Home / اسلام / مَنظرِجنگِ

مَنظرِجنگِ

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنفال ، اٰیت 42 تا 44 ))) 🌹
مَنظرِجنگِ بدر اور مقامِ جنگِ بدر !! 🌹ازقلم…خترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 اذانتم
بالعدوة الدنیا
وھم بالعدوة القصوٰی
والرکب اسفل منکم ولوا عدتم
لاختلفتم فی المیعٰد ولٰکن لیقضی اللہ
امرا کان مفعولا لیھلک من ھلک عن بینة ویحیٰی
من حی عن بینة وان اللہ لسمیع علیم 42 اذیریکھم اللہ
فی منامک قلا ولوارٰکھم کثیرا لّفشلتم ولتنازعتم فی الامر ولٰکن
اللہ سلّم انہ علیم بذات الصدور 43 واذیریکموھم اذاالتقیتم فی اعینکم
قلیلا ویقللکم فی اعینھم لیقضی الامراکان مفعولا والی اللہ ترجع الامور 44
اے ایمان اور اَمن و اَمان کے حامل لوگو ! دُشمن کے ساتھ تُمہارے پہلے ٹکراؤ کا وہ پہلا یادگار منظر یہ تھا کہ مدینے کے قریب کی ایک اُونچی جگہ پر تُم موجُود تھے ، دُوسری طرف دُور کی ایک اُُونچی جگہ پر تُمہارا دُشمن موجُود تھا اور اِن دونوں بلندیوں کے وسطی نشیب سے وہ تجارتی قافلہ گزر رہا تھا جو اِس مقام پر تُم دونوں کے ٹکراؤ کا باعث تھا ، اگر اِس وقت تُم جنگ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیۓ ایک دُوسرے کے ساتھ مُشاورت کرتے تو تُم ایک دُوسرے کے ساتھ باہمی اختلاف میں اُلجھ جاتے اور مقررہ وقت پر اِس مقام تک نہ پُہنچ پاتے جہاں پر پُہنچنا تُمہارے لیۓ لازم ہو چکا تھا ، کیونکہ اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آج تُم دونوں کے درمیان حق و باطل کی پہچان کے لیۓ ایک فیصلہ کُن معرکہ ہو جاۓ تاکہ جس نے مرنا ھے وہ حق کی ایک دلیل کے ساتھ مرے اور جس نے جینا ھے وہ بھی حق کی ایک دلیل کے ساتھ جیۓ ، اللہ تُم دونوں کے دل کی دھڑکنوں کو سُن رہا تھا اور تُم دونوں کے ٹُوٹ ٹُوٹ کر جُڑتے اور جُڑ جُڑ کر ٹُوٹتے ہوۓ خیالات کو بھی جانتا تھا اور اے محمد ! آپ کی زندگی کا وہ لَمحہ بھی قابلِ ذکر تاریخی لَمحہ تھا جب حق و باطل کے اِس معرکے کے بارے ھم نے آپ کو ایک خواب دکھایا تھا اور اُس خواب میں ھم نے آپ کی دُشمن کی تعداد کم دکھا کر آپ کا حوصلہ بڑھایا تھا ، اگر ھم آپ کو دُشمن کی صحیح تعداد زیادہ دکھاتے تو آپ اپنی جنگی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوۓ اِس معرکے سے پہلو تہی کر جاتے لیکن اللہ جو انسانی سینے کے اَحوال کو جانتا ھے وہ بہر طور انسان سے اپنی مشیت کے مطابق عمل کراتا ھے اور پھر آپ کی زندگی کا وہ لَمحہ بھی ایک یادگار لَمحہ تھا جب عین میدانِ جنگ میں اللہ نے آپ کی آنکھوں کو دُشمن تعدادد کم دکھائ اور آپ کے دُشمن کو آپ کے اَصحاب کی تعداد زیادہ دکھائ تاکہ اللہ تعالٰی فتحِ حق اور شکستِ باطل کا جو فیصلہ کُن اَنجام سب کو دکھانا چاہتا ھے وہ سب کو دیکھاۓ اور ہر شخص یہ بات اچھی طرح جان جاۓ کہ ایک نہ ایک دن زمین کے اِن سب انسانوں نے زندگی اور زمین کی اِن ساری گردش گاہوں سے گزر کر صرف اور صرف حق کی طرف جانا ھے !
🌹 سَچے اسلام کی جُھوٹی تاریخ ! 🌹
قُرآن پڑھنے والے لوگ ہمیشہ سے اِس اَمرِ حق کے دعوے دار رھے ہیں کہ اَدیانِ عالَم کے اِس قدیم جہان کی قدیم اُمتوں میں اُمتِ مُسلمہ ایک جدید اُمت ھے اور اِس جدید اُمت نے دُنیا کی کسی اُمت کے خلاف کبھی بھی کوئ جارحانہ جنگ نہیں کی ھے بلکہ اِس نے جب بھی کوئ جنگ کی ھے تو صرف ایک دفاعی جنگ کی ھے لیکن اِس سَچے دین کا جُھوٹا مؤرخ مُختلف جنگوں کے حوالے سے ہمیشہ سے یہ جُھوٹ لکھتا رہا ھے اور آج تک لکھ رہا ھے کہ اہلِ اسلام نے فلاں فلاں زمانے میں فلاں فلاں جارحانہ جنگیں لڑی تھیں اور اُن جارحانہ جنگوں میں اِس نے دشمن کے کُشتوں کے پُشتے لگادیۓ تھے اور اِس جُھوٹے ابلیس تاریخ نویس گروہ کی اِس تاریخ کی وجہ سے یہ بات ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ زبان زدِ عام ہوگئ ھے کہ ” بُوۓ خُوں آتی ھے اِس قوم کے افسانوں سے ” تاریخی اعتبار سے اسلام کی اِن معروف جنگوں میں سب سے پہلی اسلامی جنگ ، جنگِ بدر ھے جس کو عُلماۓ عجم نے دُنیا میں لُوٹ مار کی غرض سے کی جانے والی ایک تاریخی جارحانہ جنگ کے طور پر مشہور کیا ہوا ھے جب کہ وہ خالصتا ایک دفاعی جنگ تھی اور قُرآنِ کریم کے بیان کے مطابق یہ وہ دفاعی جنگ تھی جس کے لیۓ سیدنا محمد علیہ السلام اور اَصحابِ محمد علیہ السلام ذھنی طور پر قطعا تیار نہیں تھے لیکن جب یہ جنگ اُن پر مُسلط ہو گئ تو انہوں نے بادلِ نخواستہ اِس کا سامنا بھی کیا اور اپنی عددی قلت کے با وجود اِس میں ایک فتحِ عظیم بھی حاصل کی ، عُلماۓ مجوس نے اِس جنگ کے آغاز و اَنجام کی جو روایات جمع کی ہیں اُن روایات کے مطابق مدینے کی اسلامی ریاست کے فوجی دستے اِہلِ مکہ کے مکے سے شام جانے اور شام سے مکے آنے والے تجارتی قافلوں کو لُوٹنے کے لیۓ اِس شاھراہ پر گھومتے رہتے تھے اور جنگِ بدر کے موقعے پر بھی اسلامی لَشکر کا ایسا ہی ایک فوجی دستہ مقامِ بدر پر اہلِ مکہ کے ایک تجارتی قافلے کے قریب موجُُود تھا اور اِسی فوجی دستے کی وجہ سے یہاں پر جنگِ بدر کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا اِن کی مجوسی کتابوں میں اَحوال موجُود ھے !
🌹 جنگِ بدر کا روایتی پَس منظر ! 🌹
اہلِ روایت نے جنگِ بدر کا جو روایتی پس منظر بیان کیا ھے اُس پس منظر کے حوالے سے مولانا مودودی مرحوم اپنی تفسیر تفہیم القرآن کی دُوسری جلد کے صفحہ 123 پر لکھتے ہیں کہ ” حالات یہاں تک پُہنچ چکے تھے کہ شعبان 2 ھجری ، فروری یا مارچ 623 ء میں قریش کا ایک بہت بڑا قافلہ جس کے ساتھ تقریبا 50 ہزار اشرفی کا مال تھا اور تیس چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوۓ اُس علاقے میں پُہنچا تھا جو مدینہ کی زد میں تھا ، چونکہ مال زیادہ تھا ، محافظ کم تھے اور سابق حالات کی بنا پر خطرہ قوی تھا کہ کہیں مسلمانوں کا کوئ طاقتور دستہ اس پر چھاپہ نہ مار دے ، اس لیۓ سردار قافلہ ابو سفیان نے اس پر خطر علاقہ میں پہنچتے ہی ایک آدمی کو مکے کی طرف دوڑادیا تاکہ وہاں سے مدد لے آۓ ، اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے مطابق اپنے اونٹ کے کان کاٹے ، اس کی ناک چیردی ، کجاوے کو الٹ کر رکھ دیا اور اپنا قمیص آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا کہ قریش والو ! اپنے قافلہ تجارت کی خبر لو ، تمہارے مال جو ابو سفیان کے ساتھ ہیں ، محمد اپنے آدمی لے کر ان کے درپے ہو گیا ھے ، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پاسکو گے ، دوڑو مدد کے لیۓ ، اس پر سارے مکہ میں ہیجان برپا ہو گیا ، قریش کے تمام بڑے بڑے سردار جنگ کے لیۓ تیار ہو گۓ ، تقریبا ایک ہزار مردان جنگی جن میں سے 600 زرہ پوش تھے اور جن میں سو سواروں کا ایک رسالہ بھی شامل تھا ، پوری شان و شوکت کے ساتھ لڑنے کے لیۓ چلے ، ان کے پیش نظر یہی کام نہ تھا کہ اپنے قافلے کو بچالائیں بلکہ وہ اپنے اس ارادے سے نکلے تھے کہ اس آۓ دن کے خطرے کو ہمیشہ کے لیۓ ختم کر دیں اور مدینہ میں یہ مخالف طاقت جو ابھی نئ نئ شروع ہوئ ھے اسے کچل ڈالیں اور اس کے نواح کے قبائل کو اس حد تک مرعوب کردیں کہ آئندہ کے لیۓ یہ تجارتی راستہ بالکل محفوظ ہو جاۓ ” !
🌹 روایات و نتائجِ روایات ! 🌹
مولانا مودودی مرحوم نے اپنی اِس تحریر میں اہل مکہ کی جس تجارتی شاھراہ کا ذکر کیا ھے اس سے قبل وہ اِس شاھراہ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ یہ بات بھی لکھ چکے ہیں کہ مکے والوں نے روساۓ مدینہ کو پیغام دیا تھا کہ وہ محمد اور ان کے ساتھیوں کومدینے سے نکال باہر کریں ورنہ اُن کو مدینے سے نکالنے کے لیۓ ھم خود مدینے پر حملہ کریں گے جس میں تم کو بھی نقصان پہنچے گا اور مکے والوں کی اس دھمکی کے بعد سیدنا محمد علیہ السلام نے ایک تو اَطراف کے قبائل کے ساتھ دفاعی معاھدے کیۓ تھے اور دُوسرا یہ قدم اُٹھایا تھا کہ آپ نے اس شاھراہ پر پیہم چھوٹے چھوٹے دستے بہیجنے شروع کر دیۓ تھے جس کا مقصد قریش کو ہوا کا رُخ بتانا تھا کہ مسلمانوں کے حالات اَب کُچھ ایسے بھی مخدوش نہیں ہیں کہ وہ اپنا دفاع نہ کر سکیں ، اگر اس وقت کعبے پر تُمہارا قبضہ ھے تو تمہاری یہ تجارتی شاہراہ ھماری زد میں ھے ، مولانا مرحوم کی اُس پہلی تحریر اور اِس دُدوسری تحریر سے یہ بات پوری طرح سامنے آگئ ھے کہ جس وقت مکے والوں کا یہ تجارتی قافلہ اپنے تیس یا چالیس محافظوں کے ہمراہ اِس مقام پر پُہنچا تھا اُس وقت سیدنا محمد علیہ السلام بھی اپنے 313 اصحاب کے ساتھ یہاں پر موجود تھے لیکن آپ نے ابو سفیان کے قافلے پر حملہ نہیں کیا تھا یہاں تک کہ ابوسفیان کا ایک ہر کارہ مکے پہنچ گیا اور مکے سے اہلِ مکہ کا ایک ہزاری لشکر بھی یہاں پر آگیا لیکن آپ نے پھر بھی تیس چالیس محافظوں کی حفاظت میں یہاں پر پُہنچنے والے اُس تجاتی قافلے پر حملہ نہیں کیا ، یہاں قُدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ھے کہ اگر آپ نے اِس قافلے پر حملہ نہیں کرنا تھا تو پھر آپ یہاں پر کس لیۓ موجُود تھے اور اتفاق سے اس سوال کا جواب بھی عُلماۓ مجوس نے خود ہی فراہم کردیا ھے اور وہ جواب یہ ھے کہ کُچھ عرصہ پہلے اہلِ مکہ نے کرزبن جابر الفہری کے ذریعے نواحِ مدینہ میں ایک بڑی غارت گری کراکر اہلِ مدینہ کو یہ پیغام دیا تھا کہ تُم لوگ محمد اور اُن کے ساتھیوں کو پناہ دے کر ھمارے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے ، ھم جب چاہیں گے اور جب تک چاہیں گے تُمہاری بستیوں کو تاخت و تاراج کرتے رہیں گے اور اس واقعے کے بعد ہی سیدنا محمد علیہ السلام نے مدینے کی سرحد پر گشت کے لیۓ اپنے اُن فوجی دستوں کو مامور کیا تھا جن میں سے ایک فوجی دستہ اپنے معمول کے مطابق جنگِ بدر کے دن بھی وہاں پر موجُود تھا لیکن جنگ سے کُچھ دیر پہلے تک اُس فوجی دستے کو کسی جنگ کی خبر بھی نہیں تھی !
🌹 قُرآن اور جنگِ بدر ! 🌹
قُرآنِ کریم کا یہ پہلا مقام ھے جہاں پر قُرآن نے اہل ایمان کو مخاطب کر کے جنگِ بدر کا وہ پُورا منظر اس طرح دکھایا ھے کہ تُم وقت کے اُس لمحے کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ جب تُم مدینے سے باہر اپنے علاقے کی ایک اُونچی جگہ پر کھڑے تھے اور دُوسری طرف تمہارا دشمن بھی ایک دُوسری اُونچی جگہ پر پہنچاہوا تھا اور مکے کا تجارتی قافلہ اپنے تجارتی راستے پر تُم لوگوں کے محلِ وقوع سے دُور ایک نشیب سے گزر رہا تھا ، اگر آپ قُرآن کے اِس بیان پر صرف ایک بار نہیں بلکہ ایک ہزار بار بھی نظر ڈالیں گے تو آپ کو اُس میں ہر بار اللہ مسلمانوں سے یہ کہتا ہوا نظر آۓ گا کہ یہ واقعہ تمہارے ساتھ اُس وقت پیش آیا تھا جب تمہارا دشمن تمہارے سامنے پہنچ چکا تھا اور تمہارے پاس اتنا سا مناسب وقت بھی موجود نہیں تھا کہ تُم دشمن کے ساتھ جنگ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئ متفقہ فیصلہ کر سکتے اور اگر کرتے بھی تو تمہارے درمیان اتفاق راۓ پیدا نہ ہو پاتا کیونکہ جب مشرکین نے اللہ کے نبی اور اس کے ساتھیوں کو نیست و نابُود کرنے کا عزم کیا تھا تو اللہ نے بھی اُن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور چونکہ محمد علیہ السلام اور آپ کے ساتھی کسی جنگ کی غرض سے کوئ لَشکرِ جنگ اور سامانِ جنگ لے کر یہاں نہیں آۓ تھے اِس لیۓ ان کے دل میں کسی جنگ کا خیال بھی موجود نہیں تھا اسی لیۓ اللہ تعالٰی نے اُن کو اس اچانک ، غیر متوقع اور بے سر و سامانی کی جنگ لڑنے کے لیۓ یوں آمادہ کیا کہ پہلے سیدنا محمد علیہ السلام کے وجودِ مبارک پر ایک غنُودگی کی کیفیت طاری کر کے آپ کو مشرکین کا بڑا لشکر خواب میں چھوٹا کرکے دکھایا اور جب عملی جنگ کا آغاز ہوا تو عین عالَمِ بیداری میں بھی اللہ نے آپ کی نظر کو دشمن کا لشکر چھوٹا بنا کر دکھایا اور آپ کا لَشکر دشمن کی نظر کو ایک بڑا لشکر بنا کر دکھایا اور اس طرح اللہ نے آپ کی غیبی مدد کر کے آپ کو فتح اور آپ کے دشمن کے ایک ہزاری لشکر کو ایک ایسی ذلت آمیز شکست دے دی جو رہتی دُنیا تک رہتی دنیا کو یاد رھے گی ، اس گفتگو کا ماحصل یہ ھے کہ جنگ بدر لُوٹ مار کے لیۓ لڑی گئ کوئ ایسی جنگ نہیں تھی جو چند بُھو کے مسلمانوں نے لُوٹ مار کے لیۓ لڑی تھی بلکہ وہ ایک ایسی جنگ تھی جو مُٹھی بھر مسلمانوں نے قُرآن اور صاحبِ قُرآن کی عزت و عظمت کے لیۓ لڑی تھی !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے