Home / پاکستان / ہمارا شیخ الاسلام

ہمارا شیخ الاسلام

*ہمارا شیخ الاسلام تو آپ ہے*
ازقلم
✏ : خلیل اللہ کرکی

کچھ عرصے پہلے ملک میں کرونا کے خدشات جب بڑھنے لگے تو ہمارے اکابر نےجامعہ دارالعلوم کراچی میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا جس میں اہم شخصیات نے شرکت فرماٸی۔ان حضرات میں شھید ناموس اصحاب مصطفیﷺ حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان صاحب رحمہ اللہ بھی شامل تھے۔
جامعہ کی طرف سے ہمیں ان حضرات کی خدمت کی ڈیوٹی ملی تھی جیسے ان حضرات کی رہبری کرنا ,مسجد لے جانا اور واپس لے آنا , کھانا مانا تیار کرنا وغیرہ۔۔۔
عصر کی نماز کے بعد مجھے عمید الدرسات حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ آپ نماز کے بعد مولانا عادل خان صاحب کو مسجد سے دارالإفتا ٕ لے آنا۔ میں حامی بھر لی۔
جب حضرت نماز سے فارغ ہو گٸے۔ تو میں نے کہا کہ “حضرت اگر آپ دارلإفتا ٕ جانا چاہتے ہوتو میں آپ کو لے جاٶں گا” تو حضرت نے فرمایا ” اچھا۔۔۔۔ پھر تو چلے”۔۔۔
میں نے سیڑھیوں میں حضرت کا ہاتھ پکڑا, سیڑھیوں سے اترنے کے بعد حضرت نے میرا ہاتھ پکڑا رہا اور ایک پرانے دوست کی طرح باتیں کرنا شروع کر دیے , مجھے ایسا لگا جیسے حضرت مجھے پہلے سے جانتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے نام پوچھا تو میں نے کہا ” خلیل اللہ نام ہے اور کرک سے تعلق ہے” تو حضرت نے فرمایا کہ “کرک میں ہمارے بہت شاگرد ہیں لیکن کام نہیں کر رہے ہیں” تو میں نے کہا ” نہیں حضرت۔۔۔ آپ حضرات کی برکت ہے وہ بہت اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں, ہمیں پڑھایا اور ہمیں کراچی انہوں بیجھا ہے ” ۔ تو حضرت مسکرا کر کہنے لگے کہ ” نہیں بھاٸی۔۔۔۔ صحیح یا اصل کام نہیں کر رہے ہیں”۔۔
یہ باتیں کرتے کرتے ہم دارالإفتا پہچ گٸے جہاں میٹنک کا انعقاد ہوا تھا۔ تو دارالإفتا کے دروازے پر حضرت فرمانے لگے کہ “ذرا ٹھرو۔۔۔مفتی نعیم صاحب آ رہے ہیں”۔۔۔مفتی نعیم صاحب رحمہ اللہ جب قریب پہنچے تو حضرت فرمانے لگے ” ارے۔۔۔ آپ کہاں رہ گٸے تھے۔۔۔ *ہمارا شیخ الاسلام تو آپ ہے*” پھر انہوں آپس میں گلے لگاۓ , خوب بے تکلفانہ مسکرا رہے تھے جیسے کوٸی اولی یا ثانیہ کے متعلمین ہے۔ میں نے بزرگوں کی ان جیسی بےتکلفانہ دوستی کہی نہیں دیکھی ہے۔۔۔ لیکن اب دونوں چراغ گل ہو گٸے۔۔۔ گویا مفتی نعیم صاحب رحمہ اللہ نے ان کو پیغام بیجھا کہ “بھاٸی آجاٶ۔۔۔ مجھ سے اکیلا رہا نہیں جاتا ہیں” اور حضرت اس کا پیغام پڑھ کر فوراً لپک کر ان کے پاس چلے گٸے اور ہمیں ہمیشہ کے لیۓ داغ مفارقت دے گٸے۔۔۔ بہر حال آج وہ دونوں حضرات ہم میں نہیں رہے اور ان کی علمی روشنی سے ہم محروم رہ گٸے۔۔ باغ رہا باغباں نہیں رہے۔۔
اللہ تعالی ان کی کامل مغفرت فرماۓ اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماٸیں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے