Home / اسلام / درس قرآن نمبر 82* *سحر کی حقیقت(حصہ اول)*

درس قرآن نمبر 82* *سحر کی حقیقت(حصہ اول)*

*مدرس:
محمد عثمان شجاع آبادی
📕📕📕📕📕📕📕
بسم اللہ الرحمن ارحیم
وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّیَاطِیْنُ عَلَی مُلْکِ سُلَیْْمَانَ وَمَا کَفَرَ سُلَیْْمَانُ وَلَ کِنَّ الشَّیْْاطِیْنَ کَفَرُواْ یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْْنِ بِبَابِلَ ہَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّی یَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرْ فَیَتَعَلَّمُونَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِہِ بَیْْنَ الْمَرْء ِ وَزَوْجِہِ وَمَا ہُم بِضَآرِّیْنَ بِہِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّہِ وَیَتَعَلَّمُونَ مَا یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنفَعُہُمْ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاہُ مَا لَہُ فِیْ الآخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِءْسَ مَا شَرَوْاْ بِہِ أَنفُسَہُمْ لَوْ کَانُواْ یَعْلَمُونَ ٭وَلَوْ أَنَّہُمْ آمَنُواْ واتَّقَوْا لَمَثُوبَۃٌ مِّنْ عِندِ اللَّہ خَیْْرٌ لَّوْ کَانُواْ یَعْلَمُونَ٭
ترجمہ: اور اُن (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اُن باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے تھے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو غرض لوگ ان سے ایسا (جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور اللہ کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو اُن کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہو گا اُس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا وہ بُری تھی۔ کاش وہ (اس بات) کو جانتے ٭ اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش وہ اس سے واقف ہوتے ٭
*ربط:*
پچھلی آیات کی طرح اس آیت میں بھی بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذکر ہے۔
*تفسیر* :
اس آیت مبارکہ میں یہود کی ایک اور بد عملی کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ جب بنی اسرائیل پر فکری انحطاط کا دور آیا،غلامی اور جہالت،بھوک وافلاس نے ان کے اندر کوئی بلند حوصلگی اور اولوالعزمی نہ چھوڑی،تو ان کی توجہ جادو ٹونے کی طرف مبذول ہونے لگی،ان لوگوں نے جادو سیکھنا شروع کردیا،تاکہ بغیر کسی مشقت و محنت کے پیسے کمائے جاسکے،جیسا کہ آج کل جعلی پیر کرتے ہیں،جادو کے زور پر کچھ شعبدہ بازیاں دکھا کر لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں،بنی اسرائیل کے دماغوں میں شیاطین نے یہ بات ڈال دی تھی کہ حضرت سلیمان ؑ جادو کی طاقت سے ساری دنیا اورتمام مخلوقات پر حکومت کررہے ہیں اگر م بھی جادو سیکھ لو توتم بھی عیش وآرام کی زندگی گزاروگے۔
وَمَا کَفَرَ سُلَیْْمَانُ وَلَ کِنَّ الشَّیْْاطِیْنَ کَفَرُوا……بنی اسرائیل نے شیاطین کی باتوں کو حقیقت سمجھااور یہ کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) حضرت سلیمان ؑ نے جادو کے زور پر حکومت قائم کی ہے،اور یہ کافر ہوگئے ہیں،آج بھی بائبل میں یہ واقعہ مذکور ہے،تو اللہ نے یہاں حضرت سلیمان ؑ کی برأت کا اعلان کیا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے کوئی کفر نہیں کیابلکہ انہیں شیاطین جن میں جن اور انسان دونوں شامل ہیں انہوں نے کفر کیاہے۔
یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ……غالبا حضرت سلیمان ؑ کے دور میں عراق کے شہر بابل میں جادو کا بڑا چرچا تھا،لوگ جادو اور انبیاء ؑ کے معجزات میں فرق نہیں کرتے تھے اور انبیاء ؑ کو جادوگر کہتے تھے،تو اللہ نے اس شہر میں دو فرشتوں ھاروت اور ماروت کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھائیں اور ان کے سامنے جادو کی حقیقت کو واضح کریں۔تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ جادو کا خدائی معجزے سے کوئی تعلق نہیں،چنانچہ جب بھی ان فرشتوں کے پاس کوئی جادو سیکھنے کے لئے آتاتو یہ کہہ دیتے تھے کہ ہم تمہاری آزمائش کے لئے آئے ہیں لہذا تم کفر اختیار نہ کرو لیکن پھر بھی وہ لوگ جادو سیکھتے اور ان کی دلچسپی ان امور میں تھی جس وہ میاں بیوی میں جدائی اختیار کروا سکیں یعنی یہ ان کا اخلاقی زوال تھا کہ دوسرے کی بیوی کو اپنا عاشق بناتے تھے اور میاں بیوی میں جدائی کرواتے تھے جیسا آج بھی ہمارے معاشرے مین بعض جاہل لوگ ایسے کرتے ہیں،اسی طرح یہ جادو میں وہی سیکھتے تھے جس سے دوسرے نقصان ہو۔فرشتوں نے اللہ کی اجازت سے کچھ عرصہ انہیں جادو سکھایا پھر وہ آسمانوں پر تشریف لے گئے۔
وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاہُ……یہ لوگ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ جو لوگ جادو سیکھتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ان پر نفسانی خواہشات اس طرح چھائی ہوئی تھیں یہ پھر بھی جادو سیکھ کر اپنی آخرت برباد کرتے تھے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا کاش یہ لوگ حقیقت پہچان لیتے اور اپنی آخرت برباد نہ کرتے۔
قرآن پاک کی آیت کی روشنی میں اس واقعہ کی حقیقت ہے،ورنہ بہت سی اسرائیلی روایات مشہور ہیں،جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،مثال کے طور پر کہ فرشے ایک عورت کے عاشق ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔اس طرح کی تمام روایات من گھڑت ہیں
جادو کی شرعی حیثیت ان شاء اللہ کل کے درس میں بیان کی جائے گی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام ناجائز امور سے محفوظ رکھے،اور دین اسلام پر عمل پیرا ہونےکی توفیق عطافرمائے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے