Home / کالم / کیا امریکی صدر ہم جنس پرست ؟

کیا امریکی صدر ہم جنس پرست ؟

تحریر
راجہ نوید حسین
🐥🐥🐥🐥🐥🐥

ہمارا معاشرہ اپنے ماضی کے فیصلوں کو آئین کے ترازو میں تول رہا ہے ۔لیکن دنیا کی سپر پاور ریاست متحدہ امریکہ کے حالیہ صدار تی الیکشن میں سامنے آنے والے دس امیدواروں کی فہرست میں ایک ہم جنس پرست کا نام آج کل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ایک وہ وقت تھا کہ سابق امریکی صدر جارج بش نے امریکی آئین میں تبدیلی کرنے کی ضرورت محسوس کی تاکہ ہم جنس شادیوں پر پابندی لاگو کی جا سکے ۔ یورپی ممالک کی دیکھا دیکھی امریکہ میں بھی ہم جنس پرستوں کی شادیوں عام ہوتی نظر آنے پر ہے ماضی میں صدر بش کی رائے کو سا منے رکھتے ہوئے ان کو بھی مذہبی تصور کیا جاتا تھا، تاہم انہوں نے یہ بیان اس لئے دیا کہ امریکی انتخابات میں انہیں اس کا فائدہ حاصل ہوسکے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہم جنس شادیاں عام ہوئی ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ قدامت پسند مذہبی لوگ اس حوالے سے فکرمند ہیں۔ بی بی سی کی میڈیا رپورٹ کے مطابق دوسال قبل سربیا کی پہلی ہم جنس پرست وزیراعظم سربیا جیسے قدامت پسند ملک میں اب سے چند برس قبل تک شاید یہ ممکن نہ ہوتا کہ کسی ہم جنس پرست کو اس عہدے پر مقرر کیا جائے تاہم سربیا چونکہ یورپی یونین کی رکنیت کا خواہاں ہے اس لیے اس طرح کے اقدامات سے وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ملک میں رواداری میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن اس کے ردعمل میں امریکہ سابق صدر جارج بش کو سابق صدر بِل کلِنٹن کی جماعت ڈیموکریٹِک پارٹی کے کارکنوں نے صدر بش کے بیان پر شدید تنقید کی بھی کی تھی اور اس حوالے سے مبصرین کا کہنا تھا کہ آئین میں تبدیلی کرکے ہم جنس شادیوں پر پابندی لگانے سے شخصی اور معاشرتی آزادی کو دھچکا لگے گا۔ ریاست متحدہ امریکہ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی الیکشن کی فہرست میں شامل دس لوگوں میں سے 37 سالہ ایک نوجوان پیٹ بوٹے جج کا بھی ہے یہ جج ہم جنس پسندی کے حامل ہیں اور انہوں نے ایک دوسرے مرد 30 سالہ چیسٹن بوٹے جج سے شادی بھی کر رکھی ہے۔ معاملہ دلچسپ میں ماضی میں بھی ایسی خبریں زیر بحث رہی ہے ۔ڈیموکریٹک پارٹی سے صدارتی امیدوار بننے کے اعلان کے بعد سے یہ بحث شروع ہے کہ کیا امریکی قوم اس کے لیے تیار ہے کہ کوئی ہم جنس پسند اُن کے ملک امریکا کا صدر بن جائے۔ پیٹ بوٹے جج کی اہلیت کو انڈیانا ریاست کے شہر ساؤتھ بینڈ کے میئر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ تقریر کرتے ہوئے پیٹ بوٹے جج نے کہا کہ بطور ہم جنس پسند ہونے کے وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ اُن کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے اور وہ اس جنسی رویے کی بدولت ہی اس ملک کے ساتھ ایک زوردار تعلق قائم کر سکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یقینا یہ بات درست ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی مہم کے منتظمین میں شامل پال ٹوز درست اندازہ لگا رہے ہیں کہ دنیا اس صورت حال پر یقینی طور آنکھیں لگا کر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ کامیابی کی صورت میں یہ پیغام جائے گا کہ رویے اہم نہیں ہوتے بلکہ لوگ جس کو پسند کریں گے وہی امریکا کا صدر ہو گا۔یہ بات بھی تعجب سے خالی نہیں کہ آئیووا کے بہت سے عمر رسیدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کوئی ہم جنس پسند امیدوار کرتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ بنتا ہے ۔ اس ریاست میں پہلے جماعتی الیکشن یا پرائمری (کاکیسز) کا انعقاد تین فروری سن 2020 کو ہو گا آئیووا ریاست میں منعقد کی جانے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے پہلے داخلی الیکشن پر نظریں ابھی سے جم چکی ہیں ریاست میں پیٹ بوٹے جج نے اپنی بھرپور مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
روزنامہ پاکستان میں 2016 کو یہ خبر شائع کی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر سلمان العودا انٹرنیشنل یونین فار مسلم سکالرز کے رکن ہیں اور وہ اسلام ٹوڈے کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ واضح رہے کہ ان سے قبل تیونس کے مشہور مذہبی سکالر راشد غنوچی بھی اسی قسم کی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔ فرانسیسی صحافی الیویئر راوانیلو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ”ہم، ہم جنس پرستی کی حمایت نہیں کرتے، لیکن اسلام لوگوں کی جاسوسی نہیں کرتا۔ یہ نجی زندگی کا تحفظ کرتا ہے۔ ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور ہر کوئی اس کے لئے اپنے خالق کے سامنے جواب دہ ہے۔ گو کہ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو انیس سو ساٹھ سے قبل عالمی سطح پر اس طرح کی حرکتوں یا قوانین کے حوالے سے حوصلہ شکنی دیکھنے میں نظر آتی تھی کیونکہ پڑوسی ممالک براہ راست امریکی جنگی حکمت عملی سے متاثر ہوتا ہے اور دوسری جانب ایک اور سپر پاور ظاہر ہونے والا پڑوسی ملک معاشی اور تجارتی ٹکر میں امریکہ کے مدمقابل ہیں لہذا سیاسی صورتحال سے آگاہی اور عالمی مبصرین کی رائے اردو ناظرین کا حق ہے ورنہ مذکورہ بالا خیلات کو راقم گناہ کبیرہ اور ایک لنعت سمجھتا ہے اللہ پاک ہماری اس سے حفاظت فرمائے

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے