Home / کالم / قسط 10 ( Love for all )محبت سب سے

قسط 10 ( Love for all )محبت سب سے

قادیانیوں کے دعوی کی حقیقت
مولف:
مجاہد ختم نبوت
مولانا افتخاراللہ شاکر
نائب امیر سوم انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ

ترتیب وتحریر: امداد اللہ طیب
ممبر مرکزی میڈیا سیل
اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان
۔

قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا

ومبشرا برسول یاتی من بعد السمہ احمد

اور میں ایک رسول کی خوشخبری دینے کے لئے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہوگا

اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سادہ اور غیور مسلمانو سنو
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ اس آیت سے میرے آنے کی پیش گوئی ہے اور احمد سے مراد میں ہوں
ازالہ الاوہام طبع اول ص نمبر 673

چنانچہ تمام قادیانی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس آیت میں احمد سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے

قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود احمد بشیر الدین نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے 27 دسمبر 1915 کو ایک مستقل تقریر کی جو اس کی نظر ثانی کے بعد انوارخلافت میں چھپی

مرزا بشیر الدین محمود احمد کہتا ہے
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا مسیح موعود کا نام احمد تھا یا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کیا سورہ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا بشارت دی گئی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق
میرا یعنی بشیرالدین محمود کا عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا لفظ جو قرآن کریم میں آیا ہے مرزا غلام احمد کے متعلق ہے انوارخلافت 1916
ص نمبر 18
نوٹ
یہ شرمناک اشتعال انگیز جگر سوز ناپاک جسارت اس حد تک بڑی کہ ایک قادیانی مبلغ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ اسمہ احمد کے عنوان سے اس نے 1934 کے سالانہ جلسہ قادیان میں ایک مفصل تقریر کی جو الگ شائع ہوئی اس میں اس نے صرف یہی دعویٰ نہیں کیا کہ مذکورہ آیت میں احمد سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے مرزا غلام احمد ہے بلکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سورہ صف میں صحابہ کرام کو فتح و نصرت کی جتنی بشارتیں دی گئی ہیں وہ صحابہ کرام کے متعلق نہیں ہیں قادیانی جماعت کے متعلق تھی

چنانچہ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتا ہے
پس یہ آخر کتنی بے بہا نعمت ہے جس کی صحابہ تمنا کرتے رہے مگر وہ اسے حاصل نہ کر سکے اور آپ کو مل رہی ہے
بحوالہ اسمہ احمد ص نمبر74 مطبوعہ قادیان 1934

مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء کرام کی توہین کرتے ہوئے سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے لکھا ہے کہ یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا ایک سبب تو یہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام شراب پیاکرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے
بحوالہ کشتی نوح حاشیہء 120 مطبوعہ ربوا

خیر جناب والا میں تو یہ بتانے چلا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو خیر سے بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کا بھی خاص طبقہ قادیانوں کے اخلاق اور ملنسار ہونے کا بڑا شور مچاتے ہیں یہاں صرف ان کے اس فریب سے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو آگاہ کرنا مقصود ہے ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیوں کا باب علیحدہ ہے
کلمہ گو کی تکفیر و اہل قبلہ کی تکفیر
قادیانیوں کی طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے سامنے ایک بڑا مغالطہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ جو شخص کلمہ گو ہو اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہو کسی بھی شخص کو اسے کافر قرار دینے کا حق نہیں پہنچتا یہاں دیکھنا یہ ہے کہ قادیانیوں کا سب سے بڑا دھوکہ کیا ہے؟

کیونکہ قادیانی دنیا جہاں کے 70کروڑ سے زائد مسلمانوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کھلم کھلا کافر کہتے ہیں تو جو کلمہ محمد رسول اللہ کا پڑھنے والا اور تمام دینی تقاضوں پر صحیح معنوں میں ایمان رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج شکی بدطینت یہاں تک کنجریوں کی اولاد قرار دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے گویا ہر کلمہ گو کو مسلمان کہنا یکطرفہ حکم ہے جو صرف غیر احمدیوں پر عائد ہوتا ہے

اور خود مرزائی حضرات کو چھٹی ہے کہ وہ مسلمانوں کو کتنے شدومد سے کافر کہیں خواہ انہیں بازاری گالیاں دیں خواہ انبیاء اکرام علیہم السلام اور صحابہ کرام جیسی مقدس شخصیات کی ناموس پر حملہ آور ہوں ان کے اسلام پر کوئی فرق نہیں آتا؟ نہ اور نہ ان پر کلمہ گو کو کافر کہنے کا الزام لگ سکتا ہے؟ یہ ہے اس قادیانی مذہب کا انصاف جو شرم حیا اور دیانت و اخلاق کا منہ نوچ کر اپنے آپ کو روحانیت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ثانی قرار دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے