Home / کالم / مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے

مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے

تحریروتحقیق:
سجاد حسین
🌺🌺🌺🌺🌺
مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے جب ہم جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد میں جاتے ہیں تو وہاں پر موجود مولوی صاحب جب نمازیوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہی قصے کہانیاں سنانا شروع ہو جاتا ہے کہ فلاں نبی یا فلاں صحابی کے ساتھ یہ واقعہ ہوا اور انہوں نے فلاں کرامات و معجزات دکھائے۔ میں یہاں یہ کہنا انتہائی ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن مجید سے بڑا معجزہ کوئی ہے ہی نہیں۔ بحیثیتِ مسلمان ہمیں اپنی مساجد کے مولویوں سے کہنا چاہیے کہ آپ ممبر پر بیٹھ کر اپنے سامنے قرآن رکھیں اور اس میں جو ہمارا نصب العین یا ہمارا منشور ہے اس کی تعلیم ہمیں دیں ہم سے پہلی قوموں نے کیا غلطیاں کیں تھیں جن کی وجہ سے وہ نیست ونابود ہوگئیں اور اللہ پاک نے زندگی گزارنے کے لئے کیا ہدایات دیں ہیں۔ تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ دنیا کیوں تخلیق میں آئی اور اس دنیا میں ہمیں کس طرح کی زندگی گزارنی ہے؟ ہمیں حقوق العباد کے لئے پیدا کیا گیا مگر کیا ہم ان حقوقِ انسانی کو پورا کر رہیں ہیں؟ کیا ہمارے لئے اللہ پاک نے جو زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا ہے اس پر ہم عمل کر رہے ہیں؟ جب تک مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات اور احکامات پر عمل کیا تو انہوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کی اور آپ دیکھیں تو سب سے پہلے جنہوں نے میڈیکل اور ایجادات کیں وہ سب مسلمان تھے کیونکہ قرآن مجید میں انسانی تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ لیکن ! ایران کی فتح کے بعد ہمیں قرآن سے دور کرنے کی سازشوں نے جنم لیا اور ہمیں احادیث کے جال میں الجھا دیا گیا اور اس سازش کے تحت مسلمانوں کو ناکارہ کر دیا گیا۔ میں یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ احادیث سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا مگر احادیث کو چیک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اگر وہ قرآن کے معیار پر پوری اترتی ہے تو وہ درست ہے اگر وہ قرآن کی نفی کرتی ہے تو وہ غلط ہے۔ میں یہاں آپکو ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایک آئین نام کی چیز ہوتی ہے اور ملک میں جب بھی کوئی قانون بنایا جاتا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اس آئیں سے تصادم نہ کرے اگر کوئی ایسا قانون بنایا گیا ہے جو آئین سے تصادم کرتا ہے وہ قابل قبول نہیں ہوتا اور عدالتیں اسے ختم کرنے کا حکم جاری کر دیتی ہیں۔ تو ٹھیک بالکل اسہی طرح ہمارا آئین قرآن ہے اور کوئی بھی ایسی حدیث جو اس سے تصادم ہو وہ ایک مسلمان کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ تو میری آپ سب اس تحریر کو پڑھنے والے حضرات سے پرزور اپیل ہے کہ اس بات کو اتنا پھیلائیں کہ ہماری مساجد کے مولوی قرآن سامنے رکھ کر ہمیں صحیح راستے پر گامزن کریں اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے فرقہ بندی جیسے کفر سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ ہو سکتا ہے کئ لوگوں کو میری اس تحریر سے اتفاق نا ہو تو اپنے رستے پر ہی چل سکتا ہے اور جنھیں اتفاق ہو وہ اس کے لئے کوشش کریں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے