Home / کالم / سوائے توکل اور صبر کے!!

سوائے توکل اور صبر کے!!

تحریر ؤ انتخاب
طلحہ زبیر
🌺🌺🌺🌺
انسان کے اختیار میں سوائے توکل اور صبر کے کچھ بھی نہیں، باقی کام تو اللہ نے کرنا ہے۔ توکل کا تعلق توحید سے ہے اور صبر کا تعلق نفس کو روکنے سے ہے کے معیار سے ہٹ کر کوئی اقدام نہ اٹھائے جائیں۔ بعض لوگ توکل میں کامل ہوتے ہیں اللہ پر مگر صبر نہیں کر پاتے اپنے آپ کو معیار پر رکھنے پر۔ بعض بڑے معیاری معملات کے حامی ہوتے ہیں مگر توکل کمزور ہوتا ہے۔ اور ایک گروہ تو نہ توکل کرتا ہے اللہ پر اور نہ محنت کرکے معیاروں پر صبر۔ توکل کسی پر اعتماد کرنے کا نام ہے، اور یہ مشکل کام ہے اور ان دیکھے اللہ پر توکل میں کمزوری ہی شرک کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔ کیوں کے انسان جس پر اعتماد کرنا چاہتا ہے اسے دیکھنا بھی چاہتا ہے اس لئیے جب بھی انسان نے صبر کا دامن چھوڑا اللہ پر اعتماد کرنے سے، وہ شرک کے دلدل میں ہی گرا اور پھر شجر، حجر، صنم، وثن، حشرات، نبات، درخت یہاں تک کے زندہ ہو یہ مردہ انسان کی تاریخ رہی ہے کے اس نے ہر قسم کی حسی شئ اور غیر اللہ پر اعتماد کیا اور پھر اس سے بندگی اور عقیدت جوڑ کر اس کے آگے سر تسلیم خم ہو گیا۔ جنہوں نے ترقی کی راہ پر توحید کے اس اصول کی بلی نہیں چڑھائئ وہ ایک دوسرے مسئلے میں جاگرے اور وہ تھی بےصبری ایک آئن اور دستور کو ماننے کی اور یہ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جنہیں اصول اور ہدایات اپنی من مانی سے ماننے کا مرض ہوتا ہے، پچھلوں کے طریقے سے نہیں۔ اللہ پر اعتماد کامل ہو مگر نبی کی ہدایات سے چالو ہوں تو دوسری گمراہی بدعت ہے اور دین میں کیا، یہ مزاج موجودہ اداروں میں بھی پایا جاتا ہے کے کمپنی کی معین پالیسیوں سے لوگ چالو ہوتے ہی، اور فساد کی اصل بنیاد بنتے ہیں اپنے بے بنیاد اور من گھڑت اصول گھڑ کر تجرباتی مشاہدات کے سامنے۔ نفس کا ایک اور مرض ان مقدسات کی شان میں گستاخیاں ہیں یعنی صحابہ کرام جنہوں نے اس دین اور دستور کی اصل تعلیمات کو نقل کیا، نبی کی تنفیذ اور تشریح کو لفظ بلفط آگے پہنچایا، اس کی تفسیر اور اجتھاد کے اصولوں کی حفاظت کی اور دین کی کلیات اور جزئیات کے فہم کو اپنے شاگردوں میں منتقل کیا جو کام آج تک چلا آرہا ہے، جس کی بدولت دین کی تشریح اور تفسیر محفوظ ہے دور حاضر تک۔ ایک اور مرض کسی دستور کے جزء کو پکڑ کر کل بنا دینا یا اسے اصل مقصود قرار دینا ہے اور اس ترتیب کا خیال نہ رکھنا ہےجس کے تحت اللہ نے اہم، اول، اولی اور اعلی کی ترتیب کی بنیاد رکھی ہے اور نظم میں امت کے ہو یا اداروں اور خاندانوں کے فساد کی بڑی بنیاد یے اپنی ذاتی ترجیحات رکھنا عقائد، عبادات، معاملات، حاجات، ضروریات، تحسینات میں اور اس ترتیب کا لحاظ نہ رکھنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین صحابہ، تابعین اور ائمہ محدثین نے رکھا.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے