Home / کالم / اسلام, موسیقی اور ہماری سوچ

اسلام, موسیقی اور ہماری سوچ

تحریر
بابرالیاس
چیف ایڈیٹر قلمدان ڈاٹ نیٹ ویب
📕📕📕📕📕📕📕📕📕
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں (خسف) یعنی زمین میں دھنس جانا ور (قذف) یعنی آسمان سے پتھر برسنا اور (مسخ) یعنی صورتوں کو بدل جانا واقع ہوگا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کب ہو گا؟فرمایاً جب گانے بجانے کی چیزیں اور گانے والیاں عام ہونگی اور شراب حلال ہو گی (ترمذی)۔ حضرت ابو عامر اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ضرور ایسے لوگ ہوں گے جو زنا اور ریشم کو شراب کو اور گانے بجانے کے سامان کو حلال کر لیں گے اور بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو ایک پہاڑ کے قریب قیام کریں ان کے جانور شام کو ان کے پاس پہنچا کریں گے ان کے پاس ایک شخص کسی ضرورت سے آئے گا تو اس سے کہیں گے کہ کل آنا اور ان کے آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک فرما دے گا اوران پر پہار گر پڑے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو قیامت کے دن تک کے لیے خنزیر بنادے گا (مشکوۃ المصابیح ص1456 /صحیح بخاری)۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گانا دل میں نفاق کو اگاتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے(مشکوۃ المصابیح ص 411) علامہ قرطبی اپنی تغیر (جلد نمبر 1میں ورق نمبر 288پر) سورۃ نبی اسرائیل کی آیت کے ذیل میں لکھے ہیں کہ ہر وہ آواز جو اللہ کی نافرمانی کی طرف بلائے وہ سب شیطان کی آواز ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد ؓ سے نقل کیا ہے کہ گانا بجانا اور گانے بجانے کی آوازیں یہ سب شیطان کی آوازیں ہیں لوگوں کو بہکانے اور ورغلانے اور راہ حق سے ہٹانے اور نماز و ذکر سے غافل کرنے کے طریقے جو شیطان اختیار کرتا ہے ان میں گانا بجانا بھی ہے۔ جن لوگوں کو شیطا نی کام پسند ہوتے ہیں ان کو گانے بجانے سے بہت محبت ہوتی ہے اور شیطانی کاموں میں ایسی چیزوں کی بہتات ہوتی ہے۔ ہندؤوں کے مندروں اور عیسائیوں کے گرجوں میں گانے بجانے کی چیزوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ جب کہ مداری تماشا دکھاتا ہے تو گانے بجانے سے شروع کرتا ہے۔ سینماؤں میں اور ٹی وی پر اور ریڈیو پر گانے بجانے پروگرام چلتے رہتے ہیں۔ لوگ ان سے بہت خوش ہیں، بچے بوڑھے، جوان غرض نوجوان عورتیں بھی گانے بجانے کے دلدادہ ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔ ورنہ یہ مسلمان معاشرے کا پرچار کرنے والے تھے، اہل علم تھے مفکر قسم کے لوگ تھے موسیقی کو روح کی غذا بتانے والے نہ تھے بلکہ روح کی دشمن بتانے والے تھے کیونکہ یہ ایک شیطانی عمل ہے اور میرے دوستو! شیطانی عمل سے روح کو تسکین نہیں مل سکتی بلکہ جذبات کو مجروح ہونے کا سبب ہوتی ہے، شریعت ِ اسلامیہ میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے تو کوئی بھی دلیل اس شیطانی عمل کو حلال نہیں کر سکتی۔ آج کے اس ترقی پذیر انسان نے جب اسلام اور کفر کی تمیز ختم کر دی اور خود ساختہ رسومات کو اپنے اندر جگہ دے دی اور قرآن وسنت کی پیروی کو جھٹلادیا اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات جو کہ صحابہ ؓ کی قربانیوں کے سبب ہم تک پہنچی ا ور افسوس کہ ہم ان تعلیمات سے منہ موڑ چکے ہیں۔ جو تعلیمات ہمارے اسلاف کا وطیرہ تھیں، اور ان ہی اسلامی تعلیمات کی بناء پر اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی۔بڑے افسوس کے ساتھ ہم آج اس بنیاد کو بنیاد بنا چکے ہیں۔ اور شیطانی کاموں کو اپنی روح کو غذا تصور کرتے ہیں اگر ایک پل کے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کی طرف توجہ کریں تو میں امید کرتاہوں کہ آپ کا دل ضرور خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ قیامت کے خیال کے ساتھ ہی اس بات کی طرف دھیان جاتا ہے کہ روز محشر کس منہ سے اللہ کے آخری پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کریں گے۔ میں تو اس خیال سے مزید لکھنے سے قاصر ہوں بس ایک واقعہ جو احسان دانش نے اپنی کتاب جہانِ دانش میں نقل کیا ہے آپ کی نظر کرتا ہوں۔ احسان دانش صاحب نے اپنی کتاب میں دہلی کے ایک جیب کترے کا واقع تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ دہلی میں ایک جیب کترا تھا جس نے اپنے کام کو سر انجام دینے کے لیے کچھ چیلے رکھے ہوئے تھے، جن میں سے ایک چیلا نوجوان اس کا بڑا لاڈلہ تھا کیونکہ وہ روز شام کو دوسرے چیلوں کی نسبت زیادہ کمائی کر کے واپس آتا تھا۔ ایک دن خلاف معمول وہ لاڈلہ چیلا جیب کترا نوجوان شام کو خالی ہاتھ اپنے گورو کے پاس آیا۔گورو نے اس سے پوچھا کہ آج تم خالی ہاتھ کیوں آئے ہو جبکہ تم سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ہو، تو اس نے جواب نے کہ استاد جی آج بہت بڑا ہاتھ مارا تھا، آج ڈالروں میں کمائی ہوئی تھی لیکن میں نے اسے واپس کر دی اور مزید وضاحت کرتے ہوئے اس نے کہا کہ استاد جی آج میں نے ایک عیسائی کی جیب کاٹی تھی لیکن اس کو اس خیال سے رقم واپس کر دی کہ اگر قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ ﷺ کے امتی نے میرے امتی کی جیب کاٹی ہے تو میں کس منہ سے اللہ کے نبی ﷺ کا سامنا کروں گا۔ قارئیں ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ایک جیب کترا اپنی سوچ کو تبدیل کر سکتا ہے اور راہ راست پر آگیا لیکن ہمیں سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اس پر عمل کرنے سے قاصر کیوں ہیں؟حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ
سلام میں ہر اس چیز کی روک تھام کی گئی ہے جس سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہوتا ہو۔ذہنی انتشار اور اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے والی مختلف چیزوں میں سے ایک موسیقی ہے جس کو لوگوں نے جواز بخشنے کے لیے روح کی غذا تک کے قاعدے کو لاگو کرنے کی کوشش کی ہے۔مصنف علمی اعتبار سے ایک بلند پایہ مقام کے حامل ہیں اور انہوں نے اس موضوع کی وضاحت میں اپنی تبحر علمی کے چند موتیوں کو نچھاور کرتے ہوئے اس موضوع کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ الحمد للہ کامیاب وکامران نظر آتے ہیں۔مصنف نے موسیقی کے حوالے سے ہر اعتبار سے گفتگو کرتے ہوئے قرآن وسنت کے دلائل سے موسیقی کی حرمت کے دلائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل،صحابہ کرام کا موسیقی کے خلاف عمل اور ان کے اقوال،صحابہ کے بعد تابعین کی زندگیوں سے موسیقی کی قباحت پر دلائل پیش کرتے ہوئے بعد میں آنے والے ائمہ کرام کے اقوال وافعال اور ان کی تعلیمات کی روشنی میں موسیقی کی حرمت کے بیش بہا دلائل کو اکٹھا کرکے ان لوگوں کا مسکت جواب پیش کیا ہے جو بودے استدلالات کے ساتھ موسیقی کو حلال وجائز کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ [31-لقمان:6] ”اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو لھو الحدیث خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو جہالت کے ساتھ اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں اور (دین اسلام سے ) استہزاء کریں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا۔“ [ سورة لقمان : 6] اس آیت مبارکہ میں لهو الحديث کی تشریح میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : الغناء والذي لا إله الا هو ’’ اس ذات کی قسم جس کے سوا دوسرا کوئی الہ نہیں ہے، اس آیت ميں لهو الحديث سے مراد غناء (گانا بجانا ) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه : 6؍309ح21123 وسنده حسن] اس اثر کو امام حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح کہا ہے۔ [ المستدرك : 2؍411ح3546] عکرمہ (تابعی) فرماتے ہیں : هو الغناء ’’ یہ غنا ( گانا) ہے۔“ [ مصنف ابن ابي شيبه 2؍310ح21127وسنده حسن] ✿ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے، جو کہ دین حق کے مخالف ہیں فرماتے ہیں :
وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ ”اور تم غفلت میں پڑے ہو۔“ [ 53-النجم:61] اس آیت کی تشریح میں مفسر قرآن حبر الامت امام عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : هو الغناء بالحميرية، اسمدي لنا : تغني لنا سامدون سے مراد حمیری زبان میں گانا بجانا ہے۔ اسمدي لنا کا مطلب ہے، ”ہمارے لئے گاؤ۔“ [السنن الكبري للبيهقي : 101؍223و سند قوي؍صحيح، رواه يحيي القطان عن سفيان الثوري به ] ❀ سیدنا ابوعامر یا ابومالک الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر و الحرير و الخمر و المعازف و لينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم يأ تيهم لحاجةفيقولون ارجع إلينا غدا فيبيتهم الله ويضع العلم و يمسخ آخرين قردة وخنازير إليٰ يوم القيامة
”میری امت میں ایسی قومیں ضرور پیدا ہوں گی جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گی اور بعض قومیں پہاڑ کے پاس رہتی ہوں گی اور جب شام کو اپنا ریوڑ لے کر واپس ہوں گی۔ اس وقت ان کے پاس کوئی ضرورت مند (فقیر ) آئے گا تو کہیں گے : کل صبح ہمارے پاس آؤ اللہ تعالیٰ انہیں رات کو ہی ہلاک کر دے گا اور پہاڑ کو گرا دے گا اور باقیوں کو بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ کر دے گا اور قیامت تک اسی حال میں رہیں گے۔“ [ صحيح بخاري : 2؍837ح5590، صحيح ابن حبان ح 6719 ] اس حدیث کے بارے میں شیخ ابن الصلاح فرماتے ہیں :
و الحديث صحيح معروف الاتصال بشرط الصحيح
یہ حدیث صحیح کی شرط کے ساتھ صحیح متصل مشہور ہے۔ [ مقدمه ابن الصلاح ص 90 مع شرح العراقي ] اس حدیث پر حافظ ابن حزم وغیرہ کی جرح مردود ہے۔
صحیحین [ صحيح بخاري، و صحيح مسلم ] کی تمام مرفوع باسند متصل روایات یقیناً صحیح اور قطعی الثبوت ہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله حرم عليكم الخمر و الميسر و الكوبة۔۔ كل مسكر حرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بے شک اللہ نے تمہارے اوپر شراب، جوا اور کُوبہ حرام کیا ہے اور فرمایا : ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔“ [ مسند احمد 2691، 350ح3274و إسناده صحيح ح 3274و سنن أبى داود : 3296 ] اس کے ایک راوی علی بن بذیمہ فرماتے ہیں کہ الكوبة سے مراد الطبل یعنی ڈھول ہے۔ [ سنن ابي داؤد : 2؍164ح و إسناده صحيح ] ❀ سیدنا عبداللہ بن عمر و العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله عزوجل حرم الخمر و الميسر و الكوبة والغبيراء و كل مسكر حرام ’’ بے شک اللہ عزوجل نے خمر (شراب) جوا، ڈھولکی بجانا اور مکی کی شراب حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔“ [مسند احمد چاروں اماموں اور دوسرے مجتہدین نے بھی موسیقی کے بارے میں واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ناجائز ہے اور بعض نے کھل کر اسے حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی ؒ نے تو یہاں تک کہا کہ جو شخص گانے اور موسیقی کا دلدادہ ہو اس کی شہادت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے اصحاب سے بھی موسیقی کے حرام ہونے کے اقوال ثابت ہیں ۔ امام مالک کے بارے میں آتا ہے کہ ان سے مدینہ کے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو گانے بجانے کے رسیا تھے تو انہوں نے فرمایا یہ مدینہ کے فاسق لوگ ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ رسول اکرمﷺ کے زمانے میں گانے گائے جاتے تھے اور آپ نے انہیں سناتھا یا اجازت دی تھی یہ قطعی طورپر غلط ہے۔ شاید ان لوگوں کا اشارہ ان بچیوں کے شعر کے گانے سے ہے جو مختلف مناسبات سے ثابت ہیں جیسے ہجرت کے موقع پر اور پھر عید وغیرہ کی مناسبت سے ثابت ہے۔ لیکن ان لڑکیوں کی شعر گوئی پر موجودہ دور کے فحش اور بے ہودہ گانوں کو قیاس کرنا درج ذیل وجوہ کی بنا پر بالکل باطل ہے۔
جو بچیاں حضور اکرم ﷺ کے زمانے یا آپ کی موجودگی میں شعر گا کر پڑھتی تھیں ان کے بارے میں دلائل سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ چھوٹی اور نابالغ بچیاں تھیں۔ ان معصوم بچیوں کے پاکیزہ اشعار پڑھنے کو موجودہ دور کی پیشہ رو گانے والیوں سے ملانا غلط ہے۔
اس دور میں جو شعر گوئی یا گانے کے واقعات ملتے ہیں ان میں سے کسی میں بھی موسیقی کے آلات کا ذکر نہیں ہے اور آج کل کی موسیقی کے سامنے جو گانے کا لازی جزوبن چکی ہے اس کو جائز کرنے کے لئے کسی روایت یا حدیث میں ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں۔ ہاں البتہ دف بجا کر اشعار پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے (دف و ڈھولک ہے جو صرف ایک طرف سے ہاتھ بجائی جاتی ہے) اس سے زیادہ کسی چیز کا ذکر تک نہیں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے