Home / کالم / غلط خیال

غلط خیال

انتخاب
قاسم غازی
🌺🌺🌺🌺
حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
بانی تنظیم الاخوان پاکستان

ہمارے ہاں لوگوں میں غلط خیال سرائیت کر گیا ہے کہ کام نہ کرنا پڑے اور سب کچھ مل جائے۔اسی لئے عاملوں ،جوگیوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں۔
میرے پاس ایک معزز سیاستدان تشریف لائے تو ان کے پاس کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا. اس پر آیتِ مبارکہ لکھی ہوئی تھی وہ یہ چاہتے تھے کہ مجھ سے یہ تصدیق کر لیں کہ یہ آیت اور اس کا وظیفہ درست ہے۔ کسی نے انہیں لکھ کر دی تھی کہ اس کا وظیفہ پڑھو تو تم وزیراعظم بن جاؤ گے۔ (وہ پہلےسے اسمبلی کے ممبر تھےاب وزارتِ عظمیٰ کے خواہش مند تھے).
میں نے ان سے کہا کہ جس نے یہ وظیفہ آپ کو بتایا ہےوہ خود پڑھ کر وزیراعظم کیوں نہیں بن جاتا۔ اسے تو یہ وظیفہ اپنے لئے پڑھنا چاہئے۔
ہمارے ہاں رویہ یہ ہے کہ کام کرنے کا درست طریقہ چھوڑ کر شارٹ کٹ ڈھونڈے جاتے ہیں۔لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی تعویز مل جائےاور ان کے کام ہو جائیں، کاروبار منافع بخش ہو جائے، گھریلو مسائل حل ہو جائیں وغیرہ۔ یہ رویہ صحیح نہیں۔
اللہ نے اسباب بنائے ہیں اور انہیں اپنانا ہی صحیح طریقہ ہے۔
لیکن ہم اللہ کریم کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتے۔ اللہ کے آگے سر جھکانا نہیں چاہتے۔ صلوةٰ کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں۔ دعا مانگنے سے دور ہیں۔ اس لئے کہ ہمیں دعا پر اعتبار ہی نہیں۔اسے اعتبار تو تب آئے جب کے طلب میں خلوص ہو۔ جو عمل بندہ خود کرتا ہے اس کی حقیقیت سے بھی آشنا ہوتا ہے اور جب ذہن کہیں اور ہو اور زبان کچھ اور الفاظ ادا کر رہی ہو تو ایسی دعا سے کیا ہوگا۔
ہمیں آج بندوں پر اعتبار ہے اس لئے فلاں کی منت کر لیتے ہیں خوشامد کر لیتے ہیں کہ کام ہو جائے گا۔ اللہ سے مانگنے پر اعتماد نہیں۔ اللہ سے نہ مانگنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم عملًا دوسروں کا حق چھین لیتے ہیں اس لئے اللہ سے اپنا حق نہیں مانگتے۔ ہماری آدھی دعائیں تو ظلم سے معمور ہوتی ہیں کہ فلاں کا بیٹا مر جائے، بیٹی بیمار ہو جائے۔ فلاں کا گھر گر جائےاور مجھے بیٹھے بٹھائے گھر مل جائے۔
دعا مانگنے کے بھی آداب ہیں اور شرعی حدود کے اندر دعا کرنی چاہئے۔ حدود سے متجاوز ہو کر دعا کرنا گستاخی ہے،جرم ہے۔کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو وسائل اختیار نہیں کرتے۔
ایک شخص شادی نہیں کرتا ہے ،غرباء کو اکٹھا کر کے دعا کرتا ہے کہ اللہ مجھے اولاد دے دے تو یہ دعا نہیں ،گستاخی ہے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے