Home / کالم / دین اسلام اور ہماری بے حسی

دین اسلام اور ہماری بے حسی

تحریر
محمد عباس ساجد
مرکزی چیئرمین پاکستان فیڈرل اتحاد یونین آف جرنلسٹ
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
معذرت کے ساتھ میں گروپ میں خواتین کی وجہ سے تصاویر نہیں دیکھا سکتا سوچو یہ ابھی شروعات ہے ننگے ہونے کی یہ ایک دجالی نظام کی طرف اشارہ ہے اور ان سب کا ایجنڈا ایک ہی ہے
یہ ٹولہ اس وقت مختلف ناموں کے ساتھ پوری دنیا میں موجود ہے
یہ ایک سِسٹم ہیں جو نوجوانوں کو بگاڑا جارہا ہے جیسے
می_ٹو
میرا جسم میری مرضی
ایلومیناتی_ایجنڈا
دین سے دوری کسی بھی مذہب کو نہ ماننا،
عریانی . دوپٹہ غائب. جس کا دل چاہے وہ کپڑے پہنے جس کا نہ چاہے وہ ننگے گھومے،
شادی نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنا تعلقات قائم کرنا
مرد کی مرد سے عورت کی عورت سے شادی
زنا کو عام کرکے ایسا پیش کرنا کہ یہ نہ تو گناہ ہے نہ برا کام بلکہ یہ ایک چوائس ہے،
مطلب انسان کو جانور بنانا ہے جس میں نہ شرم ہو نہ حیا ہو نہ مذہبی پابندی نہ خاندانی پابندی نہ اخلاقی پابندی

ایک نسل تیار کی جا رہی ہے۔دنیا میں ورک آوٹ کے بعد پاکستان کی باری ہے اور ان سب کے پھیچے وہ اٹھارہ این جی اوز ہے جن پر پاکستان میں حال ہی میں پابندی عائد ہوچکی ہے مگر فنڈنگ اب بھی جاری ہے انکی طرف سے

باہر ممالک میں یہ لال لال لہرانے والے روڈوں پر ننگے گھومتے ہیں
روڈوں پر سب کے سامنے سیکس کرتے ہے
روڈوں پر ننگے ہوکر بچوں کو دودھ پلانے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ جس پر کھل کر بات کرنا ٹھیک نہیں،

آج کل پاکستان میں اسٹوڈنٹ کے نام پر ایک تحریک چل رہی ہے اور تحریک کا مطالبہ ہے آزادی؟

جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ انکا مطالبہ سیاسی آزادی ہے تو وہ بلکل غلط ہے یہ دراصل وہ آزادی مانگ رہے ہے جو باہر ممالک میں انکو حاصل ہے مطلب ننگی آزادی یونیورسٹیوں وغیرہ میں سکس اور فحاشی کو عام کرکے اسٹوڈنٹ اور نوجوان نسل کو بگاڑ کر اپنے دن مذہب اور اخلاقی اقدار سے دور کرنا
“جیسے کہ کچھ دن پہلے ہم تعلیمی اداروں میں کنڈم ریلی دیکھ چکے ہیں جس پر انتظامیہ نے سخت ردعمل دیا تھا”
جنس پرستی والی آزادی وائف وائف سواپنگ’ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی سمیت دیگر آزادی جس کے بارے عام بندہ سوچ بھی نہیں سکتا،

وائف سواپنگ اور ہم جنس پرستی کا کاروبار تو ویسا بھی پاکستان میں کہیں سالوں سے چل رہا ہے ڈارک ویب پر پورے پورے گروپ بنے ہوئے جن میں سپرالائنس گروپ سرپرست ہیں اور اس گروپ میں بڑے بڑے نام بھی شامل ہے جس پر میں زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا،

خواتین مارچ ہو اسٹوڈنٹ مارچ ہو یا پی ٹی ایم” ان سب کے پیچھے ایک ہی گروہ ہے اور وہ ہے امریکن ڈنمارک ناروے وغیرہ کے این جی اوز جو پاکستان میں فحاشی اور افراتفری چاہتے ہیں،

حکومت پاکستان اسٹوڈنٹ یونینز کی مشروط بحالی بارے سوچ رہی ہے” این جی اوز کا لاڈلا پی ٹی ایم کی ناکامی کے بعد این جی اوز کو یہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ مشروط بحالی کے بعد بھی اگر لال لال اسٹوڈنٹ نے کوئی حرکت کی تو حکومت کے پاس کاروائی کا پورا پورا اختیار ہوگا،

ڈارک ویب اور این جی اوز کیلئے کام کرنے والے صحافیوں سیاستدانوں پر کبھی تفصیل سے بات کریں گے

پوسٹ شئیر کرکے لوگوں کو اس فتنے سے بچائیں

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے