Home / کالم / زیادتی

زیادتی

*زیادتی کے بڑھتے کیس!اسباب اور حل*

* تحریر:
محمد عثمان شجاع آبادی*

ارض پاک میں بنت حوا کی عزت روزانہ تارتار ہوتی ہے۔کبھی تو یہ دلخراش واقعہ رپورٹ ہوجاتاہے اور کبھی عزت بچانے کی خاطر بنت حوا چپ سادھ لیتی ہے اس طرح ظالموں کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔ہمیں ان واقعات کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان اسباب کو بھی دیکھنا چاہیے جو ایسے واقعات میں اضافے کاسبب بن رہے ہیں۔ہمارے معاشرے میں ایسے عناصر اور جرائم میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟اس کی پہلی وجہ ہمارے معاشرتی اقدار۔جو عفیفہ اس بہیمانہ فعل کی شکار ہوتی ہے ہمارامعاشرہ اسے مظلوم تصور کرنے بجائے اسے قصوروار ٹھہراتاہے اور پوری زندگی اس کے لئے کلنک لگادی جاتی ہے وہ بیچاری اپنی عزت بچانے کے لئے خاموش ہوجاتی ہے،اس ظالمانہ رویہ کی وجہ سے وہ واقعات منظر عام پر نہیں آسکتے جو گھروں میں ہوتے ہیں اور ہی دب کر رہ جاتے ہیں اوراس سے ظالموں کو شہہ ملتی ہے اور وہ نئے شکار کی تلاش کرتے ہیں۔دوسری وجہ انصاف کی عدم فراہمی ہے،زیادتی یا گینگ ریپ کے ملزمان کے خلاف انصاف کے تقاضوں کے مطابق کاروائی نہیں کی جاتی،ملزمان اپنے سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے اکثر بچ جاتے ہیں یاپھر دولت کا بے دریغ استعمال کرکے مظلوموں کی آواز کو دبا دیتے ہیں۔تیسری وجہ وڈیرہ شاہی یا پنچائیت کے غیر منصفانہ فیصلے ہیں جن میں کم عمر لڑکیوں کی عمر رسیدہ مردوں سے شادی کرنااسی طرح قتل کے مقدموں میں لڑکیاں دے کر قاتلوں کو معاف کروانا،یہ ایسے اقدام ہیں جن میں مخالف پارٹی بدلہ لینے کے لئے قتل یااجتماعی زیادتی جیسے گھناؤنے فعل کا ارتکاب کرتی ہے۔چوتھی وجہ شادیوں میں تاخیر ہے،جنسی خواہش کو پورا کرنا انسانی فطرت کا تقاضاہے جسے پورا کرنے کے لئے اسلام اور باقی مذاہب نے شادی کرنے کاحکم دیا ہے،اسلام نے تو شادی کو آسان بنایاہے تاکہ جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے حلال طریقہ اختیار کیا جائے لیکن ہمارے معاشرے کی ظالمانہ اور غیر شرعی رسومات نے شادی کو بہت مشکل بنا دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل غیر فطری افعال کی طرف متوجہ ہوتی ہے یا پھر اس طرح کے جرائم میں ملوث ہوجاتی ہے۔
ان واقعات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ پر پورن، فلم اورڈرامہ انڈسٹری ہے۔کوئی بھی ذی عقل شخص اس امر سے انکار نہیں کرسکتاکہ فلموں میں فلمائے گئے آئیٹم سونگزہماری جنسی خواہش کو ابھارتے ہیں اس انڈسٹری میں فیشن کے نام پر اپنے جسم کی نمائش کے لئے جو لباس زیب تن کیا جاتاہے ایک سلیم الفطرت انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔سلور سکرین پر یہ جتنی بھی حرکات کی جاتی ہیں یہ سب جنسی ہراسانی کی مختلف شکلیں ہیں جن کا ہمیں احساس نہیں ہوتااس وجہ ہم سمجھانے والوں کوقدامت پسند کہہ کر خود کو مطمئن کرلیتے ہیں۔ان تمام وجوہات کے ہوتے ہوئے ہم کسی بھی صورت میں ان کیسز میں اضافے کو نہیں روک سکتے۔
ان وجوہات کے سدباب کے لئے ہمیں سب سے پہلے انٹرنیٹ پر موجود تما م فحش ویب سائٹس پر سینسر لگانا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی سلور سکرین پر ہونے والی نازیباحرکات پر بھی سنسر لگانا ہوگا۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے وطن عزیز میں ہماری ماؤں،بیٹیوں اور بہنوں کی عزت محفوظ رہے تو ہمیں اسلامی معاشرہ تشکیل دینا ہوگا،ہمیں (sexual education)بنیادی جنسی تعلیم دینے کے بجائے اسلامی تعلیم دینی چاہیے۔حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا ہے کہ عورت کی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ اسے سورۃ النسا ء اور سورۃ النور کی تعلیم دی جائے۔اسی طرح مردوں کو بھی ان سورتوں کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے سامنے عورت کا مقام واضح ہوسکے،اور وہ ماں،بہن،بیٹی اور بیوی جیسے مقدس رشتہ کو پہچان سکے۔
ان واقعات کی روک تھام کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے،لاہور موٹر وے کے واقعے کے بعدمحترم جناب وزیراعظم پاکستان نے یہ اعلان کیا کہ ایسے مجرمین کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور انہوں کی آختہ کاری کی سزا کی تجویز دی ہے۔ان کی تجویز بھی سرآنکھوں پر لیکن اس سے پہلے قانون میں جو سزائیں (حدود آرڈیننس وغیرہ) موجود ہیں اگر ان پر ایمانداری سے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عملدرآمد کیاجائے توکسی نئی سزا کی ضرورت نہیں رہتی۔ہمیں بحثیت مسلمان و پاکستانی شہری کے خود بھی ذمہ دار بننا چاہیے اور ایسے واقعات کی روک تھا م کے لئے قانون کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے