Home / اسلام / درس قرآن نمبر52* *حضرت آدمؑ کا دنیا میں نزول*

درس قرآن نمبر52* *حضرت آدمؑ کا دنیا میں نزول*

*مدرس:
محمد عثمان شجاع آبادی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فَأَزَلَّہُمَا الشَّیْْطَانُ عَنْہَا فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَقُلْنَا اہْبِطُواْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِیْ الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِیْن٭
ترجمہ: پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھِسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکال کررہاتب ہم نے حکم دیا کہ (جنت بریں سے) چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے۔
*ربط* :
پچھلی آیت میں حضرت آدمؑ کے جنت میں قیام کا ذکر تھااس آیت میں حضرت آدمؑ کے دنیا میں قیام کا ذکر ہے۔
*تفسیر* :
حضرت آدمؑ جب جنت میں عیش ونشاط کی زندگی گزارنے لگے یہ بات شیطان کو ناگوار گزری،اس نے حضرت آدم ؑ سے یہ زندگی کا آرام و سکون لینے کی کوششیں شروع کردیں۔ایک دن حضرت آدمؑ اوراماں حوا کے پاس گیا اور کہنے لگاکہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں،میں اللہ کی قسم کھاتاہوں،اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ درخت کھانے سے منع اس لئے کیا تھا کہ اس وقت آپ کی تخلیق نئی نئی ہوئی آپ کی صحت اس پھل کو برداشت کرنے صلاحیت نہیں تھیں،اب جنت میں رہ کر آپ کے اعضاء قوی ہوچکے ہیں لہذا اب اس پھل کو کھاسکتے ہیں،اوراس پھل کو کھانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ ہمیشہ ہمیشہ اس جنت میں رہیں گے اورہمیشہ آپ کو اللہ کاقرب حاصل رہے گا،اب حضرت آدم ؑ اوراماں حوا نے سوچا کہ ابلیس اگرچہ دربارِ الہی سے دھتکار دیا گیا ہے لیکن یہ اللہ کی قسم کھا کر جھوٹ نہیں بول سکتاتواس کے بہکاوے میں آکر حضرت آدم اور اماں حوا نے اس ممنوعہ درخت کا پھل کھالیاتو جیسے ہی پھل کھایا تو ان کا جنت کا لباس اترنے لگاپھر دونوں کا احساس ہوا کہ ہم خطاء ہوگئی۔
وَقُلْنَا اہْبِطُواْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِیْ الأَرْض……اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان اورحضرت آدم ؑ سے فرمایا کہ اب آپ سب زمین پر اتر جائیں ……بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ……زمین پر تم ایک دوسرے کے دشمن بنے رہو گے،اس جملے کی تفسیر علماء نے دو طرح سے کی ہے(۱)اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اور انسان ایک دوسرے کے دشمن بنے رہیں گے ہمیشہ شیطان انسانوں کو گمراہ کرتا رہے گاجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا”شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے“(۲) اس جملے کا مطلب یہ بھی ہے کہ شیطان تو تمہارا دشمن ہے یہ تو حضرت آدمؑ کو سجدے والے دن ہی پتا لگ گیا تھا،اب آپ جب دنیا میں بھیجے جا رہے ہیں تو شیطان کے ساتھ ساتھ تم انسان بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جاؤگے،آج اگر ہم اپنے حالات دیکھیں تو واقعی شیطان تو ہمارادشمن ہے ہی ہم انسان بھی ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں،ہم مسلمان اخلاقی طور پراس قدر زوال اور پستی کا شکار ہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں،آج ہمارے اندر قومی عصبتیں پھر سے لوٹ آئی ہیں،نسبی تفاخر ہم میں پھر سے آگیا ہے حالانکہ رسول اللہﷺ نے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے،یک جسم یک جان ہیں لیکن افسوس ہماری نااتفاقی نے ہمیں دوسری اقوام کا غلام بنادیا ہے اگر ہم اپنی عظمت رفتہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اتفاق واتحاد سے رہنا ہوگا۔
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اتفاق سے رہنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

4 comments

  1. Avatar

    Very rapidly this web site will be famous among all blogging people, due to it’s good posts

  2. Avatar

    There is definately a great deal to know about
    this topic. I love all the points
    you made. https://www.myozen.ca

  3. Avatar

    I’d like to find out more? I’d want to find out some additional information.

  4. Avatar

    If some one desires to be updated with newest technologies after
    that he must be go to see this web site and be up to date every
    day. https://parbriz-auto-bucuresti.ro/parbriz.html

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے