Home / اسلام / قُرآن کا قانُونِ مال و بیت المال !! 🌹

قُرآن کا قانُونِ مال و بیت المال !! 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اَلاَنفال ، اٰیت 41 )))) 🌹
قُرآن کا قانُونِ مال و بیت المال !! 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 واعلموا
انما غنمتم من شئ
فان للہ خمسہ وللرسول
ولذی القربٰی والیتٰمٰی والمسٰکین
وابن السبیل ان کنتم اٰمنتم وما انزلنا علٰی
عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعٰن واللہ علٰی کل
شئ قدیر 41
اگر تُم اللہ پر ایمان اور ھمارے بندے کو اُس دن ھماری دی جانے والی بُرہان پر یقین رکھتے ہو جس دن ھماری مشیت سے دو لَشکر حق و باطل میں امتیاز قائم کر نے کے لیۓ آمنے سامنے آۓ تھے تو پھر جان لو کہ آج کے بعد جنگ میں ہارے بھاگے دُشمن کے چھوڑے چھینے ہوۓ مال اور اسلامی ریاست کے دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے جُملہ اَموال کا پانچواں حصہ ھم نے اسلامی ریاست کے بیت المال کے لیۓ خاص کردیا ھے ، بیت المال میں جمع ہونے والے اِس سارے مال کو اللہ کا رسول شہر و بستی کے قریب رہنے والے مُحتاج انسانوں ، ماں باپ کے سایہِ شفقت سے محروم ہونے والے بے سہارا بچوں ، مُشکلاتِ حالات سے ایک جگہ پر جمے ہوۓ نادار لوگوں اور سفر میں سفر کے دُشوار حالات سے دوچار ہونے والے اَفراد میں اللہ کے اَحکامِ نازلہ کے مطابق تقسیم کرے گا کیونکہ زمین کی ہر چیز پر اللہ کا قانونی حق ھے اور زمین کی ہر چیز اللہ کے قانونِ حق کے مطابق اہلِ حق میں تقسیم ہونی چاہیۓ !
🌹 مطالبِ اٰیت اور مقاصدِ اٰیت ! 🌹
اسلامی ریاست کے بیت المال ، مصارفِ بیت المال اور صارفینِ بیت المال کے بارے میں قُرآن کا یہ پہلا قانون ھے جو اٰیتِ بالا میں بیان کیا گیا ھے اور اِس قانون میں بیت المال کے ذرائع آمدن و ذرائع مصارف بھی ایک ہی جگہ پر بیان کر دیۓ گۓ ہیں ، یہ بات درست ھے کہ قُرآن کے بیان کیۓ ہوۓ اِس قانون میں جو پہلا مال زیرِ بحث آیا ھے وہ میدانِ جنگ میں دُشمن کا چھوڑا ہوا یا میدانِ جنگ میں دُشمن سے چھینا ہوا مال ھے لیکن بیت المال کے حوالے سے اِس قانون میں وہ تمام اَموال شامل ہیں جو اسلامی حکومت کو جنگ کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں ، اسلامی حکومت کو جنگ سے جو مال حاصل ہوتا ھے اُس کے لیۓ اٰیت ھٰذا میں ” غنم ” کا لفظ استعمال ہوا ھے اور لَفظِ غنم عربی کلام و لُغت میں بیشتر مقامات پر اَشیاء کی کثرت کو ظاہر کرنے کے لیۓ بولا جاتا ھے ، اسی حوالے سے اہلِ عرب جنسِ بکری کو غنم اور بکریوں کے ریوڑ کو غنیم کہتے ہیں ، قدیم زمانے میں چونکہ ہر بستی کے ہر چھوٹے بڑے قبیلے میں بکریاں پالنے کا رواج تھا اور بکریوں کی کثرت کے باعث بکری کے ہر خریدار کو بکری آسانی سے مل جاتی تھی اِس لیۓ رفتہ رفتہ اہلِ زبان ہر سہل الحصول چیز کو غنیم کہنے لگے اور جنگ کے بعد فاتح لشکر کو آسانی سے مل جانے والے جنگی مال و اسباب کو بھی مالِ غنیمت کہا جانے لگا ، چناچہ جب ایک لشکر دُوسرے لشکر کو شکست دیتا تھا تو وہ یہ کہہ کر اپنی خوشی کا اظہار کرتا تھا کہ یہ جنگ تو ھمارے لیۓ بہت معمولی جنگ رہی ، اگر دُشمن کا لشکر اس سے بڑا ہوتا تو ھم اُس کو بھی اسی آسانی سے شکست دے دیتے اور جب کوئ فاتح لشکر دُشمن کے چھوڑے اور دُشمن سے چھینے ہوۓ سامانِ جنگ یاتاوانِ جنگ پر تبصرہ کرتا تھا تو اُس وقت بھی وہ یہی کہتا تھا کہ دُشمن تو ھمارے سامنے ٹھہر ہی نہیں سکا اور اُس کے دُم دُباکر بھاگنے سے اُس کا ساز و سامان بہت آسانی سے ھمارے قبضے میں آگیا ، قدیم قبائلی جنگوں کے اُس قدیم زمانے میں میدانِ جنگ سے ملنے والے مال کو ہی مالِ غنیمت نہیں کہا جاتا تھا بلکہ آسانی سے ملنے والے ہر مال کو مالِ غنیمت کہا جاتا تھا جس کی وجہ سے بحری قذاق ، صحرائ لُٹیرے اور گلی محلے کے عام چور چکار لُوٹ مار کے مال کو بھی مالِ غنیمت کہنے لگے تھے ، پھر رفتہ رفتہ یوں ہوا کہ جنگ میں بے جگری سے لڑنے اور دشمن کو آسانی سے شکست دینے والے قومی سپوتوں کو بھی غینم اور اُن کے ذریعے ملنے والے مالِ تاوان و جنگ کو بھی غنیم اور غنیمت کہا جانے لگا اور پھر یہ محاورہِ کلام اتنا مشہور ہوا کہ جب کسی انسانی معاشرے میں اہلِ علم کم ہو جاتے تھے تو اُس معاشرے میں واجبی سا علم رکھنے والے شخص کو بھی غنیمت سمجھا جاتا اور کہا جاتا تھا اور ماضی کا یہ محاورہ آج بھی ماضی کی طرح رائج ھے لیکن عُلماۓ عجم جن کا زبان سے زیادہ بدزبانی سے تعلق رہا ھے وہ زبان کے اِن بدلتے زاویوں کا لحاظ کیۓ بغیر جنگ سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کو لُوٹ مار کہتے اور محمد علیہ السلام اور اَصحابِ محمد علیہ السلام کو لُٹیرا قرار دیتے ہیں اور اِس سلسلے میں وہ اپنے خبثِ باطن سے بھری ہوئ جو تفسری کہانی سُناتے ہیں وہ یہ ھے کہ پہلی اُمتوں کے لیۓ جنگ میں لُوٹے ہوۓ اِس مال کا استعمال حرام تھا اور وہ اُمتیں اِس مال کو ایک جگہ پر جمع کر کے ڈال دیتیں تھیں اور اِس مال کو آسمان سے آنے والی ایک آگ آکر جلا دیتی تھی لیکن لُوٹ مار کا یہ مال اللہ نے پہلی بار سیدنا محمد علیہ السلام اور اَصحابِ محمد علیہ السلام کے حلال کیا ھے لیکن دَر حقیقت عُلماۓ عجم کی یہ کہانی ایک سفید جُھوٹ ھے ، اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ اٰیتِ بالا کے اِس حُکمِ بالا سے قبل جو لوگ اُس زمانے کی قبائلی جنگوں میں شریک ہوتے تھے وہ کوئ باقاعدہ فوجی نہیں ہوتے تھے بلکہ جہاں کہیں بھی کوئ جنگ ہوتی تھی وہ اپنے مقامی قبیلے کی اُس جنگ میں ایک دھاڑی دار مزدور کے طور پر شریک ہوتے تھے اور اُس زمانے کے رائج دستور کے مطابق جنگ میں جو جنگ جُو جس جنگ جُو سے جو تلوار یا جو نیزہ اور ڈھال چھین لیتا تھا وہ اُس کی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور اُس کو مالِ غنیمت ہی کہا جاتا تھا لیکن اہلِ اسلام کا جب پہلی بار اہلِ کفر کے ساتھ مقابلہِ جنگ ہوا تو اللہ نے اِن کے لیۓ یہ قانون نازل کیا جس کا اٰیت بالا میں ذکر ہوا ھے اور جس میں پہلی بار اُن پر یہ قانون لاگُو کیا گیا ھے کہ میدانِ جنگ میں دُشمن جو ساز و سامان چھوڑ کر جاۓ گا یا دُشمن کا جو مال بھی فاتح لشکر کے ذریعے قبضے میں آۓ گا وہ جنگ جُو فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہوگا بلکہ اسلامی حکومت کی ملکیت ہو گا اور اسلامی حکومت اُس مال کے چار حصے اہلِ لشکر میں تقسیم کرے گی اور پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کرے گی اور پھر وہ پانچواں حصہ اُن نادار لوگوں میں تقسیم کرے گی جن کا مَتنِ اٰیت میں ذکر کیا گیا ھے اور بیت المال میں صرف یہی مال جمع نہیں ہوگا جو جنگ کے ذریعے سے حکومت کو حاصل ہوگا بلکہ حکومتی اداروں کے ذریعے حکومت کو جو مال اور جتنا مال بھی حاصل ہوگا اُس کا پانچواں حصہ اسی قومی بیت المال میں جمع ہوگا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے