Home / کالم / ھوس کا نشانه

ھوس کا نشانه

تحریر
محمد عباس ساجد
مرکزی چیئرمین پاکستان فیڈرل اتحاد یونین آف جرنلسٹ
📕📕📕📕📕📕📕📕📕
2016 سے لے کر 2019 تک صرف پاکستان میں دولاکھ 23 ھزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کےمردوں کی ھوس کا نشانه بنیں
اور تین لاکھ سے زیاده لڑکیوں نے اپنی نیوڈ پکس اور ویڈیو لڑکوں کو دیں
3 ھزار لڑکیاں ایسی ھیں جو محبت کے نام په ملنےگیئں اور لڑکوں نے الله کی قسم ماما کی قسم ڈیلیٹ کردوں گا کا ڈرامه کر کے پورن ویڈیو بنائی اور بعد میں ان کو اس ویڈیو کے زریعے بلیک میل کیا
بارھا اپنی ھوس پوری کی پیسےلیے اور دوستوں کی بھی ھوس پوری کروائی
کتنی ھی لڑکیوں نے خودکشی کی
کتنی ھی لڑکیوں کی ویڈیو اب بھی مختلف ویب سائٹ په گردش کررھی ھیں
کتنے ایسے کیس ھیں جو رپورٹ ھی نھیں ھوتے اور ماں باپ اپنی عزت کے مارے اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ھیں
کھتے ھیں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ھے اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھتا ھے
مگر افسوس یه ھے که اتنے کیس رپورٹ ھونے کے باوجود بھی لڑکیوں کو ھوش نھیں آئی
وه مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے په تلی ھوئی ھیں
صرف اک جملے کے آسرے په که میرے والا ایسا نھیں اور جب سب کچھ لٹا بیٹھتی ھیں تو سمجھ آتی ھے که میرے والا بھی ایسا ھی گھٹیا ھے

سوچنے کی بات یه ھے که اگر میرے والا یا تیرے والا اتنا ھی اچھا ھوتا تو میرا رب نامحرم رشتے حلال قرار دیتاجب دیور جیٹھ سارے کزن خالو پھوپھا جیسے رشتے جن کو آپ جانتی ھیں ان کونامحرم.قرار کیوں دیتا?
تو آپ سوشل میڈیا په گردش کرتے مردوں په کیسے بھروسه کرسکتی ھیں
کوئی بھی سمجھدار لڑکا کبھی بھی پهلے انبکس میسج نھیں کرے گا وه پھلے آپ کی پوسٹ په بڑی تھزیب کے ساتھ کومنٹ کرے گا ریپلائی میں جان پھچان بناۓ گا چار دن ریپلاۓ میں بات ھوگی پھر انبکس تک چلا جاۓ گا اور اس کے بعد جو ھوتا ھے سب کو پتا ھے
اس په لکھنے کو بھت کچھ ھے مگر فائده کوئی نھیں کیوں که اب تقریبا ھر گرل سوشل میڈیایوز کررھی ھے
آپ کو بھی حالات کی سنگینی کا اچھے سے علم ھے تو محترمه آپ صرف اس آسرے په ھیں که میرے والا ایسا نھیں
ھماری کسی کے ساتھ رشتے داری نھیں که ھم دعوی کر سکین اچھے برے کا اگر آپ پوسٹ په اچھا سمجھ کے دوستی یا محبت کررھی ھیں تو یه آپ کی زمے داری ھے نا که ھماری
عورت کو پردے کا حکم اسی لیے دیا گیا ھے که اس میں جنسی کشش زیاده ھے
تو عورت اپنے آپ کو ڈھانپ کے رکھے
اور مرد کی نفسانی خواھش کا اندازه اس بات سے لگایا جاسکتا ھے که اس کو چار شادیون تک کی بیک وقت اجازت ھے
مرد کے مقابلے میں عورت کی زمے داری زیاده ھے که وه اپنے آپ کو بچا کے رکھے
تو یاد رکھیں چاھے سوشل میڈیا ھو یا ریئل لائف آپ سب ھی محفوظ ھیں جب تک آپ کے لھجے میں کسی نامحرم کے لیے کوئی سوفٹ کارنر کوئی لچک نھیں
سوشل میڈیا لائف کا اک لازمی حصه ھے آپ پوسٹ بھی کرتی ھیں ریپلاۓ بھی دیتی ھیں
آپ نے خود سوچنا ھے که آپ کیا ریپلاۓ دے رھی ھو?
آپ اپنی عادت کیا بنارھی ھو
ایک پوسٹ په آپ کے کتنے فضول ریپلاۓ ھیں
کوئی کام کی بات ھوئی تو ریپلاۓ ٹھیک ھے پر بےتکی باتوں پر بھی بیس بیس ریپلائی?
خود سوچو محترمه ھم کس بربادی کی طرف جارھے ھیں
یاد دکھنا آپ کی عزت آپ کے ھاتھ میں ھے چاھے تو بچالیں چاھے تو نیلام کردیں
ابھی آپ کھیں واه عمداه گریٹ کیا پوسٹ کی ھے تو مجھے کسی کا لائک کومنٹ نھیں چاھیے اک احسان کرو
که اپنا آپ بچالو اور جن کا کام ھی یھی ھے ان کو مرچیں بھی لگیں گی یقینا
🙏🙏🙏میرے والا ایسا نھیں پلیز اس سوچ سے نکل آؤ
نامحرم کبھی مخلص نھیں ھوتا
اور جو مخلص ھوتا ھے وه نامحرم رھنے نھیں دیتا
آپ کو محرمه بنا کے اپنے گھر کی شھزادی بناتا ھے😢

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے