Home / کالم / سیرت اجلاس کی کہانی،

سیرت اجلاس کی کہانی،

امداداللہ طیب کی زبانی

سیرت طیبہ کا مطالعہ ہر انسان کے لیے بہت ضروری ہے۔ انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے ہر شعبے میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ ایک ایسی ذات اور شخصیت ہو جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔اور وہ فقط ایک ہی ذات نبی ہے۔ جس کی زندگی ہر انسان ہر مسلمان کے لئے نمونہ ہے۔
سیرت طیبہ کا مطالعہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ زندگی میں آنے والی مشکلات کو کیسے برداشت کرنا ہے؟ اور اپنی زندگی کو ان مشکلات سے نکال کر احسن طریقے سے زندگی کو کیسے گزارنا ہے؟ یہ اسی وقت ہوگا کہ جب ہم سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں گے۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے سیرت طیبہ کے مطالعہ کو فرض قرار دیا ہے، کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ ظلم و ستم اندھیری نگری کے ماحول میں، عدل و انصاف کے عنقا ہونے کے اس دور میں،جس میں ہم جی رہے ہیں۔ سیرت طیبہ کے مطالعہ کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔کہ ہرانسان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو ضرور پڑھنا چاہیے
مصروفیت کے اس دور میں اگر پڑھنے کا وقت نہ ملے تو سیرت طیبہ کے حلقوں میں لازمی بیٹھنا چاہیے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تذکرہ بھی برکت سے خالی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے کیسے ہر مسلمان واقف ہو جائے؟ ہماری زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم علم کی زندگی کے مطابق ہو جائے؟ اس کے لیے ہمیں سیرت کے حلقے عام کرنا ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تذکرہ ہر سو جگمگا اٹھے۔ اس فکر اور سوچ کو عام کرنے کے لیے گزشتہ شب تحصیل ظفروال کے علمائے کرام کا ایک اجلاس جامع مسجد علی ظفروال میں منعقد ہوا۔جس میں اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی کہ ربیع الاول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا مہینہ ہے گو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تذکرہ کسی مہینے کا محتاج نہیں۔جب چاہیں،جس وقت چاہیں، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ اور اس کا تذکرہ اس کے حلقے قائم کر سکتے ہیں۔
آج مسلمانوں پر پریشانیوں کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے رہنمائی لینا چھوڑ دی ہے۔ اور غیروں کے در پہ جا پڑے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم پر پریشانیوں، مصیبتوں اور مصائب کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ جو رکنے میں نہیں آ رہا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبتیں اور پریشانیاں مصائب و آلام دور ہو جائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حلقوں کو ہمیں عام کرنا ہوگا۔اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے تذکرے سے وبائیں دور ہوتی ہیں۔اور یہ تجربے اور مشاہدہ کی بات ہے حکیم الامت مجدد دین و ملت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کی سیرت طیبہ پر ایک ایسی کتاب ہے جو انہوں نے طاعون کے زمانے میں لکھی تھی۔ اور اس کتاب کے لکھنے کی برکت کی وجہ سے سے تھانہ بھون کے علاقے سے یہ بیماری ختم ہو گئی تھی۔
بہرحال اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم ربیع الاول سے لیکر 30 ربیع الاول تک ہر مسجد میں ظفروال اور اس کے گردونواح اونچہ کلاں،
راجو مرل ،گریڈ اسٹیشن،راجیاں،ہربنس پورہ،خوشحال گڑھ، چک دودھو،مراڑہ شریف،روپوچک،جنڈیالہ میں سیرت کے حلقے قائم ہوں گے۔
اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جو پروگرام علاقائی طور پر پہلے سے طے شدہ ہیں ان کو بھی اس میں ایڈ کر لیا جائے اور ربیع الاول کے آخر میں ایک مرکزی سیرت کانفرنس ہو جس کے لیے پہلے سے ہی محنت کی جائے دروس سیرت کے حلقے اس سیرت کانفرنس کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔ان شاء اللہ
ان پروگراموں کی تفصیل تین علماء کرام پر مشتمل کمیٹی کے ارکان حضرت مولانا عمر سعید صاحب،حضرت مولانا مظہر اقبال نقشبندی صاحب،حضرت مولانا محمد حسن سعید صاحب سے لی جا سکتی ہے۔
اس اجلاس کی صدارت عالم باعمل حضرت مولانا مفتی شکیل احمد نقشبندی صاحب نے فرمائی۔ اور اس اجلاس کی میزبانی معروف دینی رہنما محترم جناب خواجہ مرتضی صاحب نے کی۔ ظفر وال اور اس کے گرد و نواح کے تمام علماء کرام اور
اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان
انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان
الرحمت کائنات فاؤنڈیشن
جمیعت اہل سنت والجماعت ظفروال
تبلیغی جماعت ظفروال
اہلسنت والجماعت ظفروال
جمیعت علمائے اسلام ظفروال جماعتوں کے سربراہان اور کارکنان نے اس میں شرکت فرمائی۔
اس اجلاس کے مہمان خصوصی انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے نائب امیر حضرت مولانا افتخار اللہ شاکر صاحب تھے اس کے علاوہ جن علمائے کرام نے اس اجلاس میں شرکت فرمائی ان کے نام بطور برکت کے لیے پر لکھ دیتا ہوں
حضرت مولانا محمد اخلاق صاحب
حضرت مولانا عمرسعید صاحب
حضرت مولانا مظہر اقبال صاحب
حضرت مولانا عبداللہ صاحب
حضرت مولانا محمد عثمان صاحب
جناب قاری شہباز صاحب
حضرت مولانا عبدالرؤف صاحب
حضرت مولانا عبدالمالک صاحب
حضرت مولانا محمد حسن صاحب
حضرت مولانا محمد شاہد صاحب
حضرت مولانا قاری محمد رفیق صاحب
اجلاس کے آخر میں میں تبلیغی جماعت کے معروف کارکن محترم جناب ملک احسان الہی صاحب نے تمام علماء کرام کو مون گرل ہوٹل میں پر تکلف عشائیہ دیا اللہ رب العزت ان کی عمر میں، علم میں،عمل میں، مال اور جان میں برکت عطا فرمائے،
امداداللہ طیب رابطہ سکریٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نارووال

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے