں ہے یہ پہلے بھی شریعتوں میں ہوتا رہاہے،حضرت موسیٰ پر جو احکام نازل ہوئے وہ بعد میں بدلتے رہے حضرت عیسی ؑ کے دور میں بہت سے احکا م تبدیل کردیے گئے۔
ایک حکم کی جگہ جو دوسرا حکم آتا ہے وہ حالات کے زیادہ مناسب ہوتاہے۔لہذا ان بے تکی باتوں سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
آج ضروت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو اللہ کے فرامین کے تابع کردیں،پھر ہمیں کامیابی ملے گی۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے