Home / کالم / بارش

بارش

انتخاب
مبشر علی زیدی

بارش صبح سے ہورہی تھی۔ رات تک رکنے کے آثار نہیں تھے۔ میں سوچتا رہا کہ ہیرس برگ جاؤں یا نہیں؟ میں بارش میں گاڑی چلانے سے نہیں گھبراتا۔ رات کو ڈرائیو کرنے سے بھی نہیں۔ لیکن تنہا طویل ڈرائیو بے مزہ کام ہے۔
ایک بات اچھی ہے کہ شمالی ورجینیا سے ہیرس برگ ایک ہی سڑک جاتی ہے۔ زیادہ موڑ نہیں کاٹنا پڑتے۔ میں راستے میں سوچتا رہا کہ ہیرس برگ پاکستان میں ہوتا تو اس کا کیا نام رکھا جاتا؟ حارث آباد، حارث والہ، ٹنڈو حارث، حارث گڑھ، حارث پور!
امریکا میں بھی شہروں کے لیے اسی طرح کے سابقے لاحقے ہیں۔ انگٹن جیسے واشنگٹن، آرلنگٹن، ہنٹنگٹن، ول جیسے سینٹر ول، روک ول، پولز ول اور برگ جیسے لیزبرگ، فریڈرکزبرگ اور ہیرس برگ۔
ہیرس برگ ورجینیا کا نہیں، ریاست پنسلوانیا کا شہر ہے، بلکہ اس کا دارالحکومت۔ یہ دریائے سسکیہینا کے کنارے واقع ہے۔ میری منزل اس کا تاریخی مڈٹاؤن اسکالر بک اسٹور تھا۔ کچھ بارش اور کچھ ٹریفک کی وجہ سے میں شام ساڑھے پانچ بجے پہنچا۔ جس تقریب کے لیے گیا تھا، وہ سات بجے شروع ہونی تھی۔ میرا خیال یہی تھا کہ میں جلدی پہنچ گیا لیکن وہاں اس وقت بھی ایک قطار لگی ہوئی تھی۔
میں نے ایک بڑے میاں سے پوچھا، بزرگوار! ایک ڈیڑھ گھنٹا پہلے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ انھوں نے کہا، صاحب زادے، مجھے مت چھیڑو اور جلدی سے قطار کے آخر میں لگ جاؤ۔ بعد میں نہ کہنا کہ صحیح وقت پر صحیح مشورہ نہیں دیا۔
میں سامنے سب وے سے برگر خریدنا چاہ رہا تھا لیکن بڑے میاں کی بات سن کر قطار میں لگ گیا۔ واقعی کچھ دیر میں بہت سے لوگ آگئے اور قطار ایک میل لمبی ہوگئی۔ سردی زیادہ تھی اور بارش بھی ہورہی تھی لیکن لڑکے لڑکیاں، بوڑھے انکل اور آنٹیاں چھتریاں تھامے نہایت صبر سے کھڑے رہے۔
پونے سات بجے دروازہ کھلا اور جلدی آجانے والوں کو گراؤنڈ فلور کے ہال میں کرسیوں پر بیٹھنے کا موقع دیا گیا۔ بعد میں آنے والوں کو گیلری میں یا سیڑھیوں پر جگہ ملی اور باقی کھڑے رہنے پر مجبور ہوئے۔
ہیرس برگ چھوٹا شہر سہی لیکن مڈٹاؤن اسکالر بک اسٹور کتابوں کی بہت بڑی دکان ہے۔ یہاں ایک لاکھ نئی پرانی اور نایاب کتابیں موجود ہیں۔ آن لائن فروخت کے لیے دستیاب کتابوں کی تعداد دس لاکھ ہے۔ کتابوں سے محبت کرنے والوں کے لیے اس کا ماحول کسی سنہرے خواب جیسا ہے۔ آئے دن ادبی تقریبات بھی ہوتی رہتی ہیں اور بڑے بڑے ادیب یہاں آکر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
میں نے اپنے دائیں بائیں موجود لوگوں کو دیکھا۔ وہ سب ناول نگار سلمان رشدی کو دیکھنے اور ان کی باتیں سننے کے لیے بے قرار تھے۔ میرا خیال تھا کہ کچھ ہندوستانی پاکستانی بھی انھیں سننے آئیں گے۔ ممکن ہے کہ دو چار دیسی آئے ہوں لیکن کم از کم مجھے کوئی دکھائی نہیں دیا۔ رشدی آئے تو سب نے تالیاں بجاکر ان کا پرجوش استقبال کیا۔
تقریب سے پہلے ایک خاتون بار بار اسٹیج پر چڑھتی تھیں، اترتی تھیں، کبھی کسی کو مخاطب کرتیں، کبھی کسی سے بات کرتیں۔ پتا چلا کہ وہی اس گفتگو کی میزبان ہیں۔ ان کا نام کیسی سیپ تھا اور وہ خود بھی ناول نگار ہیں۔ ان کا ناول فیورئیس آورز نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلرز لسٹ میں شامل رہا ہے۔
سلمان رشدی کی گفتگو دلچسپ تھی۔ میں ان کے بارے میں اتنا ہی جانتا تھا جتنا کوئی عام پاکستانی جان سکتا ہے۔ یعنی ایک ناول کے بعد ان پر توہین مذہب کا الزام لگا اور امام خمینی نے قتل کا فتویٰ دیا۔ عام پاکستانی ان کے ادبی مقام، ان کی شخصیت، ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔
مجھے گمان تھا کہ تنہائی اور دنیا سے چھپ کر گزاری ہوئی زندگی کی وجہ سے سلمان رشدی نفسیاتی مریض بن چکے ہوں گے۔ ان کی ہر بات تلخ ہوگی اور وہ مذہب پر مسلسل طنز کرتے ہوں گے۔ وہ مسکرانا بھول چکے ہوں گے اور لوگوں کا ہجوم دیکھ کر گھبرا جاتے ہوں گے۔
یہ سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔ میں نے اسٹیج پر ایک خوش مزاج، گہری سوچ اور شاندار حس مزاح والا ادیب دیکھا۔ ادیب سوچ سوچ کر جملے لکھتے ہیں اور محفل میں بولنے کے لیے ون لائنرز الگ پوٹلی میں باندھ کر لاتے ہیں۔ رشدی کی بے تکلفانہ گفتگو میں ان کی محنت کے بغیر دلچسپ جملے آرہے تھے اور لوگ بہت محظوظ ہورہے تھے۔
ایک بار انھوں نے کہا، ‘‘میرے بعض مبینہ دوست کہتے ہیں کہ۔۔۔‘‘ حاضرین نے مبینہ دوستوں کی اصطلاح پر داد دی۔ انھوں نے کہا، ’’میں جاسوسی ناول لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ بہت سے جاسوسوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ امریکی جاسوسوں کو، برطانوی جاسوسوں کو، فرانسیسی جاسوسوں کو۔ فرانسیسی جاسوس بھی دوسروں جیسے ہوتے ہیں، سوائے اس کے کہ نشے میں دھت رہتے ہیں۔‘‘ اس پر سب خوب ہنسے۔ کیسی نے سوال کیا، ناول نگار اپنی کہانی میں خود بھی موجود ہوتا ہے۔ آپ اس ناول میں کہاں ہیں؟ لوگ شاید سمجھ رہے تھے کہ رشدی کسی مرد کردار کا نام لیں گے۔ اس کے بجائے انھوں نے کہا، ’’آپ بھول رہی ہیں کہ ناول کی ایک کردار کا نام سلمیٰ آر تھا۔ میرے اور اس کے نام میں بس ایک ہی حرف تو کم ہے۔‘‘
جب انھوں نے کہا کہ وہ کار کے ذریعے پورے امریکا کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو حاضرین نے تالیاں بجاکر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ میرے ساتھ بیٹھی خاتون نے زور سے آواز لگاکر کہا کہ یہ سفر ضرور کریں۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کو امید ہوتی ہے کہ ادیب سفر کرے گا تو انھیں دلچسپ کتاب پڑھنے کو ملے گی۔
رشدی نے عام لوگوں کے سوالات کے بھی جواب دیے اور معلوم ہوا کہ وہ پختہ سیاسی شعور کے حامل ہیں۔ انھوں نے زینوفوبیا پر تفصیل سے گفتگو کی اور ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے نہیں ہچکچائے۔ مختلف ملکوں کی سیاست کس طرح قوم پرستی اور نسلی برتری کے احساس کا شکار ہورہی ہے، انھوں نے اس کا عمدہ تجزیہ کیا۔
جب ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ کیا ادیب اس رجحان کو روکنے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ فکشن کوئی حل پیش نہیں کرتا لیکن سچ کو جاننے کے راستے پر لے جاتا ہے۔
میں نے ایک دلچسپ بات نوٹ کی کہ سلمان رشدی گفتگو کرتے ہوئے اپنی ناک کو دائیں طرف موڑتے ہیں۔ ہم جب ناک سکیڑتے ہیں تو دراصل ہونٹوں کو استعمال کرتے ہیں۔ انھیں ہونٹ سکیڑے بغیر ناک ہلاتے دیکھنا عجیب نظارہ تھا۔
تقریب میں آنے والے تمام افراد کو رشدی کی دستخط کی ہوئی کتاب دی گئی۔ لیکن سب نے ایک بار پھر قطار بنائی اور باری باری دستخطوں کے اوپر اپنا نام لکھوایا۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے