Home / کالم / میامی مشن

میامی مشن

انتخاب
وقار احمد چودھری ۔

کل ہمارا شوٹنگ ڈے تھا شوٹنگ ڈے سے مراد ہے ہم لوگوں کو میامی پولیس نے ہمارا فائر اچھا کروانے کی پریکٹس کروانی تھی (اس سے یہ مراد ہر گز نہیں ہے، کہ انہوں نے ہمیں شوٹ کرنا تھا ہم بفضل خدا صحیح سلامت ہیں) اس کے لئے ہمیں ایک بار پھر میامی ڈیڈ پبلک سیفٹی انسٹیوٹ لے جایا گیا ، اف اللہ ، یہ کیسا ٹریننگ انسٹیوٹ ہے ، کیا ستم ظریفی ہے، کہ ٹریننگ انسٹیوٹ کے باہر مسلح گارڈ ہی کوئی نہیں گیٹ ہر وقت کھلا رہتا ہے، ٹھک ٹھک سیلوٹ کی کوئی آواز ہی نہیں آرہی، ماسوائے زیرتربیت جوانوں کے یہاں ہم نے کسی کو وردی میں نہیں دیکھا ان تین دنوں میں ہم نے اپنے انسٹرکٹر وں کو بھی بغیر وردی کے ہی دیکھا ۔
میامی ڈیڈ کا فائرنگ رینج ہمارے ملک کے ٹریننگ سنٹرز کے فائرنگ رینج جیسا ہی تھا ، پہلے کلاس روم میں انہوں نے ہمیں اس اسلحے کے بارے بریفنگ دی جو ہم نے فائرنگ میں استعمال کرنا تھا ہمیں اچھے فائر کی چند مفید ٹپس دینے کے ساتھ ہمیں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ ہر بندہ 500 فائر کرے گا ، ہمیں ایک ایک ہولسٹر دیا گیا فائرنگ رینج پہنچ کر سب میں “کلاک ” پستول ( یہ پستول عارضی طور پر دیئے گئے تھے ) ، اور گولیاں تقسیم کی گئیں ،ایک ایک عینک اور سٹاپر ( کانوں میں ٹھونسنے والے ربڑ کے سٹاپر تا کہ آواز کی گونج کم ہو سکے) کہ یہاں فائرنگ کے دوران ان دونوں چیزوں کا استعمال لازمی کیا جاتا ہے ۔
کل تو ہمارے اعصاب کا خوب امتحان لیا گیا ، وہی فائرنگ رینج میں ہمارے کھڑے کھڑے بارش بھی شروع ہو گئی ان ظالموں کو پھر بھی ہم پر رحم نہ آیا وہ خود بھی بارش میں بھیگتے رہے ہمیں بھی بھی اپنے ساتھ خوب بھگویا ۔
میامی ڈیڈ کی پولیس بہت ہی پیشہ وار اور منظم ہے ان سب کی فائر کی مہارت قابل رشک تھی جو تکنیک انہوں نے ہمیں سکھائیں اب وہ ہمارے لئے اثاثہ بن چکی ہیں ان تکنیک کا مستقبل میں خاطر خواہ مثبت نتائج نکلیں گے کل تقریبا 4 گھنٹوں تک ہم لوگ مختلف زاویوں سے اور مختلف طریقوں سے فائرنگ کرتے رہے ، حلال ڈنر کے بعد فائرنگ کا ایک اور سیشن ہوا۔
میامی امریکہ کی جنوب مشرقی ریاست فلوریڈا میں واقع ہے اور یہ بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ہے اس کی وجہ شہرت “بیچ ” ہے یہاں سے کیوبا کی سرحد سب سے زیادہ قریب ہے اس کے علاوہ بھاماس اور میکسیکو کی سرحدیں بھی قریب ہیں اس لئے میامی پولیس کو ہزاروں تارکین وطن سے روزانہ نبٹنا پڑتا ہے جو غیر قانونی طور پر اپنے بہتر مستقبل کی خاطر امریکا آنا چاہتے ہیں امریکا ایک سحر ہے جس نے سب کو جکڑ رکھا ہے اور ہو کوئی امریکا کے اس سحر میں مبتلا ہے حالانکہ اس کرہ ارض پر بہت سے ایسے ملک ہیں جو امریکا سے زیادہ خوشحال ہیں ، ان کی فی کس آمدنی بھی امریکا سے زیادہ ہے سہولیات بھی یہاں کی نسبت زیادہ ہیں پھر بھی ہر کوئی امریکا آنا چاہتا ہے اور اگر ملک کیوبا اور میکسیکو جیسے غریب ملک ہوں اور امریکا ان کے بالکل پہلو میں ہو تو ہر کیوبن اور میکسیکین ہی امریکا آنا چاہے گا بہت سے کیوبین ،میکسیکین اور جنوبی امریکا کے کئی ممالک کے تارکین وطن امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں آباد ہیں اسی لئے اب انگریزی کے بعد ہسپانوی امریکا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے’ ابھی میں مزید بھی لکھتا ، ایک ایسی ہی تارکین وطن فیملی میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی ہے مجھے کوشش کرنے دیں شاید میرا امریکا میں میرا مستقبل بھی روشن ہو جائے تب تک آپ اگلی قسط کا انتظار کریں ۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے