Home / اسلام / درس قرآن نمبر57**تعمیل احکام کی ضرورت*

درس قرآن نمبر57**تعمیل احکام کی ضرورت*

*مدرس:
محمد عثمان شجاع آبادی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ وَآتُواْ الزَّکَاۃَ وَارْکَعُواْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ٭أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ٭
ترجمہ: اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرو ٭ (یہ) کیا (عقل مندی کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کاکہتے ہو اور اپنے آپ کو فراموش کر دیتے ہو حالانکہ تم (اللہ تعالیٰ کی) کتاب بھی پڑھتے ہو کیا تم نہیں سمجھتے؟
*ربط:*
پچھلی آیات میں کتمان حق سے روکاگیا تھا جو کہ ایمان لانے کا پہلا تقاضا تھا ان آیات میں اوراحکام کی تعمیل کا حکم دیا جارہاہے۔
*تفسیر:*
ان آیات مبارکہ میں یہود کو حکم دیا جارہا ہے کہ جب تم ایمان لاتے ہو تو تورات کے مطابق مکمل ایمان لاؤ،ایمان لانے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ تم حق بات نہ چھپاؤ جیسا کہ اس سے پہلے والی آیات میں حکم دیا گیا ہے،ان آیات میں یہ کہا جارہا ہے کہ ایمان لانے کا دوسراتقاضاہے کہ تم اعمال صالحہ اختیار کرو، تم باجماعت نماز پڑھا کرو،اسلام سے پہلے کسی مذہب میں نماز باجماعت کا حکم نہیں تھا،یہ اسلام کی خصوصیت ہے گویا کہ یہ بتایا جارہا ہے کہ صرف ایمان لانے سے نجات ممکن نہیں ہے بلکہ تمام اصولوں میں نبی آخرالزماں کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
وَارْکَعُواْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ……رکوع کے لغوی معنی ہیں ”جھکنا‘‘ اس اعتبار سے یہ لفظ سجدے پر بھی بولا جاتاہے کیوں سجدہ جھکنے کے انتہائی درجہ ہے،رکوع کا یہاں خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے وجہ یہ ہے کہ رکوع اسلامی نماز کی خصوصیت ہے،اس سے پہلے یہود کی نماز میں رکوع نہیں تھا،اور راکعین سے مسلمانوں کی نماز مرادہوگی،کہ تم بھی مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھومطلب یہ ہے کہ جماعت سے نماز پڑھو۔…… مَعَ الرَّاکِعِیْنَ……کے الفاظ سے کہا جارہاہے کہ تم جماعت کے ساتھ نماز پڑھو۔
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُم……ان آیات میں ان لوگوں سے خطاب ہے اوران لوگوں کی مذمت کی جارہی ہے جو دوسروں کو تو تبلیغ کرتے ہیں لیکن خود کو بھول جاتے ہیں جیسا کہ علمائے یہود کہ وہ اپنے رشتہ داروں کویہ تلقین کرتے تھے کہ تم محمدﷺ پر ایمان لاؤ،ان کی پیروی کرو،مگر خود وہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے،احادیث میں کثرت سے ایسے واعظوں کے بارے میں ہولناک وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو دوسروں کو تو نیک عمل کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے،حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبان آگ کی قینچی سے کاٹے جارہے تھے،میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ یہ آپ کی امت کے دنیا دارواعظ ہیں جو لوگوں کو تو نصیحت کرتے تھے لیکن خود کو بھول جاتے تھے۔ایک اورحدیث مبارکہ میں حضورﷺ نے فرمایا بعض جنتی لوگ بعض دوزخی لوگوں کو دیکھ کر پوچھیں گے کہ تم اس آگ میں کیسے آگئے؟ہم تو تمہارے بتائے ہوئے نیک اعمال پر عمل کرکے جنت میں آگئے ہیں۔تو وہ دوزخی جواب دیں گے کہ ہم زبان سے تو کہتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔
اب اس آیت سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ بے عمل لوگ وعظ کرنا چھوڑ دیں بلکہ اس آیت میں یہ سمجھایا جارہاہے کہ تم وعظ کرنے کے ساتھ ساتھ عمل بھی کروکیوں کہ بے عمل واعظ کے وعظ میں تاثیر نہیں ہوتی اورآج ہمارا حال بھی یہی ہے،ایک طرف ہمارے اکابرین تھے کہ جن کی سوانح میں لکھاہے کہ ایک شخص حضرت مولانااحمد علی لاہوریؒ کے درس میں اس نیت سے آیا کہ درس کے بعد موقع ملتے ہی حضرت کو شہید کردوں گا،لیکن درس میں اتنی تاثیر تھی کہ وہ شخص اپنے اس برے ارادے سے بھی بعض رہا اورتوبہ کرکے حضرت کے مریدین میں شامل ہوگیا۔یہ باعمل ہونے کی تاثیر تھی کہ دشمن بھی دوست بن گئے۔اللہ ہمیں اکابرین جیسا تقوی نصیب فرمائے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیحت کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کی بھی توفیق عطافرمائے۔آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے