Home / کالم / ویلنٹائن ڈے۔۔۔حقیقت کیا افسانہ کیا؟*

ویلنٹائن ڈے۔۔۔حقیقت کیا افسانہ کیا؟*

**تحریر:
رانا اسد منہاس*
📕📕📕📕
دنیا بھر میں ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام سے منایا جاتا ہے۔اس دن کو محبت کا دن قرار دیا گیا ہے۔لوگ اس دن اپنے محبت کرنے والوں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟یہ کس طرح رواج پایا؟اس کی تاریخ کیا ہے اور کتنی پرانی ہے؟اس کے بارے میں کئی واقعات مشہور ہیں،لیکن ان میں سے کوئی واقعہ بھی مستند نہیں ہے ان میں سے چند واقعات آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

انساٰئیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کے مطابق :
“اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے”
انسائیکلوپیڈیا بک آف نالج کے مطابق:
“ویلنٹائن ڈے محبوبوں کے لیے خاص دن ہے”
بک آف نالج اس واقعہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔
”ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا (Luper Calia) کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ’ویلن ٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔

سترہویں صدی کی ایک پراُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلن ٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے، اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کردیا۔“
( ’ویلنٹائن ڈے‘ از محمد عطاء اللہ صدیقی، ص ۳)

اس کے علاوہ ایک اور مشہور و معروف واقعہ جو ویلنٹائن نامی شخص کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے اس کے بارے میں بھی عطاءاللہ صدیقی مرحوم لکھتے ہیں:

”اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلن ٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد میں کچھ من چلوں نے ویلن ٹائن صاحب کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کردیا۔

چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔گزشتہ سال عیسائی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیئے۔ بنکاک میں تو ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کردیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہو رہے تھے۔
اس دن کا آغاز تو مغربی تہذیب سے ہی ہوا البتہ Media Globalization کی برکت سے وطن عزیز پاکستان میں بھی یہ دن ہر سال بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔14فروری کے قریب آتے ہی ویلنٹائن ڈے کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔میڈیا بھی اس دن کو خاصی اہمیت دیتا ہے اور اس دن کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔مرد و خواتین کا اختلاط ہوتا ہے۔لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ایک دوسرے کو سرخ پھول پیش کیے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔قارئین کرام اگر اس دن کو ہم دو لائنوں میں بیان کریں تو یو سمجھیں کہ نسل نو مقصد حیات سے غافل ہو کر بے ہودگی اور بےشرمی کے وہ کھیل کھیلتی نظر آتی ہے کہ شیطان بھی شرمندہ ہوتا نظر آتا ہے۔

ویلنٹائن ڈے کو اگر ہم مذہب اسلام کی روشنی میں دیکھیں تو مذہب اسلام فحاشی و عریانی اور بےحیائی پر مبنی اس طرح کے تہواروں کو منانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞
اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(سورۃ نمبر النور آیت نمبر 19) اس کے علاوہ صحیح البخاری میں حدیث ہے ” ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔اسی طرح قرآن و حدیث میں اور بھی بےشمار ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں بےحیائی پھیلانے کی سخت الفاظ میں مزمت موجود ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مذہب اسلام اس طرح کے تہواروں کی نفی کرتا ہے جن میں بےحیائی اور فحاشی و عریانی پروان چڑھے۔اس عنوان پر علماء کرام بہت دلائل دے چکے بہت سے مباحثے اور مناظرے ہو چکے لیکن بدقسمتی سے اس دن کے منانے پہ پابندی نہ لگ سکی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم اس دن کو ختم نہیں کروا سکتے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس دن کو منانے کے طریقے کو بدل سکتے ہیں۔ہم اس دن کو مثبت انداز میں منا کر بےحیائی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔اس دن کی برائیوں کا تزکرہ کرنے کی بجائے ان کے تدارک کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں بقول فیض احمد فیض
“شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا۔
اپنے حصے کی شمع تو جلاتے جاتے۔”
گزشتہ چند برس پہلے لاہور میں جمیعت طلبہ اسلام نے اس دن کو حیاء ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور تعلیمی اداروں میں طالبات کو حجاب گفٹ کیے گئے۔اس کے علاوہ گزشتہ سال فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی میں بھی اس دن کو حیاء ڈے کے طور پر منایا گیا اور یونیورسٹی میں مختلف اسلامک لٹریچر کے سٹالز لگائے گے اور طالبات کے لیے حجاب پیش کیے گئے۔گزشتہ سال جی۔سی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلباء نے اس دن کو محبت محمد رسول اللہ ﷺ کے طور پر منایا اور اس محبت کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے مختلف سیمینارز منعقد کیے گئے۔اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں نے اس دن کو مثبت انداز سے منانے کی کوشش کی۔سوشل میڈیا پہ بھی اس دن کو حیاء ڈے کے طور پر منانے پر زور دیا گیا۔
اس دن کو منانے کے حوالے سے ہم نے مختلف شخصیات کی رائے لی جن میں بیشتر تعداد طلباء اور اساتذہ کرام کی تھی۔تمام طلباء اور اساتذہ نے اس بات پہ ہی زور دیا کہ ہمیں اس دن کی سمت کو ہی بدلنا پڑے گا۔جی۔سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ ابلاغیات کے اساتذہ کرام کا یہ کہنا تھا کہ اس دن کو مثبت طریقے سے منانے کے حوالے سے میڈیا اپنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ لوگ میڈیا پہ خاصی نظر رکھتے ہیں اور میڈیا پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔لہٰذا میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مثبت پیغام لوگوں تک پہنچائے۔اکثر اساتذہ نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ اس دن کو نکاح ڈے کے طور پر منایا جائے جس میں نکاح کی اہمیت پہ زور دیا جائے اور برائی کو فروغ دینے کی بجائے وہ راستہ اختیار کیا جائے جس کا مذہب اسلام نے اختیار دیا ہے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے