Home / اسلام / قُرآن فراموش اُمت کی کہانی

قُرآن فراموش اُمت کی کہانی

🌹#اعلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَعراف ، اٰیت 175 تا 180🌹
قُرآن فراموش اُمت کی کہانی قُرآن کی زبانی !! 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردوزبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
واتل
علیھم نبا ٕ
الذی اٰتینٰہ اٰیٰتنا
فانسلخ منھا فاتبعہ
الشیطٰن فکان من الغٰوین
175 ولو شٸنالرفعنٰہ بھا ولٰکنہ
اخلد الی الارض واتبع ھوٰہ فمثلہ کمثل
الکلب ان تحمل علیہ یلھث اوتترکہ یلھث ذٰلک
مثل القوم الذین کذبوا باٰیٰتنا فاقصص القصص لعلھم
یتفکرون 176 سا ٕ مثلا القوم الذین کذبواباٰیٰتنا وانفسھم کانوا
یظلمون 177 من یھد اللہ فھوالمھتدی ومن یضلل فاولٰٸک ھم الخٰسرون
178 ولقد ذرانا لجھنم کثیر من الجن والانس لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم اعین
لا یبصرون بھا ولھم اٰذان لا یسمعون بھا اولٰٸک کاالانعام بل ھم اضل اولٰٸک ھم الغٰفلون 179
وللہ الاسما ٕ الحسنٰی فادعوہ بھا وذروا الذین یلحدون فی اسماٸہ سیجزون ماکانوایعملون 180
اے محمد ! اَب آپ اِن لوگوں کو ہر زمانے کی ہر زمین کے اُس کردار کا اَحوال بھی پڑھ کر سُنا دیں جس کو ھم نے راہِ حیات پر چلنے کے لیۓ نشاناتِ راہ کا ایک مکمل نقشہ دیا ھے تاکہ وہ اِس نقشے کو دیکھ کر چلتا ھوا اُس مقام تک پُہنچ جاۓ جس مقام تک اُس کو ھماری رحمت و مہربانی پُہنچانا چاہتی ھے لیکن اِس بَد بخت انسان نے اِس سفر کے دوران پہلے تو ھماری وہ سیدھی راہ چھوڑ کر اپنی مرضی کی ایک ٹیڑھی ترچھی راہ نکالی اور پھر وہ راہ شیطان نے اپنی راہ سے ملا لی یہاں تک کہ ایک روز اچانک ہی اُس شخص سے اپنے نفس کی بناٸ ھوٸ راہ گُم ھو گٸ اور اُس کے پاس صرف شیطان کی دکھاٸ ھوٸ راہ ہی باقی رہ گٸ اور اِس طرح وہ بَہکا ھوا شخص اپنے بَہٹکے ھوۓ اُن ساتھیوں کے پاس پُہنچ گیا جو پہلے ہی شیطان کے حلقہِ شیطنت میں شامل ھو کر شیطان بن چکے تھے ، اگر وہ شخص ھماری دکھاٸ ھوٸ راہ پر چلتا رہتا تو ھم اُس کو زمین کی خاک سے اُٹھا کر عالَمِ افلاک کے اُس بلند تر مقام تک لے جاتے جہاں اللہ کے پسندیدہ بندے پُہنچتے اور رہتے ہیں لیکن ھماری اٰیات سے وہ بھاگا ھوا انسان اپنے نفس کے جال میں اِس طرح اُلجھتا چلا گیا کہ اُس کی راہ سے اللہ کی ہر روشنی دُور ھوتی چلی گٸ اور وہ اللہ کی راہ کی ہر روش سے دُور ھو تا چلا گیا ، اِس حق گریز شخص کی مثال اُس حریص کُتے کی سی ھے جس کو مالک کے ہُشکارنے پر بھی اپنی حرص کی ہَڈی نظر آتی ھے اور مالک کے دُھتکارنے پر بھی اپنی حرص کی ہَڈی ہی نظر آتی ھے اور اُس قوم کا حال بھی اس حریص کُتے کے حال سے کُچھ زیادہ مُختلف نہیں ھے جس قوم کو ھم نے اپنی کتابِ ھدایت دی ھے لیکن وہ اِس کتابِ ھدایت کو چھوڑ کر حرص و جہالت کی اُس راہ پر چل پڑی ھے جو کُتوں کی پسندیدہ راہ ھے اور ھم آپ کو اُس گُم راہ قوم کا یہ قصہِ گُمراہی اِس لیۓ سنا رھے ہیں تاکہ ہر زمانے اور ہر زمین کی ہر قوم خُدا کی ماری اور دُھتکاری ھوٸ قوم سے عبرت حاصل کرے ، زمین کی زندہ بستیوں کے زندہ انسانوں کے لیۓ اللہ کا قانونِ اَزل یہ ھے کہ جس زمین ، جس زمانے اور قوم کا جو شخص بھی اللہ سے ھدایت چاہتا ھے وہ ضرور ھدایت پاتا ھے اور جس قوم کا جو شخص اللہ سے بغاوت کرکے گُم راہی کی طرف جاتا ھے تو وہ لازما نقصان پر نقصان ہی اُٹھاتا چلا جاتا ھے اور فکر و خیال کی ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ھو چکی ھے کہ اہلِ جہان کے بہت سے دیدہ و نادیدہ اَفراد نے ھماری جلانے اور جُھلسانے والی جھنم پسند کرلی ھے اور ھم بھی اُن اَفراد کو اُن کی اِس پسندیدہ جھنم میں جلدی پُہنچانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ خُدا کی زمین کے وہ لوگ ہیں جن کے دل فہم سے خالی ھو چکے ہیں ، جن کی آنکھیں دید سے محروم ھو چکی ہیں اور جن کے کان سماعت سے عاری ھو چکے ہیں اور یہ خُدا کی زمین پر چوپاۓ بن کرچلنے والے وہ چوپاۓ ہیں جن سے خُدا کے بناۓ ھوۓ چو پاۓ بھی شرمندہ ہیں ، کیونکہ جو چوپاۓ اللہ نے بناۓ ہیں وہ اپنے فطری و جبلی احساس محروم نہیں ھوۓ ہیں لیکن یہ جو شیطان کے سُدھاۓ انسان نما چوپاۓ ہیں یہ اُس فطری احساس بھی محرُوم ھو چکے ہیں اور جو لوگ ترکِ انسانیت و اختیارِ حیوانیت کے اِس مرض کا شکار ھو چکے ہیں تو اُن کا علاج صرف یہ ھے کہ وہ اپنے وجُود پر اللہ کی حسین صفات کی حسین رِدا ڈال کر اللہ کی مخلوق کے لیۓ رَحمت و مہربانی بن جاٸیں تاکہ اُن کی یہ خُوب صورت توبہ اُن کے ایک خوب صورت عمل کی ایک خوب صُورت جزاۓ عمل بَن کر سامنے آۓ !
🌹 مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں اللہ کی اٰیات کے جس مُنکر شخص کا ذکر ھوا ھے اُس منکر شخص کی تلاش و جستجو کے لیۓ ھمارے مُحدثینِ عجم و مُفسرینِ عجم نے جو روایتی تگ و دو کی ھے اُس تگ و دو کے مطابق سیدنا محمد علیہ السلام کی بعثت سے قبل ، اُمیہ ابنِ ابی صلت الثقفی نام کا ایک شخص جو قدیم آسمانی کتابوں کا ایک بڑا عالم تھا اور اُس کو اپنے علم و مطالعے کی بنا پر زمین پر آنے والے ایک ھادی کے آنے کا بھی علم تھا اور اُس کی یہ خواہش تھی کہ نبوت و ھدایت کا یہ تاج اُس کے سر پر سجے لیکن جب سیدنا محمد علیہ السلام اِس منصبِ جلیل پر فاٸز ھو گۓ تو اُمیہ حسد سے جَل بُھن گیا اور اُس نے سیدنا محمد علیہ السلام پر ایمان لانے کے بجاۓ کفر کا راستہ اختیار کیا اور اِس روایت کے مطابق یہ اٰیات اُس کے اسی کفر کے بارے میں نازل ھوٸ ہیں ، اہلِ روایت کی دُوسری روایت یہ ھے کہ یہ اٰیات ابو عامر بن صیفی کے کفر کے بارے میں نازل ھوٸ ہیں جو ظہورِ نبوی کے اسی زمانے میں تھا اور آسمانی کتابوں کا ایک بڑا عالم تھا اور ایک عابد و زاھد شخص تھا اور وہ بھی نبوت کا ایک اُمید وار تھا لیکن جب اللہ نے سیدنا محمد علیہ السلام کو اِس منصب پر فاٸز کر دیا تو اُس نے بھی ایمان کا راستہ اختیار کرنے کے بجاۓ کفر کا وہی راستہ اختیار کیا جو اُمیہ ابن ابی صلت ثقفی نے اختیار کیا تھا اور تیسری روایت یہ ھے کہ اِس اٰیت میں جس مُنکر شخص کا ذکر ھوا ھے وہ بنی اسراٸیل کا ایک عالم بلعام بن باعورا تھا جو عھدِ مُوسٰی کا ایک ایسا عالمِ بے بدل تھا کہ اُس کے حلقہِ درس میں ہزاروں اہلِ علم شریک ھو کر اِس کے خطبات قلمبند کیا کرتے تھے اور اِس کی اِن علمی مجلسوں سے ہزاروں دُوسرے انسان بھی فیض یاب ھوتے تھے لیکن پھر یہ شخص مُوسٰی علیہ السلام کی نبوت سے حسد کر کے گُم راہ ھو گیا ، اِس سلسلے میں جو دو باتیں ھم کہنا چاہتے ہیں اُن میں سے پہلی بات یہ ھے کہ قُرآن کی یہ اٰیات محدثینِ عجم اور مُفسرینِ عجم کی اِن عجمی کہانیوں کا ساتھ نہیں دیتیں کیونکہ اِن اٰیات میں نبوت کے کسی اُمیدوار کا ذکر نہیں ھے بلکہ اُس شخص کا ذکر ھے جس کو اللہ نے اپنی اٰیات کا حامل بنایا اور وہ اِن اٰیات سے سر کش ھو کر شیطان کی آغوش میں چلا گیا جبکہ محدثینِ عجم نے جن تین اَفراد کا ذکر کیا ھے اُن میں سے کوٸ ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کو اللہ نے اپنی اٰیات کا حامل بنایا تھا اور وہ اللہ کی اِن اٰیات کا انکار کر کے بھاگ گیا تھا ، اِس سلسلے میں جو دُوسری بات ھم عرض کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ھے کہ محدثینِ عجم نے اِن اٰیات کی شانِ نزول کا جو پس منظر بتایا ھے اُس پس منظر میں انہوں نے نبوت کے اِن اُمیدواروں کے علم و فضل کے تو بڑے بڑے قلابے ملاۓ ہیں لیکن سیدنا مُوسٰی علیہ السلام اور سیدنا محمد علیہ السلام کا انہوں نے کوٸ ایک بھی ایسا وصفِ خاص بیان نہیں کیا جس سے اُن کی شخصی عظمت اظہار ھوتا ھو ، تاہَم انہوں نے یہ ثابت کرنے کی بھر پُور کوشش کی ھے عھدِ مُوسٰی میں ایک بڑا عالم اور عھدِ محمد میں وہ دو بڑے عالم موجُود تھے جو کسی دعوہِ نبوت کے بغیر ہی خلق کے لیۓ مرجعِ خلاٸق بنے ھوۓ تھے لیکن جب سیدنا مُوسٰی و محمد نے اِن کے کُچھ کہنے سننے سے پہلے ہی اپنی اپنی نبوت کا اعلان کر دیا جس کی وجہ سے یہ لوگ اُن کی نبوت کے مخالف ھوگۓ حالا نکہ یہ عقلِ عام کی ایک عام سی بات ھے کہ اگر یہ لوگ ایسے ہی خُدا رسیدہ اور پُہنچے ھوۓ بزرگ ھوتے تو سب سے پہلے اپنے زمانے کے اِن اَنبیا ٕ کو جان جاتے اور اِن پر ایمان لے آتے مگر عُلماۓ عجم تو اِن کے انکار کی کہانی سے ایک عام انسان کا ذھن اِس اِمکان کی طرف موڑنا چاہتے ہیں کہ یہ حصولِ نبوت کی ایک جنگ تھی جس میں اِن کے یہ تین بزرگ بھی شریکِ مقابلہ تھے جن کا انہوں نے ذکر کیا ھے لیکن اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ قُرآنِ کریم کی اٰیاتِ بالا میں جس شخص کا ذکر ھوا ھے وہ انسانی معاشرے کے کسی متعین شخص کی شخصیت نہیں ھے بلکہ وہ ہر زمین اور ہر زمانے کی انسانی معاشرت کا ایک تشخص ھے جس سے اُس زمین اور اُس زمانے کی اَقوام کا وہ قومی کردار سامنے آتا ھے جس کردار کی بنا پر وہ اقوام خُدا کے عذاب یا خُدا کی رحمت کی حق دار ھوتی ہیں اور اِس اَمرِ واقعہ کے مطابق قُرآن کی اٰیاتِ بالا میں انسانی معاشرے کی جس مُنکرِ اٰیات شخصیت کا ذکر ھوا ھے وہ مُحدثین عجم اور مُفسرینِ عجم کی اپنی ہی شخصیت سامنے آتی ھے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی کتاب کا وارث بنایا ھے اور اِن لوگوں نے قُرآن کو ایک کتابِ لاوارث بنانے کے لیۓ اِس کتاب کے مقابلے کے لیۓ اپنے اماموں کی کتابوں کو اپنے لیۓ حاکم و حکم بنایا ھے ، آپ چاہیں تو اِن اٰیات کے متن اور مفہوم کو ایک بار پڑھ لیں یا ایک ہزار بار پڑھ لیں ، آپ کو ہر بار یہی محسوس ھوگا کہ قُرآن کی بیان کی ھوٸ یہ کہانی اسی قوم کے علما اور اسی قوم کے جُہلا کی ایک کہانی ھے ، یہ اُس قوم کی کہانی ھے جس کو اللہ نے عمل کے لیۓ قُرآن دیا لیکن اِس قوم نے اِس کتابِ عظیم کو نظر اَنداز کیا اور آج اِس قوم کا حال یہ ھے کہ اِس کو جو قوم بھی حرص کی ایک ہَڈی دکھاتی ھے ، یہ قوم حرص کی اُس ہڈی کو اپنے دانتوں سے پکڑنے کے لیۓ ایک دُوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دُوسرے سے آگے بڑھنے کے لیۓ ایک دُوسرے کو گرانے اور کُچلنے سے بھی دریغ نہیں کرتی ، رھے اِس قوم کے علما اور سیاسی رہنما تو وہ کتوں کی اِس قومی دوڑ میں اپنی قوم سے بہت آگے ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے