Home / کالم / احتساب اور اسلامی احکامات

احتساب اور اسلامی احکامات

⁦✍️⁩از قلم
رشحاتِ ربانی/نعیم اختر ربانی

دنیا میں موجود انسانوں کا فطری رجحان یہ ہے کہ لوگ ہر ظاہری نفع بخش شئے کے حصول اور متوقع عمل کے گزرنے میں ہر سطح اور حد تک چلے جاتے ہیں۔ خصوصاً جب وہ مسئلہ انا جیسی نفرت انگیز فطری صفت کی حد میں داخل ہو جائے تو شئے کا حصول یا عمل کی کارگزاری ضروری ہو جاتی ہے۔ یہ جنونی مقام انسان کو بدی اور نیکی ، بھلائی اور برائی کی فکر کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتا۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں بے اعتدالی ، بے راہ روی ،کج فہمی ، غلط بیانی اور برائی کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنے انفرادی ، خاندانی یا جماعتی مفادات کے پیشِ نظر بعض ایسے عوامل کر گزرنے میں متحرک دکھائی دیتے ہیں جو شرعاً اور قانوناً ممنوع ہیں یا کم از کم اخلاقی دائرہ کار میں ان کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس رویے کی وجہ یہ ہے کہ عمل سے قبل جائزہ لینے یا عمل کے بعد احتساب کرنے کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ ہم اپنے آپ کو شتر بے مہار سمجھتے ہوئے اپنے دل اور نفس کی کہی گئی باتوں کو قابلِ اعتنا جانتے ہیں اور انہی کے مطابق اپنی حرکات و سکنات کو تحریک دیتے ہیں لیکن شرعی ، قانونی اور اخلاقی دائرہ کار کو معیار اور کسوٹی بنانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جو دراصل ہمارے معیاراتی پیمانے ، ہمارے معاشرتی ترازو اور ہمارے رسم و رواج کے حسن کے ستون ہیں۔

اگر ہم انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم میں سے اکثر افراد کی زبان پر اپنے اعمال کے جواز کی ایک دلیل ہوتی ہے کہ “میں اپنے دل کی سنتا ہوں اور اسی کے مطابق فیصلہ سازی کرتا ہوں “یہ وہ شیطانی دھوکا ہے جو ہم اپنے آپ کو مطمئن کرنے ، معاشرے کے ذمہ دار افراد کو چکمہ دینے یا رہنمائی کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ “دل “در اصل نفس امارہ کا ایک مہذب نام ہے جو ہم شیطانی رہنمائی میں ٹالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جو شخص نفس کی غلامی میں جکڑا گیا۔ اس کی کہی گئی باتوں کے مطابق اپنے چال چلن ، رہن سہن اور حرکات و سکنات کو ڈھالتا گیا۔ شب و روز نفس امارہ کے احکامات کی بجا آوری میں صرف کرتا رہا تو ایک وقت آئے گا کہ وہ بدی کے سانچے میں ڈھل کر نیکی کو سراسر فراموش کردے گا۔ اسے صرف بدی اور برائی کی کھائیاں حسین اور سنہری روپ میں دکھائی دیں گی۔ اس سارے نقصان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کا گاہے بگاہے جائزہ لیتا رہے۔ عمل سے قبل اور بعد میں اس کے منتج شدہ بھلے اور برے اثرات کا بغور مشاہدہ کرے اور جان لے کہ اس کے بڑھتے ہوئے قدم نیکی کی شاہراہ پر پڑ رہے ہیں یا بدی کی پگڈنڈی اس کے پاؤں کی سیر گاہ ہے؟

اور اجتماعی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم میں سے ہر دوسرا تعلیم یافتہ فرد “عدمِ احتسابی” کی کیفیت سے دوچار ہے اور یہ نظریہ اپنا چکا ہے کہ ہم فقط اپنے اعمال کے معاملے میں جواب دہ ہیں۔ دوسرے متعلقہ یا غیر متعلقہ افراد کے اعمال ، حرکات و سکنات اور جملہ اعمال سے منتج شدہ بدی اور نیکی کے اثرات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ۔ ہر فرد اپنے معاملے میں خود مختار ہے۔ اسے کسی عمل کے فائدے سے آگاہ کرنا یا اس کے نقصانات اور مضر اثرات سے متنبہ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہم ان کے درپیش مسائل میں کسی قسم کی ٹانگ اڑانے یا دخل اندازی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ “امر بالمعروف و نہی عن المنکر ” کا فرض ہر مکلف پر خدا تعالی کی طرف سے عائد ہے۔ خدا تعالی نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرد کے ذمے لگایا ہے کہ اگر برائی کو ہوتا دیکھے تو کرنے والے کو مناسب تنبیہ کرے اور اسے نیکی کی صراطِ مستقیم کی طرف راغب کرنے اور پھر اسی پر گامزن کرنے کی کوشش کرے۔

جو لوگ ایسا نہیں کرتے اور جانتے ہوئے کہ یہاں برائی جڑ پکڑ رہی ہیں اور افراد ایک ایسے عمل میں مشغول ہیں جو شرعاً ، قانوناً یا اخلاقاً جرم متصور ہوتا ہے تو ان کے بارے میں خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالی تھوڑے سے برے لوگوں کے برے اعمال کی پاداش میں دوسروں کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک یہ بات پیدا نہ ہو جائے کہ وہ اپنے درمیان برائی کو پھیلتے ہوئے دیکھیں اور وہ اس کے خلاف آواز اٹھانے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ آواز نہ اٹھائیں۔ اللہ تعالی ان کے بروں اور بھلوں یعنی سب کو سزا دے دیتے ہیں” (بخاری) ایک اور حدیث میں ایسے لوگوں کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت وعید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جس قوم کے اندر برائی پھیل رہی ہو اور اس میں ایسے لوگ موجود ہوں جو اس کی اصلاح کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ وقت قریب آ گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو کسی عذاب میں پکڑ لے “(متفق علیہ) ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ ہم جس نظریے پر قائم ہیں اور اس کے زیر اثر برائیوں کو ہاتھ یا زبان سے روکنے پر قدرت رکھنے کے باوجود کوئی ایسا اقدام نہیں کر رہے جس سے ان برائیوں کا قلع قمع ہوسکے تو وہ دن دور نہیں جب آٹے کے ساتھ گھن بھی پس جائے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد کا احتساب بھی کرنا چاہیے اور ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ برے افعال کی روک تھام ہوسکے تاکہ خدا تعالی کے آمدہ عذاب سے خلاصی ہو ممکن ہو۔

روزنامہ اساس
تاریخ اشاعت09-10-2020

واٹس ایپ نمبر: 03149301015
ای میل ایڈریس: naeemakhterrabbani3050@gmail.com
#naeemakhterrabbani
#نعیم_اختر_ربانی

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے