Home / اسلام / قُرآن کے تین سُنہری اُصولِ حیات

قُرآن کے تین سُنہری اُصولِ حیات

🌹اَلعلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَعراف ، اٰیت 199 تا 206 ))) 🌹
قُرآن کے تین سُنہری اُصولِ حیات 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیئر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 خذ العفو
وامر بالعرف واعرض عن
الجٰھلین 199 واماینزغنک من
الشیطٰن نزغ فاستعذ باللہ انہ سمیع
علیم 200 ان الذین اتقوااذامسھم طٰئف من
الشیطٰن تذکروا فاذاھم مبصرون 201 واخوانھم
یمدونھم فی الغی ثم لایقصرون 202 واذالم تاتھم باٰیة
قالوالولااجتبیتھا قل انما اتبع مایوحٰی الّی من ربی ھٰذا بصائر
من ربکم و ھدی رحمة لقوم یؤمنون 203 واذاقرئ القرآن فاستمعوالہ
وانصتوالعلکم ترحمون 104 واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخفیة ودون الجھر
من القول بالغدو والاٰصال ولا تکن من الغٰفلین 205 ان الذین عند ربک لایستکبرون عن عبادتہٖ
ویسبحونہ ولہ یسجدون 206
اے محمد ! آپ دُشمنوں سے ہمیشہ دَرگزر کیا کریں ، دوستوں کو ہمیشہ درگزر کی تعلیم دیا کریں اور نادان لوگوں سے ہمیشہ احتراز کیا کریں ، شیطان جب بھی اِن تین اصولوں میں سے کسی ایک اصول کو بھی آپ کے حافظے سے محو کرنے کی کوشش کرے تو دِل اور زبان دونوں کے ذریعے اللہ سے اللہ کی حفاظت مانگا کریں ، اللہ اپنے بندوں کے خاموش خیال کو بھی بخوبی سُنتا ھے اور پُرجوش اَعمال کو بھی بخوبی جانتا ھے ، میرے جو بندے مُجھ سے اپنے خیال اور اَعمال کا رشتہ رکھتے ہیں اُن کو جب بھی میرا خیال آتا ھے شیطان فورا ہی اُن سے دُور بھاگ جاتا ھے لیکن جو لوگ شیطان کے بھائ بند بن جاتے ہیں شیطان اُن کو میری رحمت سے دُور لے جاتا ھے اور جب آپ حق کے اِن مُنکر لوگوں کو اِن علمی مُعجزاتِ حیات کے بعد اُن کا کوئ مَن چاہا مُعجزہِ حیات نہیں دکھاتے تو وہ آپ سے اُلجھنے لگتے ہیں ، آپ اِن لوگوں سے کہہ دیں کہ میں اللہ کی طرف سے انسانوں کی طرف انسانوں کے لیۓ انسانوں کے فرمائشی پروگرام لے کر نہیں آیا ھو ں بلکہ میں اللہ کا کلامِ نازلہ لے کر آیا ھوں اور لوگوں کو اللہ کے وہی اَحکامِ وحی سُناتا ھوں جن کے سنانے کا اللہ سے حُکم پاتا ھوں ، مُجھے اللہ جو پڑھاتا ھے میں انسانوں کو وہی پڑھاتا ھوں اور مُجھے اللہ جو سکھاتا ھے میں انسانوں کو وہی سکھاتا ھوں ، جو لوگ اپنی ھدایت کے لیۓ اللہ کے اَحکامِ ھدایت چاہتے ہیں اُن کے لیۓ اللہ کے اس کلام میں بیشمار ھدایات اور دلائلِ ھدایات ہیں ، جب تُمہارے آس پاس کوئ قُرآن پڑھانے والا کسی قُرآن پڑھنے والے کو قُرآن پڑھارہا ھو تو تُم خاموش اور آمادہِ سماعت ھو کر پُوری توجہ کے ساتھ قُرآن پڑھنے اور قُرآن پڑھانے کی آواز کو سنا کرو تاکہ تُم پر قُرآن کے اَسرار کھلیں ، اگر تُم اللہ کا یہ کلام سُن کر اللہ سے کوئ التجا کرناچاھو تو اِس کے لیۓ کسی چیخم دھاڑ کی ضرورت نہیں ھے ، تُم اللہ کو بلند آواز ، پَست یا بے آواز بھی پکارو تو وہ تُمہاری ہر کُھلی اور دَبی آواز کو برابر سُنتا ھے اور اللہ کی عدالتِ انصاف میں صُبح و شام کی ہر ایک ساعت میں تُمہاری ہر ایک درخوست کی سماعت ھوتی ھے ، اِس لئے تُم کوئ موقع ضائع کیۓ بغیر اپنے دِل کا ہر دُکھڑا اپنے اللہ کو سنا سکتے ھو ، جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے رُوح و دِل کا یہ ہمہ وقتی تعلق قائم کر لیتے ہیں تو وہ کسی تکبر اور بڑے پَن کے بے تُکے خیال کا شکار نہیں ھوتے بلکہ وہ ہر حال میں زندگی کی حرکت و عمل کو جاری رکھتے ہیں اور زندگی کی حرکت و عمل کو جاری رکھنے کی توفیق و استطاعت کے لیۓ اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ جُھکے رہتے ہیں !
🌹 آخری آیات اور آخری ھدایات ! 🌹
زمان و مکان میں جب کبھی بھی اللہ کے کسی نبی یا رسول پر اللہ کی کوئ وحی نازل ھوتی تھی تو اُس وحی کے وہ سارے اَحکامِ نازلہ اُن اَنبیا ء رُسل کے اُن اَفرادِ اُمت کے لیۓ ھوتے تھے جو اُن اَنبیا ء و رُسل کی دعوت کے مخاطب ھوتے اور مخاطب رہتے تھے لیکن وحی کے اُس خطاب کا پہلا مخاطب بہر حال اللہ کا وہی نبی اور وہی رسول ھوتا تھا جو اُس وحی کے اُس زمان و مکان کے لیۓ اُس زمان و مکان میں موجُود ھوتا تھا ، اسی طرح پر سیدنا محمد علیہ السلام پر بھی قُرآن کی صورت میں جو وحی نازل ھوئ ھے اُس وحی کے مخاطب بھی نبی کے طور پر سیدنا محمد علیہ السلام ہی رھے ہیں لیکن اُس وحی کے سارے اَحکامِ نازلہ اُس اُمت کے لیۓ نازل ھوۓ ہیں جس کو یہ قُرآن ضابطہِ حیات کے طور پر دیا گیا ھے ، اِس وضاحت کی وجہ یہ ھے کہ اٰیاتِ بالا میں سے پہلی اٰیت کے مخاطب خود سیدنا محمد علیہ السلام ہیں لیکن اِس خطاب میں دیۓ گۓ اَحکامِ نازلہ اُن اَفرادِ اُمت کے لیۓ ہیں جو اَفرادِ اُمت ، اُمت کے طور پر اُمت میں موجُود رھے ہیں اور موجود ہیں اور اِن اٰیت میں سے پہلی اٰیت میں اللہ نے اِس اُمت کو جو تین سُنہری اَحکام دیۓ ہیں اُن میں سے پہلا حُکم یہ ھے کہ اِس اُمت کے حالات کیسے ہی بے خطر یا پُر خطر کیوں نہ ھوں اِس اُمت کے ہر فرد کو اس اصول پر عمل کرنا ھے کہ وہ اپنی ذاتی اور جماعتی زندگی میں اپنے دُشمنوں سے در گزر کیا کرے ، دُوسرا اصول یہ ھے کہ اِس اُمت کا ہر فرد اپنے اَحباب کو بھی اس اَمر کی تعلیم دے کہ وہ دُشمنوں کے ساتھ درگزر کا رویہ اختیار کیا کریں اور تیسرا اصول یہ ھے کہ نادان لوگوں سے فاصلے پر رہ کر کام کیا کریں ورنہ اُن کا سارا کام نادانوں کی نادانی کی نذر ھو جاۓ گا ، مزید براں یہ کہ اگر کوئ انسان نما شیطان انسان کو اس راستے سے ہٹانا یا بہٹکانا چاھے تو انسان اُس شیطان کے بَھرے میں آۓ بغیر ہی ہر حال میں قومی اور بین الاَقوامی سطح پر ان قُرآنی اصولوں کی پاسداری کرے ، چاھے اس کو اِس کا کوئ ظاہری فائدہ نظر آۓ یا نہ آۓ کیونکہ ایک مسلمان نے اس کے کسی وقتی فائدے کو نہیں دیکھنا بلکہ اللہ کے اُس دائمی حُکم کو دیکھنا ھے جو اِس اٰیت میں اللہ نے اُس کو دیا ھے لیکن اِس سہ جہتی اصول کا بُنیادی نُکتہِ تفہیم یہ ھے کہ یہ قوم اپنی عقل و بصیرت سے اِس بات کا بھی فیصلہ کرے کہ اگر اِس اُمت کے اَفرادِ اُمت کو اللہ نے دُشمنوں کے ساتھ یہ متوازن رویہ رکھنے کی تلقین کی ھے تو اِس کا اس کے اپنے اَفرادِ ملّت کے ساتھ کیا رویہ ھونا چاہیۓ ، اِن اٰیات میں بیان کۓ گۓ ان تین اصولوں کے بعد اللہ نے اِس اُمت کے لیۓ دُوسرا یہ اھم اصول بیان کیا ھے کہ جب کسی قُرآن پڑھنے والے کو کوئ قُرآن پڑھانے والا قُرآن پڑھا رہا ھو تو اہلِ اسلام پر لازم ھے کہ وہ اجتماعی طور پر اِس قُرآن پڑھانے والے کے قُرآن پڑھانے کے انداز کو اور قرآن پڑھنے والے کے قرآن پڑھنے کے انداز کو توجہ کے ساتھ دیکھیں اور توجہ کے ساتھ سنیں تاکہ ان پر اللہ اپنی رحمت کرے اور ان کے لیۓ تفہیمِ قرآن کا مرحلہ آسان ھو جاۓ لیکن عُلماۓ روایت کی جہالت کا عالَم یہ ھے کہ انہوں نے اِس اٰیت کے اس حُکم کی بنا پر اُمت کو اِس فتنے میں ڈالا ھوا ھے کہ جب ان کا امام اپنی نماز میں تلاوت فرما رہا ھو تو مُقتدیوں کو اِس کی تلاوت کی سماعت کرنی چاہیۓ یا اس کی اتباع میں رہتے ھوۓ اَلگ سے فاتحہ بھی پڑھنی چاہیۓ کیونکہ ان کے اماموں نے دوسرے بہت سے مذہبی فتنوں کی طرح امام کی اقتدا میں مُقتدی کے فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا ایک فتنہ بھی صدیوں سے صدیوں کے لیۓ کھڑا کر رکھا ھے اور اِس فتنے کا مقصد یہ ھے کہ اس امت کا ہر فرد عُمر بھر انہی جھگڑوں اور رگڑوں میں اُلجھا رھے اور اُمت کا کوئ فرد کبھی بھی قرآن کو سمجھنے ، اس پر عمل کرنے اور عمل کرکے جنت میں جانے کے بجاۓ رفع یدین اور فاتحہ خلف الامام کے جھگڑے کرتا ھوا مرجاۓ اور کسی سوال جواب کے بغیر سیدھا جہنم میں پُہنچ جاۓ ، قابلِ ذکر بات یہ ھے کہ اٰیت ھٰذا میں ” قُرئ ” فعل مجھول کا صیغہ ھے جس کا فاعل موجُود نہیں ھے کیونکہ جس فعل کا فاعل غائب ھوتا ھے اُس فعل کا فاعل اللہ خود ھوتا ھے اور اٰیت ھٰذا میں اس سے مراد یہ ھے کہ جب محمد علیہ السلام کی موجودگی میں اللہ محمد علیہ السلام کو قرآن پڑھا رھا ھے اور اللہ کا نبی محمد اللہ سے قرآن پڑھ رہا ھے یا محمد نبی اپنے اصحاب کو قرآن پڑھا رہا ھے اور اصحابِ محمد ، محمد علیہ السلام سے قرآن پڑھ رھے ہیں اور سیدنا محمد و اصحابِ محمد کے بعد کے کسی بھی زمان و مکان کا کوئ بھی انسان قرآن پڑھ رہا ھے یا پڑھا رہا ھے تو اس وقت اُس سے قرآن کو سننے ، پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جاۓ ، اسی کوشش و سعی کا نام ایمان ھے ، اِن اٰیات میں ایک اور بات یہ بتائ گئ ھے کہ قرآن سننے اور پڑھنے کے دوران قرآن کا جو حکم سمجھ میں آجاۓ تو انسان اللہ کے اِس حُکم کے سامنے اپنا سر جُھکا دے لیکن مُلّا نے اس اٰیت کے حوالے سے اُمت کو اس چکر میں ڈالا ھوا ھے کہ جب کبھی تلاوت کے دوران سجدے کی اِس اٰیت یا کسی اور اٰیت میں سجدے کا لفظ آجاۓ تو پڑھنے اور سننے والوں پر لازم ھے کہ وہ اُسی وقت سجدہ اَداکریں یا بعد میں یہ سجدہِ قضا کریں اور پھر یہ بحث ھے کہ کون کون سا امام یہ سجدہ وضو کر کے کرتا تھا اور کون کون سے امام بغیر وضو کے یہ سجدہِ تلاوت کیا کرتے تھے ، ظاہر ھے کہ اِس کج بحثی کا مقصد بھی انسان کو فہمِ قُرآن سے ہٹانا اور فتنے میں مُبتلا رکھنا ھے ، سو جب تک قُرآن کو اِن جاہل اماموں سے اور اِن جاھل اماموں کو قُرآن سے دُور نہیں کیا جاۓ گا تب تک اس اُمت پر فہمِ قُرآن کا دروازہ بند رھے اور جب تک اس اُمت پر فہم قُرآن کا دروازہ بند رھے گا تب تک یہ اُمت خُدا کے ہر عذاب سے دوچار اور لاچار ھوتی رھے گی اور آخری بات جو اِن اٰیات میں بتائ گئ ھے وہ یہ ھے کہ جو لوگ اللہ کی اِس کتاب سے ھدایت پاتے ہیں وہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی ابلیسی تکبر یا شیطانی بڑے پَن کا شکار نہیں ھوتے بلکہ جتنا وہ فہمِ قُرآن سے قریب ھوتے ہیں اتنی ہی اُن میں عاجزی و انکساری آتی جاتی ھے اور درحقیقت خشیت کی یہی کیفیت ھے جس کا حاصل اللہ کے سامنے جُھکنا اور جُھکے رہنا ھے !!

https://chat.whatsapp.com/DUIvrkQZBcf2CAInqxZKgL
السلام عیلکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
اللہ کے فضل اور آپکی چاہت ؤ طلب سے آج سورہ الاعراف مکمل ہوچکی ہے.
اب ان شاءاللہ کل سے سورہ الانفال شروع ہو گئ,

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    Hey I know this is off topic but I was wondering if you knew of any widgets I could add to my blog that
    automatically tweet my newest twitter updates. I’ve been looking for a
    plug-in like this for quite some time and was hoping maybe you would have some
    experience with something like this. Please let me know if you run into anything.
    I truly enjoy reading your blog and I look forward to your new
    updates.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے