Home / اسلام / زمان و مکان کا آخری زلزلہ !!

زمان و مکان کا آخری زلزلہ !!

🌹#العلمAlilm🌹 علم الکتاب 🌹
((( اَلاَعراف ، اٰیت 181 تا 188 ))) 🌹
زمان و مکان کا آخری زلزلہ !! 🌹
ازقلم… اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !!🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وممن خلقنا
امة یھدون بالحق وبہ
یعدلون 181 والذین کذبوا
باٰیٰتنا سنستدرجھم من حیث لا
یعلمون 182 واملی لھم ان کیدی
متین 183 اولم یتفکروا مابصاحبھم
من جنة ان ھو الا نذیر مبین 184 اولم ینظروا
فی ملکوت السمٰوٰت والارض وما خلق اللہ من شٸ
وان عسٰی ان یکون قد اقترب اجلھم فبای حدیث بعدہ
یٶمنون 185 من یضلل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم فی طغیانھم
یعمھون 186 یسٸلونک عن الساعة مرسٰھا قل انما علمھا عند ربی لا
یجلیھا لوقتھا الا ھو ثقلت فی السمٰوٰت والاض لا تاتیکم الا بغتة یسٸلونک
کانک حفی عنھا قل انما علمھا عند اللہ ولٰکن اکثرالناس لا یعلمون 187 قل لا املک
لنفسی نفعا ولا ضرا الا ماشا ٕ اللہ ولو کنتم اعلم الغیب لا ستکثرت من الخیر وما مسنی
السو ٕ ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یٶمنون 188
ھم نے اپنی اِس زمین پر اپنی جو ذی شعُور مخلوق پیدا کی ھے اُس مخلوق میں ایک ایسی انسانی جماعت ہمیشہ موجُود رہتی ھے جو ہمیشہ ھمارے قانونِ فطرت سے مدد لیتی ھے اور ہمیشہ ھمارے قانونِ فطرت کے مطابق فیصلے دیتی ھے ، ھماری اِس مخلوق کے جو سرکش اَفراد ھمارے قانونِ فطرت سے اعراض کرتے ہیں ھم اُن کو فطرت کے ایک تدریجی قانونِ عمل کے مطابق آہستہ آہستہ اِس طرح اپنی گرفت میں لیتے رہتے ہیں کہ اُن کو معلوم ہی نہیں ھوتا کہ اُن کے ساتھ اَچانک ہی یہ سب کیا ھوگیا ھے اور ھم اپنی زمین کے اِن سرکش و باغی عناصر کو اپنی زمین میں حرکت و عمل کی وہی نَپی تُلی مُہلت دیتے ہیں جو ھمارے متوازن نظام کو غیر متوازن نہیں بنا سکتی اور ھم اِن لوگوں کو حرکت و عمل کی جو مُہلت دیتے ہیں اُس پر بھی ہمہ وقت ھماری ایک سخت گرفت موجُود ھوتی ھے لیکن ھمارے قُرآن کے یہ مخاطب لوگ اِس اَمر پر غور نہیں کرتے کہ ھم نے ان کی تعلیم کے لیۓ اِن پر اپنا جو نماٸندہ مامُور کیا ھے وہ اِن سے اِن کے خیر و شر کی کوٸ بات چُھپاکر نہیں رکھتا بلکہ وہ دُنیا اور یومِ حساب و احتساب کے موقعے پر کام آنے والی ہر ایک بات کو کُھلے اَلفاظ میں بیان کرتا ھے تاکہ ھماری ہر بات سارے اہلِ سماعت کی سمجھ میں آجاۓ لیکن اِن لوگوں نے اِس بات پر کُچھ زیادہ غور نہیں کیا ھے کہ خالقِ ارض و سما نے ارض و سما میں جو اَجسام و اَجساد پیدا کیۓ ہیں اُن میں سے کوٸ جسم اور کوٸ جسد بھی یقینِ حیات کے داٸرے میں موجُود نہیں ھے بلکہ ہر ایک جسم اور ہر ایک جسد اِمکانِ موت کے داٸرے میں کھڑا ھے اور اِس پر کسی بھی لَمحے وہ موت وارد ھو سکتی ھے جس سے وہ ڈرہا ھے ، اگر اِن لوگوں نے قُرآن کی اِس بات پر اَب بھی یقین نہ کیا تو پھر اِن کے پاس قُرآن کی اِس واحد یقینی بات کے سوا دُوسری کون سی یقینی بات رہ جاتی ھے جس پر یہ لوگ اِس کے بعد یقین کریں گے ، حقیقت یہ ھے کہ جو شخص اللہ سے گُمراہی پانے پر مصر ھو جاتا ھے تو وہ اللہ سے گُمراہی کے سوا کُچھ نہیں پاتا اور جو شخص اللہ سے گُمراہی کے سوا کُچھ نہیں پاتا وہ عُمر بھر گمراہی کے تاریک جنگل میں ٹامک ٹویاں مارتا ھوا مر جاتا ھے ، اِن لوگوں کا حال یہ ھے کہ اِن کو قُرآن کے اَحکامِ حیات جاننے کا تو کوٸ ذوق نہیں ھے لیکن یہ جاننے کا بہت شوق ھے کہ زمان و مکان کا وہ آخری زلزلہ کب آۓ گا جب زمین اپنے نگلے ھوۓ انسانوں اور خزانوں کو اُگل دے گی اور ہر انسان اپنے قدموں پر چل کر اپنے عرصہِ اعمال کی مَحشر میں جاۓ گا اور اپنے اعمالِ خیر و شر کی جزاۓ خیر و شر پا کر اپنے اُس تجسس سے آزاد ھو جاۓ گا جو اُس کی پیداٸش سے موت اور موت سے محشر تک اُس کے ساتھ رہا ھے ، یہ لوگ آپ سے قیامت کے اِس زلزلے کے دن اور وقت کے بارے میں اِس طرح سوال کرتے ہیں کہ جیسے آپ نے اِس روز کے لَمحہِ موجُود سے اُس روز کے لَمحہِ موعُود تک کے ایک ایک لَمحے کا حساب جوڑ لیا ھے ، آپ اِن کو بتا دیں کہ اُس قیامت خیز زلزلے کا وقت اللہ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ھے لیکن اُس کے بارے میں تُمہارے محدُود فہم کے لحاظ سے یقینی بات صرف یہ ھے کہ زمین کا وہ زلزلہ زمین کا سب سے بڑا اور سب سے بھاری حادثہ ھو گا اور جب وہ حادثہ ھوگا تو اتنا اَچانک ھوگا کہ کسی کو کُچھ سمجھنے اور سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا اور آپ اِن لوگوں پر اپنی ذات کے حوالے سے یہ اَمر بھی واضح کردیں کہ میں اپنی ذات کے لیۓ کوٸ ایسا خاص اختیار نہیں رکھتا کہ جب چاھوں غیب کے پردے سے اپنے لیۓ کوٸ نفع کھینچ کر باہر لے آٶں اور جب چاھوں غیب کے پردے سے ظاہر ھونے والے کسی نقصان سے خود کو بچالوں ، میرے پاس اپنی ذات کو قُدرت کے پیدا کردہ حالات و حادثات سے بچانے کا اتنا ہی اختیار ھے جتنا اللہ نے دیا ھے اور اللہ نے جو اختیار مجھے دیا ھے اُس میں ، مَیں اپنی مرضی سے کوٸ کمی بھی نہیں کرسکتا اور اپنی خواہش سے کوٸ اضافہ بھی نہیں کر سکتا ، اِس دُنیا میں میرا کام صرف یہ ھے کہ میں تُم کو لَمحہِ حساب کی ناخوش گواریوں سے آگاہ کر کے اُس لَمحے کی شدت سے ڈراٶں جس کے آنے میں کوٸ شک نہیں ھے اور میں تُم کو اُس لَمحے کی خوش گوار یوں کی خبریں سناکر اُس لَمحے میں واقع ھونے والی اللہ کی رحمتوں اور مہر بانیوں کی آس دلاٶں جن کے واقع ھونے میں بھی کوٸ اشتباہ نہیں ھے اور یہ خُداٸ اہتمام اِس لیۓ ھے کہ قُرآن پر ایمان و یقین رکھنے والوں کا ایمان و یقین پہلے سے زیادہ پُختہ اور پہلے سے زیادہ مُسحکم ھو جاۓ !
🌹 اٰیات کے مطالب و مقاصد ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں سب سے پہلے تو یہ خوش آٸیند بات بتاٸ گٸ ھے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کی تخلیق میں ایک ایسا جوہرِ خیر رکھا ھوا ھے کہ اُس جوہرِ خیر کی وجہ سے زمین پر ہمیشہ ہی کُچھ ایسے اہلِ خیر اَفراد موجُود رہتے ہیں جن کے جذبہِ خیر و سَعیِ خیر کی وجہ سے اہلِ زمین کو انتہاٸ نامساعد اور انتہاٸ بدترین حالات میں بھی خیر کا کوٸ نہ کوٸ پیغام ملتا رہتا ھے اور زمین کے جو لوگ زمین پر اِن اہلِ خیر کو نیچا دکھانے اور شیطان کا شر پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں اُن لوگوں کو بھی ایک غیر محسوس نظم و انتظام کے ذریعے محدُود کیا جاتا ھے تاکہ خیر پر شر غالب نہ آجاۓ اور خیر و شر کے درمیان قُدرت کا قاٸم کیا گیا توازن عدمِ توازن کا شکار نہ ھو جاۓ ، ہر چند کہ قُرآن نے اِس اٰیت میں اور اِس اٰیت کے اِس مضمون کی حامل بعض دُوسری اٰیات میں زمین کے جن اہلِ خیر اَفراد کا ذکر کیا ھے اُن کا مصداق اہلِ اسلام نے صرف اِہلِ اسلام کو ٹھہرایا ھے لیکن قُرآنِ کریم کے اَلفاظ ” خلقنا اُمة “ میں انسانی معاشرے کے وہ سارے اَفراد شامل ہیں جو کسی بھی درجے میں وہ اَعمالِ خیر اَنجام دیتے ہیں جن سے کسی ایک قوم کے بجاۓ پُوری انسانیت کو فاٸدہ پُہنچتا ھے ، یہ الگ بات ھے کہ اِن اہلِ خیر کی تعداد مغرب کے قانونِ جمہُور اور مشرق کے علماٸ جمہُور کے قاعدوں کے مطابق بہت بہت زیادہ نہیں ھوتی بلکہ بہت کم ھوتی ھے مگر انسانیت کے یہ تھوڑے سے نماٸندے ہی اللہ کے وہ شکر گزار بندے ھوتے ہیں جن کی قُدرت کے اَعلٰی نظامِ انصاف میں قدر و منزلت ملتی ھے ، اِن اٰیات میں دُوسری بات یہ بتاٸ گٸ ھے کہ زمین پر قُرآن کا پیغام اللہ کا وہ حتمی پیغام ھے کہ جو شخص اِس کتاب کو مانتا ھے وہ بھی اِس کے فکری و فطری مضامین میں غور و فکر کرے اور جو انسان اِس کتاب کو نہیں مانتا وہ بھی اِس کے اِن فکری و فطری اَحکام میں غور و فکر کرے جو اللہ نے اِس میں بیان کیۓ ہیں کیونکہ اِن اَحکام میں اللہ نے اِس اَمر کی ضمانت دی ھے کہ جو انسان اِس کتاب کو سمجھ کر پڑھے گا وہ ایک نہ ایک دن لازما اِسی ایک نتیجے پر پُہنچے گا کہ دُنیا کے داٸمی اَمن کی داٸمی ضامن یہی کتاب ھے اور ساری دُنیا کے لیۓ قابلِ عمل اَحکام اسی کتاب کے اَحکامِ مُحکم ہیں ، تیسری بات جو اِن اٰیات میں اللہ نے اپنے بندوں کو سمجھاٸ ھے وہ یہ ھے کہ انسان موت کے بعد آنے والے جس لَمحے سے خوف زدہ ھے اُس لَمحے کے خوش گوار و نا خوش گوار ھونے کا دار و مدار انسان کے مُثبت و مَنفی اعمال پر ھے اور اِن مُثبت و مَنفی اعمال سے مُراد اِس کے وہ اَعمال نہیں ہیں جو اِس کی ذات گُنبد میں اَٹکے ھوۓ حرص و ہوس کے وہ اعمال ہیں جو اِس کی حرصِ ذات یا ہوسِ ذات سے جُڑے ھوۓ ہیں بلکہ اِس سے مُراد اِس کے وہ مُثبت و مَنفی اعمال ہیں جو اِس نے انسان اور انسانیت کے اجتماعی مفاد کے لیۓ اَنجام دیۓ ہیں ، اِس لیۓ انسان کا اَصل مسٸلہ یہ نہیں ھے کہ اِس کا یومِ حساب کب آنا ھے بلکہ انسان کا اَصل مسٸلہ یہ ھے کہ اُس متوقع یومِ حساب کے لیۓ اُس کے پاس کیا سامان ھے یا کیا سامان ھونا چاہیۓ ، جس شخص کی زندگی انسان اور انسانیت کی بَھلاٸ میں گزری ھے اُس کو اُس دن کے حساب کے لیۓ پریشان ھونے کی ضرورت نہیں ھے ، چاھے وہ زندگی میں کوٸ اھم کر سکا ھے یا کوٸ اھم کام کیۓ بغیر ہی دُنیا سے رخصت ھو گیا ھے لیکن جو شخص انسان سے کٹا ھوا اور انسانیت سے ہٹا ھوا ھے اُس کو واقعی اپنے یومِ حساب کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ھے کیونکہ اُس دن نے جب بھی آنا ھے بالکُل اَچانک آنا ھے اور جس وقت آنا ھے اُس وقت عملِ خیر و عملِ شر کی اَہمیت نے ختم ھو جانا ھے ، اِس لیۓ جس انسان نے اپنے جیتے جی اِس زندگی کا سکون پانا ھے اور مرنے کے بعد ملنے والی اُس زندگی میں بھی سکون سے رہنا ھے اُس کو قُرآن کی طرف آنا پڑے گا ، چاھے وہ خوش دلی سے آۓ یا بے دلی سے آۓ کیونکہ انسان اور انسانیت کی نجات و فلاح کا یہی آخری راستہ ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے