Home / کالم / ماں تجھے سلام

ماں تجھے سلام

تحریر
بابرالیاس
ایڈمن قلمدان
📕📕📕📕

اک مدّت تک جاگتی رہی ماں تابش
میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز شروع کرچکا ہوتا اس دوران وہ مجھے اپنے حجرے سے پکارتیں : اے محمد ! تو خدا کی قسم ! میں نماز چھوڑ کر ان کے پاس حاضر ہوتا اور اس کے قدموں سے لپٹ جاتا.
ماں،میں کیا تعریف کروں یا مجھ جیسا کم علم کیا کوئی بھی مفکر, اہل علم ؤ دانش رکھنے والے بھی اس لفظ (ماں) کی تعریف کے لیے, خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وہ شاید ایسے الفاظ ہی نہیں‌بنا پاۓ جو اس لفظ کی اہمیت کو بیان کر سکے میری نظر میں اگر دُنیا کو اگر کبھی تولنا ہو تو اُس کے مقابلے میں ماں‌کو دوسری طرف رکھ دو۔
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
ماں،جنت کو پانے کا ایک آسان راستہ ھے ماں،جس کا احساس انسان کی آخری سانس تک چلتا رہتا ہے.ﺍﻳﮏ ﺍﻳﺴﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺟﺴﮯ ﮈﮔﺮﯼ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﻴﮟ ﻫﻮﺗﯽ ﺍﺳﮯ ” ﻣﺎﮞ ” ﮐﮩﺘﮯ ﻫﻴﮟ .‏ماں ساری زندگی اپنی اولاد کی خاطر تکلیفیں جھیلتی ہے اور پھر آخرکارماں کے سکون کی خاطر گھر میں بہو کا ہونا لازم ہوجاتا ہے.
دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہےلیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی
حدیث نبویﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین پر لعنت کرے،عرض کیا گیا یا رسول اللهﷺ آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کر سکتا ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں باپ کو گالی دے گا۔#بخاری913
.صبر کرنے والی ماں ہی صابر نسل تیار کرتی ھے,ماں باپ کی خوشنودی دنیا میں موجب دولت اور عاقبت میں باعث نجات ہے.‏اچھی اولاد ہی اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے کی لیے ماں باپ کے خوابوں کا رنگ نہیں اتارتی.
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
اللہ تعالی نے انسان کو دنیا و آخر کی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کے لیے خالق کائنات کا جتنا بھی شکر کیا جائے وہ کم ہی ہے۔دنیا میں‌عطا کی گئی اللہ کی طرف سب سے بڑی نعمت ماں ہے جس کے لیے جتنا شکر کیا جاۓ وہ اُتنا ہی کم ہوگا۔لیکن شاید ہم اپنے فرض سے دور ہو گئے ہیں۔ماں جس نے ہمیں‌پیدا کیا ہمیں پالا پوسا بڑا کیا اور اس قابل بنایاکہ ہم دُنیا میں سر اُٹھا کر جی سکیں وہ ہی ماں آج معاشرتی بے حسی کا شکار ھو گئ.
کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں
ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے
‏ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻋﻤﻞ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﻧﺎ، ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ
‏ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﺮﺭﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ کچھ ﻧﮧ کچھ ﭼﮑﺎﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ھے حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیاجائے گا۔حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کو جنت کے دروازے پرروک لیاجائے گا۔
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
حضرت اویس قرنی کون ہیں ۔اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی ۔حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسکے۔جبرئیل آسمان سے پہنچے اورانکی بات کوحضورنے بیان کیا چونکہ حضوردیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیساسلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول ﷲ (صلی ﷲ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی توآپ نے ارشاد فرمایامجھے نہیں معلوم کب آئے گی توسائل نے کہاکہ کوئی نشانی توبتادیں توآپ نے فرمایاجب اولاداپنی ماں کوذلیل کرے گی توقیامت آئے گی۔
آئینہ دیکھ کر خوش ہیں میری آنکھیں بے حد
میرے چہرے پر میری ماں کی مشاہبت بھی ہے
حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے کہاکہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔
ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے
ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے
یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہےحضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کروائیں تو حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمررضی اللہ ،علی رضی اللہ اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہوجاو آپ کے حکم پرتمام حاجی کھڑے ہوگئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھرکہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صر ف مراد قبیلہ کھڑا رہے پھرکہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچااور حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ رضی اللہ تعالی کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ رضی اللہ تعالی نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے،آپ رضی اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگےجب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی ۔
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
سلام پھیرا توحضرت عمر رضی اللہ تعالی نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے رضی اللہ تعالی کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں میرا انٹرویو کرنے والے ان کایہ کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی ہیں اور میں ہوں علی رضی اللہ تعالی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا۔
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
حضرت عمر رضی اللہ تعالی اورحضرت علی رضی اللہ تعالی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں،تبلیغ نہیں،تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لواس وقت حضرت اویس قرنی پریشان ہوجائیں گےاور کہیں گے کہ اے ﷲ آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیاتو مجھ سےاس وقت ﷲ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھوجب پیچھے دیکھیں گے تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعدادمیں جہنمی کھڑے ہوں گےتواس وقت ﷲ فرمائے گاکہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ توانگلی کااشارہ کرجدھر جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا.
ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر کیونکہ یہ ایک ایسا سمندر ھے جسکی گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا میرے بس کیا انسانی عقل سے بھی بالاتر ہے۔کائنات میں ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔حضرت موسی علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالی سے پوچھا کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔ آپ کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ وہاں دیکھا توایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا۔ اپنا کاروبار ختم کرکے اس نے گوشت کا ایک ٹکڑا کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس قصائی کے گھر کے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا پھر روٹی پکا کر اس کے ٹکڑے شوربے میں نرم کئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔
شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا
قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک لقمہ اس کے منہ میں دیتا رہا۔ جب اس نے کھانا تمام کیا تو بڑھیا کا منہ صاف کیا۔ بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹٓ کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام جو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا ارے اجنبی! یہ عورت میری ماں ہے۔ گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں!آپ نے کہا میں ہی تو موسی کلیم اللہ ھوں. ماں کہنے کو تو صرف تین حروف کا مجموعہ نظر آتا ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت ؤ بڑائی,مقام ؤ مرتبہ, کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔
سُکھ دیتی ہوئی ماؤں کو گنتی نہیں آتی
پیپل کی گھنی چھاؤں کو گنتی نہیں آتی
اسلام نے بھی ماں کو بہت اونچا مقام دیا ہے۔ایک مرتبہ ایک شخص نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟۔آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تیری ماں‘‘ اس نے پوچھا:’’پھر کون؟‘‘آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تیری ماں‘‘اس نے تیسری بار پوچھا:’’پھر کون؟‘‘آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تیری ماں‘‘ چوتھی بار پوچھنے پر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تیرا باپ‘‘
ایک صحابی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں؟‘‘ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا’’تیری ماں ہے؟‘‘ اس نے کہا’’ہاں‘‘ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’اس کی خدمت کرو کیونکہ اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے‘‘ (سنن نسائی /سنن
ماں وہ ہستی ہے جسکی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جسکو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔‏ماں سے محبت کروکیوں کے ماں کی پریشانی دیکھ کر اللّه نے صفامروہ کو حج کا رکن قرار دیا۔بدقسمت ہے وہ انسان جس کے پاس نہیں اور اُس سے بھی زیادہ بدقسمت وہ ہے جس کے پاس ہوتے ہوئے بھی وہ اُس کی قدر نہیں‌کرتا۔کیا جواب دو گے جب پوچھا جائے گا والدین کے حقوق کے بارے میں؟
ماں ایسا گھَن چھاواں بُوٹا مینوں نظر نہ آئے
لَے کے جِس توں چَھاں اُدھاری رَب نے سُورگ بنائے
باقی سب دُنیا دے بُوٹے جَڑ سُکیاں مُرجھاون
ایہہ پر پتیاں دے مُرجھایاں ایہہ بُوٹا سُک جائے
اے رب ذوالجلال…… ھماری خطائیں بخش دے ، توبه قبول فرما، علم نافع، صحت کاملہ، اولاد صالح، رزق حلال،مقام عبدیت، عشق مصطفے عطا فرما ھم پررحم فرما، یارحیم ھمیں کفر،شرک،شیطان سے اپنی پناه میں رکھ اور ھمیں اپنے ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے.آمین.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے