Home / اسلام / انسان کا مالِ اَنفال

انسان کا مالِ اَنفال

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنفال ، اٰیت 1 تا 4 ))) 🌹
انسان کا مالِ اَنفال اور مالِ اِستعمال !! 🌹 ازقلم….اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 یسئلونک
عن الانفال قل الانفال
للہ ورسولہٖ فاتقوااللہ و
اصلحواذات بینکم واطیعوا
اللہ ورسولہ ان کنتم مؤمنین 1 انما
المؤمنون الذین اذاذکراللہ وجلت قلوبھم
واذاتلیت علیھم اٰیٰتہ زادتھم ایمانا وعلٰی ربھم
یتوکلون 2 الذین یقیمون الصلٰوة ومما رزقنٰھم ینفقون
3 اولٰئک ھم المؤمنون حقا لھم درجٰت عند ربھم ومغفرة
ورزق کریم 4
اے ھمارے رسول ! جو لوگ مالِ ” اَنفال ” کے بارے میں آپ سے سوال کرتے ہیں تو آپ اُن لوگوں پر یہ اَمر واضح کردیں کہ انسان کا مالِ اَنفال انسان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی ملکیت ھے اور اللہ نے اپنے اس مالِ ملکیت کے بارے میں اَپنے رسول کو یہ حُکم دیا ھے کہ وہ اُس کے اِس مال کو حسبِ ضرورت اُس کے اُن نادار بندوں کی فلاح و بہبود پر صرف کیا کرے جو کسی دُکھ ، بیماری یا بیروزگاری کے باعث ضروریاتِ حیات سے محروم ھو چکے ہیں ، اگر تُم لوگ اللہ پر ایمان و یقین رکھتے ھو تو اِس مال انفال کے بارے میں اللہ کے رسول کا فیصلہ آنے تک اپنے کامل ایمان و یقین کے ساتھ اور اپنی کامل رُوحانی و جسمانی صلاحیت کے مطابق ایک دُوسرے کے ساتھ تعاون کا عمل جاری رکھو اور اگر تُم میں سے کوئ شخص خود بھی اُس مالِ اَنفال کا مُستحق ھے تو وہ بھی اُس وقت کا انتظار کرے جب اللہ کا رسول خود ہی اُس کے حصے کا مالِ اَنفال اُس تک پُہنچادے ، جو ایمان دار لوگ اللہ کے یہ اَحکامِ ھدایت سُنتے ہیں تو وہ اللہ کے کسی فرمان کی نافرمانی کے خوف سے لَرزه براندام ھو جاتے ہیں اور پھر جب وہ اللہ ان احکام کی حکمتوں کو بھی جان جاتے ہیں تواُن کا ایمان و یقین اللہ کے احکام پر اور بھی بڑھ جاتا ھے ، یہ ھمارے وہ ایمان دار اور صلاحیت کار بندے ہیں جو زمین پر ھمارا قانون نافذ کرنے کے لیۓ عملی جد و جھد کرتے ہیں اور زمین کے جو وسائلِ حیات ان کی دسترس میں آتے ہیں تو وہ ان وسائلِ حیات کو ایمان داری کے ساتھ دوسرے ضرورت مند انسانوں تک پُہنچاتے ہیں ، یہ ایمان دار لوگ اپنی حیات کے تمام لمحات میں لمحہ بہ لمحہ اور لَحظہ بہ لَحظہ ترقی کرتے ہیں اور درجہ بہ درجہ اللہ سے اپنے اَن اعمالِ خیر کی جزاۓ خیر پاتے ہیں ، اللہ ان پاک دل لوگوں کی خطا پوشی کرتا ھے اور ان پر رزق و رحمت کے دروازے بھی کھول دیتا ھے !
🌹 انسان کے سوالات اور قُرآن کے جوابات ! 🌹
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک مُتجسس ہستی ھے ، یہی وجہ ھے کہ انسان کو جب بھی اپنے اِرد گِرد کسی واقعے کی اطلاع ملتی ھے تو اس کے قدم ایک خود کار مشین کی طرح خود بخود ہی اس کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں اور انسان جب اپنے ماحول میں کوئ جانی اَنجانی آواز سنتا ھے تو وہ ایک سحرزدہ انسان کی طرح اس آواز کی طرف بھی بڑھتا چلا جاتا ھے ، اس بھاگ دوڑ سے اس کا مقصد اپنے فطری تجسس کو دُور کرنے کے لیۓ اس واقعے یا آواز کے بارے میں جاننا ھوتا ھے ، اگر انسان اس واقعے یا اس آواز کے محل وقوع تک خود نہیں پہنچ سکتا تو اس کے بارے میں دوسرے لوگوں سے پوچھتا پھرتا ھے اور جب تک اس کو کچھ معلوم نہیں ھو جاتا تب تک یہ نِچلا نہیں بیٹھتا ، انسان کا اپنے اِس فطری تجسس کے تحت اپنے جیسے کسی انسان یا اپنے وجدان سے پہلا سوال یہ ھوتا ھے کہ میں کون ھو ، اس جہان میں مُجھے کون لایا ھے اور کیوں لایا ھے ، قُرآن کریم کی کتابی ترتیب میں انسان نے اپنے اس تجسس کے تحت جو پہلا سوال کیا ھے وہ بھی اپنے خالق کے بارے ہی میں کیا ھے اور قرآن نے انسان کے اس سوال کو سورةالبقرة کی اٰیت 186 میں نقل کیا ھے ، انسان کے اس انفرادی سوال کے بعد قرآن نے انسان کے جن اجتماعی اور مفیدِ مطلب سوالات کا ذکر کیا ھے ان سوالات میں سے انسان کا پہلا سورةالبقرة کی اٰیت 189 ، دوسرا سوال اٰیت 215 ، تیسرا سوال اٰیت 217 ، چوتھا اور پانچواں سوال اٰیت 219 ، چھٹا سوال اٰیت 220 ، ساتواں سوال اٰیت 222 ، آٹھواں سوال سورةالمائدة کی اٰیت 4 ، نواں سوال سورةالاعراف کی اٰیت 187 میں ھے اور اَب یہ دسواں سوال سورةالانفال کی اِس پہلی اٰیت میں آیا ھے جس کا اِس سورت کی اس پہلی اٰیت سے آغاز ھوا ھے ، قُرآنِ کریم نے اِن دس مقامات پر انسان کے جن دس سوالات اور اللہ کے دیۓ ھوۓ دس جوابات کا ذکر کیا ھے اِس مقام پر اُن کے اِس ذکر سے ھمارا مقصد اِن سوالات کا اعادہ و تکرار کرنا نہیں ھے بلکہ اِس اَمر کو واضح کرنا ھے کہ قُرآن نے انسان کے جن سوالات کا ذکر کیا ھے اُن کا مقصد ہر گز یہ نہیں ھے کہ پہلے کسی انسان نے یہ سوالات کیۓ ہیں اور پھر اِن سوالات کے جواب میں یہ اٰیات نازل ھوئ ہیں ، اگر یہ سوالات نہ کیۓ جاتے تو یہ اٰیات نازل ہی نہ ھوتیں ، ھم نے اِن سوالات و جوابات کا ذکر اِس غرض سے کیا ھے تاکہ یہ اِمر واضح کیا جا سکے کہ سوال کرنا انسانی فطرت کا ایک حصہ ھے اور فطرت کی اس اَنگیخت کے تحت جو سوالات انسان کے خیال میں آسکتے ہیں وہ اُس کی زبان پر بھی آسکتے ہیں اور جو سوالات انسان کی زبان پر آسکتے ہیں اُن کا خُدانے انسان کی زبان پر آنے سے پہلے خود ہی ذکر دیا ھے تاکہ نبی اکرم کے بعد مدینے کی پہلی اسلامی ریاست کا انتظام جس انسان کے ہاتھ میں آۓ تو انسان کو انسانی فطرت کا یہ مطلوبہ علم بھی حاصل ھو جاۓ کہ قُرآن کی اسلامی ریاست کو چلانے کا حق دار وہی شخص ھو سکتا ھے جو انسانی دلوں سے اُبھر کر زبانوں پر آنے والے سوالات کے زبانوں پر آنے سے پہلے ہی قُرآن کے ان رہنما نفسیاتی اصولوں کے مطابق ان کا حل تلاش کر سکتا ھو اور ان اصولوں کے مطابق فیصلے کرکے اسلامی ریاست کے باشندوں کو مسرور و مُطمئن بھی کر سکتا ھو !
🌹 مالِ اَنفال اور مالِ غنیمت ! 🌹
اَنفال اور غنیم اِس سورت میں آنے والی قُرآن کی وہ دو وسیع البنیاد معاشی اصطلاحات ہیں جن میں سے پہلی اصطلاح ” اَنفال ” ھے جو اِس سورت کے آغاز میں وارد ھوئ ھے اور دوسری اصطلاح ” غنیم ” ھے جس کا اِس سے پہلے سورةالنساء کی اٰیت 94 میں ذکر ھوا ھے اور اِس کے بعد اِس سورت کی اٰیت 41 اور 69 میں بھی ذکر ھو گا ، جہاں تک اِس سورت کی پہلی اٰیت کی اِس پہلی اصطلاح اَنفال کا تعلق ھے تو اَنفال نفل کی جمع ھے اور اہلِ عرب ہر اُس چیز کو نفل کہتے ہیں جو ایک سے زائد ھو ، اَصل سے زائد ھو ، ضروت سے زائد ھو لیکن نفع بخش اور کار آمد ھو ، بیکار اور رَدی نہ ھو ، جس طرح باپ کے لیۓ بیٹا ایک کار آمد وجُود ھوتا ھے لیکن اگر بیٹے کے بعد پوتا بھی ھو جاۓ تو وہ ایک اَولاد پر ایک زائد اَولاد ھوتا ھے اور اَولاد کے طور پر کار آمد ھوتا ھے ناکارہ نہیں ھوتا ، قُرآن کریم نے سورةالاَنبیاء کی اٰیت 72 میں جہاں ابراہیم علیہ السلام کی اَولاد کی آرزُو اور اَولاد کے لیۓ دُعا کا ذکر کیا ھے تو وہاں پر یہ ذکر بھی کیا ھے کہ ابراہیم نے تو ھم سے بیٹے اسحاق کے لیۓ دعا کی تھی لیکن ھم نے اُس کو اِس پر ایک زائد اَولادکے طور پر اُس کا پوتا یعقوب دے دیا لیکن عُلماۓ مجوس نے قُرآن کی اس اصطلاحِ ” اَنفال ” کو پہلے دورِ جاہلیت کی جنگ سے جوڑا ھے ، پھر اِس اِس معاشی اصطلاح کو لُوٹ مار سے جوڑا ھے اور پھر ان کے اِس بہتان کی تان یہاں پر ٹوٹی ھے کہ سیدنا محمد اور اَصحابِ محمد جو جنگیں کیا کرتے تھے وہ لُوٹ مار کے لیۓ ھوتی تھیں اور اِس جنگی لوٹ مار سے لُوٹ مار کا جو سامانِ جنگ ہاتھ آتا تھا اُس کو اَنفال کہتے تھے اور اِس اٰیت میں بھی اَصحابِ محمد نے سیدنا محمد علیہ السلام سے لُوٹ مار کے اسی مال کے بارے میں سوال کیا تھا جس کا اللہ نے یہ جواب دیا تھا کہ لُوٹ مار تو ضرور کرو لیکن اس لُوٹ مار میں اللہ کا حصہ بھی ضرور رکھا کرو ، چناچہ مولانا مودودی مرحوم اپنی تفہیم القرآن کی دوسری جلد کے صفحہ 128 پر اس آیت کے تفسری حاشئے میں لکھتے ہیں کہ ” اس تبصرہ جنگ کی یہ عجیب تمہید ھے ، بدر میں جو مال غنیمت لشکر قریش سے لوٹا گیا تھا اس کی تقسیم پر مسلمانوں کے درمیان نزاع برپا ھو گئ ، چونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان لوگوں کو پہلی مرتبہ پرچم اسلام کے نیچے لڑنے کا اتفاق ہوا تھا اس لیۓ ان کو معلوم نہ تھا کہ اس مسلک میں جنگ اور اس سے پیدا شدہ مسائل سے متعلق کیا ضابطہ ھے ، کچھ ابتدائ ھدایات سورہ بقرہ اور سورہ ممحمد میں دی جا چکی تھیں لیکن تہذیب جنگ کی بنیاد ابھی رکھنی باقی تھی ، بہت سے تمدنی معاملات کی طرح مسلمان ابھی تک جنگ کے معاملے میں بھی اکثر پرانی جاہلیت ہی کے تصورات لیۓ ھوۓ تھے ، اس وجہ سے بدر کی لڑائ میں کفار کی شکست کے بعد جن لوگوں نے جو کچھ مال غنیمت لوٹا تھا وہ عرب کے پرانے طریقے کے مطابق اپنے آپ کو اس کا مالک سمجھ بیٹھے تھے لیکن ایک دوسرا فریق جس نے غنیمت کی طرف رخ کرنے کے بجاۓ کفار کا تعاقب کیا تھا اس بات کا مدعی ھوا کہ اس مال میں ھمارا برابر کا حصہ ھے ، کیونکہ اگر ھم دشمن کا پیچھا کرکے اسے دور تک بھگا نہ دیتے اور تمہاری طرح غنیمت پر ٹوٹ پڑتے تو ممکن تھا دشمن پھر ہلٹ کر حملہ کر دیتا اور فتح شکست سے بدل جاتی ، ایک تیسرے فریق نے بھی جو رسول اللہ کی حفاظت کر رہا تھا ، اپنے دعاوی پیش کیۓ ، اس کا کہنا یہ تھا کہ سب سے بڑھ کر قیمتی خدمت تو اس جنگ میں ھم نے انجام دی ھے ، اگر ھم رسول اللہ کے گرد اپنی جانوں کا حصار بناۓ ہوۓ نہ رہتے اور آپ کو کوئ گزند پہنچ جاتا تو فتح ہی کب نصیب ہو سکتی تھی کہ کوئ مال غنیمت ہاتھ آتا اور اس کی تقسیم کا سوال اٹھتا مگر مال عملا جس فریق کے قبضے میں تھا اس کی ملکیت گویا کسی ثبوت کی محتاج نہ تھی اور وہ دلیل کا یہ حق ماننے ماننے کے لیۓ تیار نہ تھا کہ امر واقعی اس کے زور سے بدل جاۓ ، آخر کار اس نزاع نے تلخی کی صورت اختیار کرنی شروع کردی اور زبانوں سے دلوں تک بد مزگی پھیلنے لگی ، یہ تھا وہ نفسیاتی موقع جسے اللہ تعالٰی نے سورہ انفال نازل کرنے کے لیۓ منتخب فرمایا اور جنگ پر اپنے تبصرے کی ابتدا اسی مسئلے سے کی ، پھر پہلا ہی فقرہ جو ارشاد ہوا اسی میں سوال کا موجود تھا ، فرمایا تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں یہ اموال کو غنائم کے بجاۓ انفال کے لفظ سے تعبیر کرنا بجاۓ خود مسئلے کا فیصلہ اپنے اندر رکھتا تھا ، انفال جمع نفل کی ھے ، عربی زبان نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو واجب سے یا حق زائد ھو ، جب یہ تابع کی طرف سے ہو تو اس سے مراد وہ رضاکارانہ خدمت ھوتی ھے جو ایک بندہ اپنے آقاکے لۓ فرض سے بڑھ کر طوعا بجالاتا ھے اور جب یہ متبوع کی طرف سے ہو تو اس سے مراد وہ عطیہ و انعام ھوتا ھے جو آقا اپنے بندے کو اس کے حق سے زائد دیتا ھے ” مگر امر واقعہ یہ ھے کہ علماۓ مجوس نے جنگوں کو بنیاد بنا کر اصحاب محمد کے فرضی نزاع کی جو کہانیاں گھڑی ہیں مولانا مودودی مرحوم کی سنائ ھوئ یہ کہانی بھی ان مجوسی کہانیوں کی ایک نمائندہ کہانی ھے اور قرآن اس کہانی اور اس جیسی ہر ایک کہانی کی نفی کرتا ھے ، قرآن کی اپنی لغت کی رُو سے ہر وہ مال ، مالِ اَنفال ھے جو ضرورت سے زیادہ ھے اور ہر وہ مال غنیم ھے جو ضرورت سے زیادہ ھے اور محفوظ ھے اور یہ دونوں اموال اللہ کی ملکیت ہیں اور مخلوق کے محتاج اورنادار لوگوں کے لیۓ ہیں ، چاھے وہ باغات اور زمینوں سے حاصل کیۓ گۓ اموال ھوں یازراعت و باغات سے حاصل کیۓ ھوۓ ھوں ، یہ درست ھے کہ اس سورت میں جنگ بدر کا احوال بیان ھوا ھے اور جس کی تفصیل بھی اس کے متعلقہ مقام پر ضرور آۓ گی لیکن مال غنیمت پر اصحاب محمد علیہ السلام کے یہ نزاعی قصے مجوسیوں کے من گھڑت اور فرضی قصے ہیں ، اصحاب محمد کا دامن ان کہانیوں سے بہت بلند تھا ، سورہِ اَنفال کی پہلی اٰیت کا یہ سوال سورةالبقرة کی اٰیت 219 میں کیۓ گۓ سوال ” ویسئلونک ماذا ینفقون ” کا حصہ ھے ، وہاں پر یہ پوچھا گیا تھا ھم جو اموال راہ للہ میں دینا چاہتے ہیں اُس کے بارے میں کیا حکم ھے وہاں قرآن نے رسول اللہ کو ” قل العفو ” کے الفاظ میں یہ کہنے کا حکم دیا تھا کہ ضرورت سے زیادہ جو ھے جتنا ھے وہ سب اللہ کا ھے اور اللہ کے نادار بندوں کے لیۓ اور یہاں پر بھی وہی سوال ھوا ھے جو سورةالبقرة میں ھوا تھا اور یہاں پر بھی کتاب اللہ نے وہی جواب دیا ھے جو سورہ بقرہ میں دیا تھا ، یعنی تمہاری ضرورت سے زائد جو کچھ ھے وہ اللہ کا ھے جو پہلے خود اللہ کے رسول نے ، آپ کے بعد آپ کے جانشینوں نے اور آپ کے جانشینوں کے بعد قیامت تک آنے والے اُمت کے منتخب نمائندوں نے ہمیشہ محتاج اور نادار انسانوں کی فلاح وبہبود کے لۓ صرف کرنا ھے اور کرتے رہنا ھے یہاں تک کہ دُنیا سے غربت اور افلاس کا خاتمہ ھو جاۓ ، اس سارے سلسلہِ کلام کا ماحصل یہ ھے کہ نَفق ، اَنفال اور غنیم قرآن کا ایک مستقل بالذات فلاحی قانون ھے جس کا انسان کی کسی حربی جنگ سے کوئ تعلق نہیں ھے ، اس کا تعلق ھے تو قرآن کے صرف اس قانونِ جنگ سے ھے جو جنگ بطن و جوع کی شکل میں انسانی معاشرے میں ایک طویل وقت سے جاری ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے