Home / اردو ادب / ہمسفر کوئی نہ تھا

ہمسفر کوئی نہ تھا

غزل
انتخاب
فوزیہ فیصل

دور تک جانا تھا مجھ کو ہمسفر کوئی نہ تھا
ہر طرف پھیلے مکاں تھے گھر مگر کوئی نہ تھا

دھوپ کی یلغار سے جھلسی ہوئی تھیں تتلیاں
شاخِ گل کا کیا تصور جب شجر کوئی نہ تھا

عکس بندی کررہی تھی کیمرے کی آنکھ بھی
مجھ پہ جب طوفان ٹوٹا بـے خبر کوئی نہ تھا

آگ لگ جائے کہیں انگلی اٹھے میری طرف
یعنی اِس دنیا میں مجھ سا معتبر کوئی نہ تھا

جینے والوں میں نمایاں مرنے والوں میں بھی پیش
میں ہی میں تھا اور مجھ سے پیشتر، کوئی نہ تھا

آخرش مجھ پر کُھلا، خوش فہمیوں کا ہوں شکار
درحقیقت میرے جیسا دربدر کوئی نہ تھا

ساتھ میرے پیش آنے والا ہر قصہ *انؔیس*
اک مکمل داستاں تھی، مختصر کوئی نہ تھا

✍🏻 (انؔیس بھٹکلی کرناٹک، ہندوستان)

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے