Home / اسلام / وہاڑی میں مدفون صحابہ کرامؓ؟

وہاڑی میں مدفون صحابہ کرامؓ؟

تحریر:
عبدالرؤف
📙📕📙📕📙📕

ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی کے جنوب مشرق میں 13 کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے ستلج کے کنارے ”فتح پور“ قصبہ آباد ہے۔ اس قصبہ کے قبرستان میں چار دیواری میں تین قبریں موجود ہیں جن کے متعلق اہل علاقہ اور مقامی علماء کرام کا کہنا ہے کہ یہ تینوں قبور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی ہیں۔

جب یہ دعوی کیا جاتا ہے تو مجھ سمیت ہر صاحب ایمان کے دل میں مختلف سوالات جنم لینے لگ جاتے ہیں کہ اہل علاقہ کو کیسے معلوم کہ یہی قبریں صحابہؓ کی ہیں؟ یا ان کو کیسے پتا کہ یہ صحابہ کرامؓ ہیں کیونکہ وہاں کسی صحابی کا نام یا تعارف موجود نہیں ہے۔ ہمارے ذہن میں بھی یہ تمام سوالات موجود تھے، ہم نے یہی سوالات اہل علاقہ سے بھی کیے تو انہوں نے کچھ یوں بیان کیا۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ حضرات قریب دریائے ستلج کے کنارے قبرستان میں مدفون تھے، لیکن جب بھی دریا میں پانی آتا تو وہ اپنا احاطہ بڑھاتا جاتا، یہاں تک کہ دریا ان حضرات کی قبور کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ فتح پور کے قریب ہی ایک علاقہ ہے ”چوں جانڑیاں“ اس علاقے میں آج سے تقریباً ایک صدی قبل ایک بزرگ عالم دین میاں عنایت اللہ مرحوم نے خواب دیکھا۔

خواب میں ان حضرات نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں اور اصحاب میں سے ہیں، ہمیں پانی سے پریشانی ہورہی ہے ہمیں یہاں سے کسی اور جگہ منتقل کر دیں۔ اب جب وہ بیدار ہوئے تو ان کے لیے امتیاز کرنا مشکل ہوگیا کہ قبرستان میں کون سی قبور ان حضرات کی ہیں۔ بدستور تین دن تک ان بزرگوں کو خواب آتا رہا۔

آخری دن بزرگوں نے گزارش کی ہمیں قبروں کی تعیین نہیں ہورہی اس لیے ہم ڈھونڈ نہیں پائے، تو خواب میں ہی ان حضرات نے ان قبور پر خط کھینچا۔ جب صبح وہ وہاں پہنچے تو دیکھا ان قبور پر وہ خط موجود تھا۔ تعیین کے بعد ان حضرات کو دریائے ستلج کے کنارے موجود قبروں سے نکالا گیا، اس وقت کے تمام اہلیان علاقہ نے ان معزز حضرات کی زیارت کی، جن کا جسم بھی بالکل ترو تازہ تھا اور کفن بھی بالکل صاف ستھرا تھا۔ بالآخر ان حضرات کو فتح پور کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ اس چار دیواری میں تین قبریں موجود ہیں جبکہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں چار صحابہ کرامؓ مدفون ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے دو صحابہؓ ایک ساتھ یعنی ایک ہی قبر میں دفون تھے اس لیے یہاں بھی ان کو اسی طرح دفن کر دیا گیا۔ یہ دوسری جگہ منتقل کرنے کا واقعہ آج سے تقریباً 95 یا 95 سال قبل پیش آیا۔

یہاں تک اہل علاقہ کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ وہاں کوئی علامت یا تعارف موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حاضری کی سعادت نصیب فرمائی، ایک چیز قابل غور ہے جو ہم تمام دوست احباب نے محسوس کی اور واپسی پر ایک دوسرے نے بیان کی۔ وہ چیز یہ تھی کہ اس علاقے میں شدید سردی تھی اوپر سے ٹھنڈی ہواؤں کا تسلسل مزید پریشان کر رہا تھا۔ سردی کا یہ عالم تھا کہ قبرستان کے قریب جب ہم گاڑی سے اترے تو بدن کانپ رہا تھا۔ لیکن زمینوں سے ہوتے اور قبرستان سے گزرتے جب ہم اس چار دیواری میں داخل ہوئے تو ہم نے ادب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے جوتے پیچھے ہی اتار دیے۔ ہم اس چار دیواری میں تقریباً آدھ گھنٹہ کے لگ بھگ رکے رہے لیکن محسوس تک نہیں ہوا کہ سردی ہے یا سردی کا موسم ہے۔ اس قدر شدید سردی ہو پھر جوتا بھی اتارا ہو تو زمین کی ٹھنڈک دماغ کو جام کر دیتی ہے لیکن وہاں کچھ اور ہی سسٹم چل رہا تھا۔
واللہ أعلم بالثواب

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے