Home / کالم / تعمیرِ معاشرہ میں استاد کی اہمیت

تعمیرِ معاشرہ میں استاد کی اہمیت

تعمیرِ معاشرہ میں استاد کی اہمیت اور والدین کی ذمہ داری……….!!
تحریر
احتشام_الحسن_چکوال

تعمیرِ معاشرہ مں اساتذہ کی قربانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔سردی ہو یا گرمی، خوشی ہو یا غم، طبیعت ٹھیک ہویا خراب….. سکول پہنچنا ہے…. پڑھانا…. کسی وجہ سے غیر حاضری ہوجائے تو نہ جاکر بھی ٹینشن ہوتی ہے کہ میرے گھنٹے کا کیا بنے گا۔سبق رہ گیا….. بچوں کا کتنا وقت ضائع ہوگا۔

ہمہ وقت اسی فکر میں ہوتے ہیں۔…. بچے کیسے پڑھیں گے انہیں کیسے پڑھایا جائے…. جو ذہن ہیں ان کو مزید کیسے آگے بڑھایا جائے…. جو کمزور ہیں ان کو کیسے سمجھایا جائے، انہیں کیسے چلایا جائے…… کسی کا کوئی اخلاقی مسئلہ ہے تو اس کی تربیت کیسے ہی جائے…….. کسی کو سبق سمجھ نہیں آرہا یا یاد نہیں ہورہا تو اس کی کیا وجہ ہے….. کوئی ذاتی مسئلہ ہے یا پھر گھر کا کوئی مسئلہ۔

غرض استاد اپنے شاگردوں کی اپنے بچوں طرح دیکھ بھال اور تریبت کرتا ہے۔جب کہ استاد کا اس میں کوئی مفاد نہیں ہوتا…… استاد صرف اپنا سبق ہی رٹین کا پڑھا دے تو اسے پھر بھی تنخواہ ملے گی…… یہ بھی نہیں ہے کہ یہ بچے کچھ بن کر کل اساتذہ کو کما کر دیں گے….. نہیں ہر گز نہیں…… استاد صرف اپنے شاگردوں کا بھلا سوچتا ہے کہ یہ پڑھ کر کچھ بن جائیں…… معاشرے کے ایک اچھے فرد بن کر معاشرے میں نکھار پیدا کریں…….. آنے والی نسل کی اچھی تربیت کے اہل بن جائیں۔

اس سب کے باوجود آج معاشرہ استاد کو ایک ملازم کی نظر سے دیکھتا ہے……. استاد نے بچے کی تربیت کے لیے اسے ڈانٹ دیا یا اسے سزا دے دی، جیسے اس نے جرم کر دیا۔مانا کہ استاد سے بھی غلطی ہوجاتی ہے، آخر وہ بھی انسان ہے….. ہم یہ نہیں سوچتے کہ بچے روزانہ مسجد یا مدرسے جاتا ہے، سکول اور ٹیوشن جاتا ہے، دن میں گھر پر کم ہی ہوتا ہے، صرف ایک چھٹی والے دن مکمل گھر ہوتے ہیں تو سارے گھر کو سر پر اٹھایا ہوتا ہے، ہم تنگ ہوجاتے ہیں، ایسے موقع پر سوچنا چاہیے کہ ہم سے ایک دن میں ایک نہیں سنبھالا جاتا تو اس استاد اور قاری صاحب پر کیا گزرتی ہوگی جن کے پاس یہ سارے بچے جمع ہوجاتے ہیں، پھر بھی ہمارا گلا شکوا ختم نہیں ہوتا۔

جب ہم استاد کو عزت نہیں دیں گے تو بچے خاک عزت دیں گے۔جب بچے دل میں استاد کی ہوئی عزت اور ادب و احترام نہیں ہوگا تو وہ تربیت کہاں سیکھے گا….؟!!تعلیم اداروں کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں ہوتا، وہ تربیت گاہ ہوتی ہے، وہاں ایک اچھا انسان تیار ہوتا ہے….. یہ اسی وقت ہوتا ہے جب والدین اساتذہ کے ساتھ تعاون کریں گے…..ہمیں اپنے بچے کے بارے میں فکر نہیں ہے تو استاد کہاں فکر کرے گا……. جب ہم اپنے بچوں کو سزا ملنے پر استاد کو ڈانٹ دیں گے تو استاد آئندہ اسے اہمیت دے گا…….؟!!استاد بھی آخر انسان ہوتا ہے….. جو ہم پر گزرتی ہے وہ بھی اسی طرح محسوس کرتا ہے۔

بچوں کی تربیت میں ہمیں سنجیدہ ہونا چاہیے…… آج بچے کچھ سختی میں وقت گزار دیں گے تو کل پوری زندگی وہ سکھی رہیں……. اگر آج ہم نے ان کی مان کر، ان کے لاڈ اٹھا کر ان کی تربیت سے غفلت برتی تو آنے والی زندگی ہر پل ان کے لیے دشوار ہوگا، ان پر پہاڑ بن کر ٹوٹے گا۔آج ہم اداروں پر نالاں ہوتے ہیں کہ یہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے، اپنے کاموں میں غفلت برتتے ہیں، لیکن یہ کبھی نہیں سوچا کہ آج کے یہ بچے ہی کل ان اداروں کو چلانے والے ہوں گے، اگر آج ہم نے ان کی تربیت کی تو ان اداروں میں بہتری آسکتی ہے وگرنہ اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم ایک اچھا معاشرہ دیکھنے کے خواب دیکھتے ہیں تو وہ خواب شرمندہ تعبیر تبھی ہوسکتا ہے جب ہم اساتذہ کے ساتھ تعاون کرکے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں گے، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ہمیں اپنی ذمہ دار کا احساس کرنا چاہیے اور اسے بحسن خوبی نبھانا چاہیے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

2 comments

  1. Avatar

    Hi everyone, it’s my first pay a quick visit at this web page,
    and paragraph iis truly fruitful in support of me, keep up
    posting such articles or reviews.

  2. Avatar

    My brother suggested I might like this website. He was entirely
    right. This submit actually made my day. You cann’t
    believe simply how much time I had spent for this info! Thank you!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے