Home / کالم / سوالی

سوالی

تحریر
صبا رانا
جھنگ صدر
📕📕📕📕

تٌو کسی در پہ گیا ہو تو خبر ہو تجھ کو
کس قدر _کارِ اذیّت ہے ســــــــــوالی ہونا…!!!

وہ بیمار بیٹا اٹھاۓ سڑکوں پہ یہاں وہاں لوگوں سے مانگ رہی تھی۔ وہ صدا لگا رہی تھی اللہ کے نام پہ ہی دے دو۔ مگر راستے میں ہر آنے جانے والا اپنی دھن میں مگن تھا۔
وہ ایک نظر بیٹے پہ ڈالتی اور دوسری نظر میں کسی کے دور سے آنے کی آس میں دیکھنے لگتی۔ مگر ناجانے کیوں کسی کو اس کا دکھ اس کا درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔

وہ سڑکے کے ایک کنارے گم صم بیٹھی تھی۔ کہ اشارے پاس چند گاڑیاں رکی۔ وہ گاڑیوں کی طرف بڑھی تو ایک گاڑی کے دروازے پہ دستک دی۔ مگر اندر بیٹھا شخص اپنے موباٸل میں گم تھا۔
اس نے ایک نظر دیکھ کے منہ دوسری طرف کرلیا مگر وہ مسلسل صدا لگاتی رہی کہ بیٹا بیمار ہے اللہ کے نام پہ مدد کردیجۓ۔ مگر وہ سسنے کو تیار نہ تھا۔ وہ شاید اسے پروفیشنل بھیکاری سمجھ رہا تھا۔ اشارا کھلا اور باقی تمام گاڑیاں بھی چل پڑی۔
اب وہ ایک کونے میں بیٹھ کہ رونے لگی اور بلند آواز سے اللہ سے شکوہ کرنے لگی۔ کہ اس کی زندگی میں ہی دکھ کیوں لکھا ہے۔ کیوں نہیں تیری دنیا ہمارا احساس کرتی۔ کیوں نہیں سنتا تو میری صدا۔ میری طرف مت دیکھ مگر میرے بچے کو بچا لے۔ مجھے اس کی زندگی لوٹا دے تین دن سے بخار میں تپ رہا ہے۔ اور آج صبح سے توبول بھی نہیں رہا۔ توں کیوں نہیں سن رہا اللہ کیوں وہ زور زور سے رونے لگی اور غنودگی کی حالت میں وہی بیٹھی رہی۔

اللہ بڑا بے نیاز ہے وہ رحیم ہے۔ وہ تو پتھر میں بھی کیڑے کو کھانا مہیہ کرتا ہے۔ تم تو ہھر آدم کی اولاد ہو۔ اس کے بندے ہو۔ اور وہ رب جو ستر ماٶں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے کسی کی صدا نہ سنے۔ وہ کیسے نہ اپنے بندے کی پکار پہ اس کو ٹھکراۓ۔
اللہ کی بارگاہ میں اس کے آنسو قبول ہوگۓ۔ ایک موٹر ساٸیکل سوار اس کے پاس کھڑا ہوا۔ پوچھا بہن کیوں رو رہی ہو۔ اس نے کہا کہ میرا بچہ بیمار ہے تین دن سے مگر یہاں کسی کو بھی احساس نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تو عیش کی ہرسکون گزار رہے ہیں انہیں کیا پتا مانگنے کا دکھ۔ موٹرساٸکل سوار نے کہا بہن۔ آپ پریشان نہ ہو۔ میں ڈاکٹر ہوں۔ اپنے کلینک کی طرف ہی جارہا تھا۔
اس نے کہاں میرا کلینک پاس ہی ہے آپ میرے ساتھ آجاو میں اس کا علاج کرتا ہوں۔ وہ فوراً کلینک چل پڑی اس ڈاکٹر نے بچے کا معاٸنہ کیا اور علاج شروع کردیا۔ اور بچے کی ماں کو کچھ رقم دی کہ آپ اس کے کھانے پینے کا انتظام کرلیجۓ گا۔ اور اپنا کارڈ بھی اس کو دیا کہ آج کے بعد جب کبھی بھی بچے کو پریشانی ہو۔ مجھ سے رابطہ کرلینا۔
ڈاکٹر کی بات سن کے۔ اس نے پاس پڑی کرسی پہ بیٹھ کہ سجدہ کیا۔ اور کہا کہ اللہ تو غفور رحیم ہے مجھے معاف فرما میں نے شکوہ کیا تجھ سے۔ تو بے شک اپنے بندوں سے ستر ماٶں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ خدا کا شکر کرنے کے بعداس نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا کہ آپ اللہ کے بھیجے گۓ فرشتے ہیں میرے لیے۔

التجا!
ہر کسی کو پروفیشل مانگنے والا نہ سمجھا کریں کچھ مجھبوری کے باعث بھی مانگتے ہیں جن کا دکھ صرف وہی سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ پاک اس ڈاکٹر کو جزاۓ خیر عطا کریں۔ اور ہمیں بھی نیکی کی توفیق عطا فرماٸیں آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے