Home / کالم / موقع

موقع

تحریر
ایاز امیر

جس نوجوان کو موقع ملتا ہے وہ ملک سے فرار ہونے میں عافیت سمجھتا ہے۔ لیکن سارے نوجوان تو باہر جا نہیں سکتے، انہیں لے گا کون، یہ کہاں کھپ سکتے ہیں۔ مجبوراً جو رہ رہے ہیں وہ کریں کیا، نوکریاں ہیں نہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ حیرانی البتہ اس امر پہ ہے کہ گو حالات خراب ہیں پاکستانی قوم فضول خرچیاں بند کرنے کا نام نہیں لیتی۔ ہماری شادی بیاہ کی تقریبات کو دیکھ لیجیے۔ پیسے والے فضول خرچیاں کریں‘ وہ تو بات سمجھ میں آتی ہے حالانکہ معاشرے میں کچھ اچھی اقدار قائم ہوں تو پیسے والے بھی فضول خرچی سے گریز کریں اور دوسروں کیلئے مثال بنیں‘ لیکن یہاں تو جن کے ہاتھ تنگ ہیں وہ بھی فضول خرچیوں سے باز نہیں آتے۔ یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ جس طریقے سے شادی ہالوں کا مرض ہمارے معاشرے میں پھیلا ہے یہ کسی اور ملک میں نہیں ہو گا۔ بے دریغ دولت ان شادی ہالوں پہ لگائی گئی ہے اور لوگ بھی وہاں جاتے ہیں۔ مولوی صاحبان اور علمائے کرام کی ماشااللہ کمی ہمارے ہاں نہیں ہے۔ پتہ نہیں کن کن موضوعات پہ اِن کا جوش و جذبہ صرف ہوتا ہے لیکن معاشرے کے بنیادی مسائل سے عموماً دور ہی رہتے ہیں۔ شادی ہالوں کی بیماری اب دیہات تک بھی پہنچ چکی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کوئی بتانے والا نہیں ہے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو شادی ہالوں پہ ایسا ٹیکس لگتا کہ شادی ہال والے کان پکڑ لیتے‘ لیکن ہمارا ہر انداز نرالا ہے۔
ہماری فیشن انڈسٹری کو دیکھ لیجیے، زیادہ تر فیشن شو ملبوسات عروسی کے بارے میں ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کے لگتا یوں ہے کہ ہمارے ہاں شادیوں کے علاوہ اور کوئی ڈھنگ کا کام نہیں ہوتا۔ یہ بات آزما لیجیے، کسی بھی فیشن شو کا ذکر پڑھیے تو ماڈلوں نے شادی کے گھاگرے اور لہنگے ہی پہنے ہوتے ہیں۔
شادی بیاہ تو ایک طرف رہا، غمی کے موقعوں کا بھی ہم نے تماشا بنا دیا ہے۔ قل پہ خرچہ ہو رہا ہوتا ہے اور کئی جگہوں پہ تو چالیسویں کا انعقاد ایسا ہوتا ہے کہ خرچہ شادی بیاہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کہاں گئیں؟ اسلام کے نام پہ ہم فساد کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں لیکن اپنی اجتماعی زندگی میں اسلام کا اثر ہم نے نہیں لینا۔ اسلام کا کچھ مطلب ہے تو وہ صفائی اور سادگی کی تلقین ہے۔ ہمارے معاشرے میں صفائی کا عالم تو ہم خوب جانتے ہیں اور سادگی کی مثالیں بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں۔
پی ٹی آئی کی حشر سامانیوں کی وجہ سے تو عوام کو سادگی کی طرف مائل ہونا چاہیے۔ شادی کی تقریبات کم ہونی چاہئیں۔ چند عزیز و اقارب ہوں، سادہ سی دعا پڑھی جائے اور کھجوریں تقسیم کرکے معاملہ ختم ہو جائے۔ یہ لمبے چوڑے ولیمے وغیرہ فضول کی باتیں ہیں۔ ان سے نکلنا چاہیے‘ اور مرگ پہ تو پیسہ بالکل خرچ نہیں ہونا چاہیے۔ اس روایت پہ بھی کنٹرول ہونا چاہیے کہ دور دور سے آ رہے ہیں تعزیت کرنے کیلئے۔ تعزیت فون پہ بھی ہو سکتی ہے۔ فون کریں اور کہیں کہ بہت افسوس ہے۔ باہر کے لوگ اس حوالے سے ہم سے بہتر ہیں۔ کوئی کرسیاں اور شامیانے نہیں لگتے اور کئی دنوں تک آدمی تعزیت کے نام پہ ویہلے نہیں بیٹھے رہتے۔ ایسی روایات ہمارے معاشرے کے طور طریقوں کا حصہ بن چکی ہیں‘ ایک دم ختم ہونے والی نہیں لیکن کوئی بتائے تو سہی اور کہیں سے ابتدا تو ہو۔ یہ کام معاشرے کے لیڈروں کا ہے لیکن وہاں سے کوئی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔ دنیا کی باتیں کریں گے لیکن معاشرے کی بنیادی خرابیوں کی طرف کسی کا دھیان مبذول نہیں کرائیں گے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے