Home / بین الاقوامی / اصل حقیقت سے ناآشنا ہیں ہم! (*حصہ آخری*)

اصل حقیقت سے ناآشنا ہیں ہم! (*حصہ آخری*)

*آپکے پانچ منٹ آپکے خوف کو ختم اور ایمان کو تازہ کر دیں گے ان شاءاللہ*
‏چین کی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ
تحریر, ترتیب ؤ تحقیق اور انتخاب
مولانا اسد زکریا قاسمی
کراچی

‏جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

کورونا وائرس برطانیہ کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ، اسے امریکا میں رجسٹرڈ کیا گیا اور پھر کینیڈا کی لیبارٹری سے کینیڈا کی پرواز کے ذریعے باقاعدہ طور پر ووہان کی لیبارٹری میں پہنچایا گیا
تحقیق کے مطابق کورونا وارئرس کو ایک حیاتیاتی ‏ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کام انگلینڈ کے Pirbright Institute نے شروع کیا Pirbright Instituteکے اس پروجیکٹ کے مالی مددگار Bill and Melinda Gates Foundationاور Johns Hopkins Bloomberg School of Public Health کورونا وائرس کو باقاعدہ امریکا میں Pirbright Institute نے پیٹنٹ ‏بھی کرایا
اس کا پیٹنٹ نمبر 10, 10,701 تھا ۔ جنوری میں امریکا میں پہلے کیس کے دریافت ہوتے ہی یہ پیٹنٹ ختم کردیا گیا ۔ کورونا وائرس جسے امریکا کے ادارے The Centers for Disease Control and Prevention (CDC)نے 2019-nCoV کا نام دیا ہے ، سے بچاؤ کے لیے 18 اکتوبر 2019میں ہی نیویارک میں ‏کمپیوٹر پر مشق کرلی گئی تھی ۔ مذکورہ مشق کا انتظام بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ، جان ہوپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکوریٹی نے ورلڈ اکنامک فورم کے اشتراک سے کیا تھا ۔
اس مشق جس میں پارلیمنٹ ، بزنس لیڈروں اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا تھا ، اس امر کی مشق کی گئی کہ ‏کورونا وائرس کے وبا کی صورت میں پھیلنے کی صورت میں اس سے بچاؤ کس طرح سے کیا جائے ۔اس مشق کو Event 201کا نام دیا گیا ۔
یہ ایک فل اسکیل ایکسرسائیز تھی جو چین کے وسطی علاقے ووہان میں پہلا کیس رپورٹ ہونے سے چھ ہفتے قبل کی گئی تھی
یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ کورونا وائرس سے
‏بچاؤ کی کمپوٹر پر مشق کا اہتمام کرنے والی تنظیمیں وہی تھیں جو اس وائرس کے پیٹنٹ کے مالک ادارے کو فنڈز فراہم کررہی تھیں
اور اب یہی ادارے اور تنظیمیں کورونا وائرس کی ویکسین پر کام کررہے ہیں ۔18 اکتوبر کو ہونے والی مشق کے شرکاء میں دنیا کے بڑے بینکوں ، بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ،
‏جانسن اینڈ جانسن ، لاجسٹیکل پاورہاؤسز،میڈیاکےنمائندوں کے علاوہ چین اور امریکی ادارے CDC کے نمائندے بھی شریک تھے۔ مشق میں باقاعدہ ماحول بنایا گیا کہ میڈیامیں کورونا وائرس کے پھیلنے سے تباہی کی بریکنگ رپورٹ آرہی ہیں ، شہری خوفزدہ ہیں اور حکومت سے اس کے تدارک کے لیے
‏اقدامات کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں
ووہان میںZhengdian Scientific Park of Wuhan Institute of Virology میں Wuhan National Biosafety Laboratory لیول 3 اور لیول 4 واقع ہیں
لیبارٹری میں لیول کی درجہ بندی کسی بھی وائرس کومحفوظ رکھنے کے انتظامات کے حوالے سے کی جاتی ہے ۔ووہان کی لیبارٹری
‏میں کورونا وائرس پہنچانےمیں دوچینی سائنسدانوں کا نام لیا جاتا ہے
Dr. Xiangguo Qiu
جو ماہر وائرس بھی تھی، 1996 میں کینیڈا مزید تعلیم کے لیے آئی
ڈاکٹر چی کا شوہر Keding Cheng اس وقت کینیڈا کے شہر ونی پیگ کی لیبارٹری میںبطور بائیولوجسٹ میں کام کرتا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی ایبولا
‏اور سارس وائرس پر تحقیقی کام کرتے تھے گزشتہ جولائی میں CNBC نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ونی پیگ کی لیبارٹری سے ایک چینی خاتون سائنسداں ، اس کے شوہر اور ان کے چند پوسٹ گریجویٹ طلبا کو حراست میں لیا گیاہے ۔ اس خبر کے ایک ماہ کے بعد CNBC نے مزید خبر دی کہ مذکورہ سائنسداں جوڑے نے
‏ایبولا اور Henipah کے وائرس ائر کینیڈا کی پرواز کے ذریعے 31 مارچ کو چین بھیجے تھے خبر کے مطابق وائرس کی شپمنٹ کے لیے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا تھا
کہا جاتا ہے کہ اسی شپمنٹ کے ذریعے کورونا وائرس بھی ووہان کی لیبارٹری بھجوایا گیا اور فالو اسٹوری میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر چی
‏نے 2017 کے دوران چین کے پانچ دورے کیے جس میں چین کی لیول 4 کی نئی لیبارٹری کے ٹیکنیشنوں اور سائنسدانوں کو تربیت فراہم کی گئی ۔ یہ سائنسداں جوڑا اب بھی زیر حراست ہے ۔کورونا کا پیٹنٹ وائرس ونی پیگ کی لیبارٹری کے علاوہ انگلینڈ کی لیبارٹری سے اور بھی کئی ممالک کی
‏لیبارٹریوں کو فراہم کیا گیا

وہی ہوا جسکا ڈر تھا ، پہلے یہودی زائیونسٹ نے اپنے بائیو لاجیکل ہتھیار ( کورونہ وائرس ) سے دنیا کو خوف میں مبتلا کر کے تباہ کر دیا ، اب ٹرائیکا کا سربراہ ( اسرائیل ) کرونا کے خلاف میڈیسن بنا چکا ہے ، جانچ پڑتال رہ
‏گئی ہے ، چار سے پانچ ماہ میں دوا عام مارکیٹ میں دستیاب ہو گی
کل ہی تحریر کیا ہے کہ کورونہ کا توڑ اسرائیل کے پاس موجود ہے ، اب یہ دنیا میں خوف و ہراس پھیلانے کے بعد علاج کےنام پر کھربوں ڈالرز بناۓ گا ۔ ۔ ۔ جبکہ روس و چین بھی کوشش میں ہیں ، دوا بنانے کی ، چین جون تک کا وقت
‏مانگ رہا ہے ۔ خیر اصل ایشو کی طرف آتے ہیں

اگر اب اسرائیل کہتا ہے کہ دوا صرف ان ممالک کو ملے گی جو اسے تسلیم کریں گے ، جو ملک مجھے تسلیم نہیں کرے گا اسے دوا نہیں ملے گی ۔ ۔ ۔ پھر ؟

مزید تفصیل جاننے کیلئے میری
( ڈیل آف دی سنچری سیریز ) پڑھ لیں ۔ ۔ ۔
چین ، اٹلی ، ایران
‏تینوں ممالک کورونہ سے بری طرح متاثر ہوئے ، نوبت یہاں تک پہنچی 1962 کے بعد ایران نے پہلی مرتبہ آئ ایم ایف سے پانچ ارب ڈالر کا قرض مانگا ہے ، کورونہ سے لڑنے کیلئے ، اٹلی کو ون بیلٹ ، ون روڈ منصوبے میں شامل ہونے کی سزا ملی ،
‏امریکہ کے منع کرنے کے باوجود وہ چین کے ساتھ شامل ہوا ، ایران میں چین اگلے پچیس سالوں میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا تھا ، چین ، امریکہ کی جنگ سب جانتے ہیں ۔ اب بھی کسی کو شک ہے کہ کورونہ بائیو لاجیکل ہتھیار نہیں ، وہ اپنی عقل کا ماتم کرے
‏‎آپ کی اطلاع کے لیے یہ بائیولیجیکل جنگ ہی ہے مگر اسے وباء بنا کر دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے اور ایک روسی سائنسدان نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وباء سے ایک بلین انسان مر جائے گا۔
‏موجودہ وباء کورونا وائرس اللہ تعالی کیطرف سے ہم سب کے لئے آزمائش ہےاس سے نکلنے کے لئے جو تدابیر بھی ڈاکٹر حضرات بتائیں، وزارت صحت کے لوگ اعلان کریں،حکومت کی طرف سے کوئی احتیاطی تدبیر شائع ہو،وہ بھی اختیارکرنی چاہیےہم نےجامعہ دارالعلوم کراچی سے بھی اس سلسلے میں ایک پیغام نشرکیاہے
‏بے حیائی الحاد کی سب سے شاطر لونڈی ہے۔
‏مومن کے لئے نا امیدی کوئی شے نہیں کیونکہ اسے اللہ نے ایک ایسی طاقت دی ہے جو ہمیشہ ساتھ رہتی ہے اور کبھی کم نہیں ہوتی، جو ہر غم ہر درد کی دوا ہے، اسے استغفار کہتے ہیں اور موت سے ایک لمحہ پہلے تک یہ خزانہ آپ کے پاس رہتا ہے جس کی کنجی ندامت بھرا دل، چند آنسو اور ایک سجدہ ہے بس۔
‏مساجد کی بندش پر رونے والو ! اگر مساجد بھری ہوتیں تو شاید آج خالی نہ کرائی جاتیں، روزانہ پانچ وقت آپ کو پکارا جاتا تھا کہ آؤ مسجد میں، نماز کی طرف، فلاح کی طرف لیکن معدودے چند ہی جایا کرتے تھے، اور اب اللہ نے آپ سے اپنے گھر میں آنے کی استطاعت ہی چھین لی، استغفراللّٰہ
‏خوف زدہ ہونے کے بجائے سچی اجتماعی توبہ کریں جو رب قوم یونس کی توبہ قبول کرکے عذاب کو ٹال سکتا ہے وہی رب آپ کا بھی ہے۔۔۔
‏ویسے یہ قبروں پہ سجدے کرنے والے، درباروں کو حاجت روا سمجھنے والے اور پیروں کو مشکل کشا بتانے والے کیا ہوئے؟ بھئی ان کا کرونا سے ڈرنا بنتا ہی نہیں ہے، اب کیوں نہیں واویلا کرتے مزاروں پر جا کے؟ وہ اللہ جو وحدہ لاشریک ہے اسی طرح آپ کی حقیقت کھول کر رکھ دیتا ہے۔
‏صبح دھند چھائی ہو تو بھی آپکو سورج کے ہونے کا یقین ہوتا ہے اسی طرح جب مشکلات کی کہر پھیل جائے تو اللہ کی رحمت کے آفتاب کا یقین رکھیں۔
‏دھوپ کی ایک کرن تک پہ اختیار نہیں، مگر انسان سورج بنانے والے رب کی نافرمانی کرتا ہے۔
‏حکومت تو پہلے ہی غریب مکاؤ تا کہ غربت ختم ہو والی پالیسی پر گامزن تھی اور کرونا کی شکل میں تو انہیں ایک مضبوط سہارا میسر آ گیا ہے، حالات یہ ہیں کہ حکومتی اقدامات کرونا سے بچاؤ نہیں بلکہ کرونا کو پھیلاؤ مہم کا حصہ دکھائی رہے ہیں۔
‏سندھ حکومت کی حکمت عملی کرونا وائرس کے خاتمے کی ہے جبکہ پنجاب اور پختونخواہ حکومتوں کی پالیسی لوگوں میں کرونا وائرس کو ازحد پھیلانا ہے تاکہ ان سے ہونے والی اموات سے ہیجان برپا کرکے عالمی اداروں و ممالک سے قرضہ اینٹھا جاسکے، اور یہ سب وفاقی حکومت کی شہہ پر ہورہا ہے۔
‏مستقبل میں جب بھی یہود عراق پر تسلط کی کوشش کریں گے توروافض ان کے سب سے بڑے معاون ثابت ہوں گے،کیونکہ یہ ہمیشہ کفار و مشرکین اور یہود و نصاری کے ساتھی رہے ہیں، ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑتے رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں سے عداوت رکھی ہے
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ..
‏اللہ کے نیک بندوں کی دعا، دوا بھی ہوتی ہے۔
‏مسلمان حکمرانو! چاہیئے تھا کہ آپ دنیا کو اجتماعی توبہ و استغفار کی طرف لاتے، اللہ کے گھروں میں گریہ و زاری کرتے لیکن آپ نے تو مساجد کو تالے لگوا دیئے گویا مسلمان ہو کر یہ پیغام دیا کہ ہم جو خدا کا سب سےمضبوط تصور رکھتے ہیں ہمارے پاس پریشانی میں کوئی راستہ نہیں ہوتا، استغفراللّٰہ
‏آقاﷺنے فرمایا تھا کہ ہماری ذلت کا سبب موت کا خوف اور دنیا کی محبت ہو گی، آج کہیں مساجد کو بند کر دیا گیا ہے تو کہیں جمعہ کی نماز ہی روک دی گئی ہے، بے توکلی کا کیسا شاندار مظاہرہ کیا گیا ہے، بھئی تمام حفاظتی اقدام اٹھائیں لیکن خود کو اللہ سے دور رکھ کر شیطان کی مدد نہ کریں۔
‏‎عام عوام میں استغفار کرنے کا شعور بیدار نہیں ہو رہا تو مقتدر حلقوں میں کہاں سے ہو گا جی وہ اپنی دستیاب سہولیات کو سب کچھ سمجھ کر بیٹھے ہوئے ہیــــں ہم اعمال سے زیادہ اسباب پر توجہ رکھے ہوئے ہیــــں. اللہ پاک اس امت کے حال پر رحم فرمائے .
‏وہ معاشرے جو مذہب کو بیکار چیز سمجھ کر ملحدانہ نظریات کی راہ پر چل پڑتے ہیں وہ بظاہر کتنے ہی ترقی یافتہ اور کامیاب دکھائی دیں لیکن ان میں باہمی یگانگت ایسی مفقود ہو چکی ہوتی ہے کہ مشکل حالات میں یہ ایک دوسرے کو خونی درندوں کی بھنبھوڑنے لگتے ہیں۔
‏میرے آقاﷺ کچھ خواب، کچھ خواہشیں، کچھ حسرتیں، کچھ چاہتیں، کچھ عقیدتیں، کچھ ریاضتیں اور کچھ عبادتیں دل کے صندوق میں رکھ کر ہم روز امید کی سڑک پر بیٹھ جاتے تھے، ہمارے پاس آنسووں کے سوا کوئی زادِ راہ نہ تھی، دور ہونے کا غم پہلے ہی سوا تھا کہ پتہ چلا مکہ، مدینہ اور دور ہو گئے ہیں۔
‏بات یہ ہے کہ اللہ آپ کے ساتھ تھا اور اللہ آپ کے ساتھ ہے اسی لئے آپ فاتح رہے ورنہ دشمنوں کے ساتھ تو آپ کے بھائی بھی تھے، دوست بھی تھے، دنیا بھی تھی اور ایٹمی ہتھیار بھی تھے لیکن وہ ہار گئے کیونکہ اہل ایمان کے مقابل ساری کائنات بھی آ جائے تو ہار جایا کرتی ہے۔
‎‏‎سب سے بڑی بات یہ کہ عددی اور ٹیکنالوجی کی قوت سے مرعوب مسلمانوں کو ملا عمر کی قیادت میں اتنی صدیوں بعد بھی یہ دیکھنے کو ملا کہ ایمان پختہ اور یقین کامل ہو
تو جیت ممکن ہے
‏مدتوں اچھی خبریں۔ 40 برس بعد افغانستان میںامن کا امکان۔ بھارت کا منہ کالا اورامریکی پسپائی ۔ بھارتی مسلمان دکھی ہیں مگر ان میں ایک تب و تاب اور توانائی کا ظہور۔ امت کا ادبار ختم ہونے کی ایک ذرا سی امید۔ رحم فرما یا رب مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ، ہم پہ رحم فرما۔
‏وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنیوالے کیا ہوئے
میں انکی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانےوالے کیا ہوئے
یہ کون لوگ ہیں مرے ادھرادھر
وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے
اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے
‏وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
‏بہادری ہار بھی جائے تو اسکی شکست نہیں ہوتی اور بزدلی جیت بھی جائے تو فتح یاب نہیں ہوتی، افغان طالبان اس ابدی حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ اہل ایمان خاک نشین ہو کر بھی تخت نشیں بن جاتے ہیں اور بزدل و منافق جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر بھی خاک کا رزق بن جاتے ہیں۔
‏تاریخی معاہدے کے بعد ، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں اور پی ٹی ایم اور بھارت کےلیے زمین تنگ ۔ دنیا بھر پاکستان کی ستائش ۔ پٹرول کی قیمت میں کمی، ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے اور مہنگائی کی لہر تھمنے کا امکان۔ یا رب فلسطین، کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں پہ رحمت فرما۔‎

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے