Home / اسلام / انسانی تاریخ کی رحمت فراموش قوم !! 🌹

انسانی تاریخ کی رحمت فراموش قوم !! 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَعراف ، اٰیت 160 تا 163🌹
انسانی تاریخ کی رحمت فراموش قوم !! 🌹 ازقلم…. اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وقطعنٰھم
اثنتی عشرة اسباطا
امما واوحینا الٰی موسٰی اذ
استسقٰہ قومہ ان اضرب بعصاک
الحجر فانبجست منہ اثنتاعشرة عینا
قد علم کل اناس مشربھم وظللنا علیھم
الغمام وانزلنا علیھم المن والسلوٰی کلوامن طیبٰت
مارزقنٰکم وماظلموناولٰکن کا نوا انفسھم یظلمون 160
واذا قیل لھم اسکنواھٰذہ القریة وکلوامنھاحیث شٸتم وقولوا
حطة وادخلواالباب سجدانغفرلکم خطیٸٰتکم سنزیدالمحسنین 161
فبدل الذین ظلموامنھم قولاغیرالذی قیل لھم فارسلنا علیھم رجزا من السما ٕ
بماکانوایظلمون 163
اور جب ھم نے قومِ مُوسٰی کے بارہ انتظامی پونٹ بنا دیۓ تو مُوسٰی ھمارے حُکم کے مطابق اپنی لاٹھی کے سہارے اُس سَنگلاخ زمین پر آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ اُن ٹھنڈے اور میٹھے آبی چشموں تک جا پُہنچا ، جہاں پر اُس کے لَشکر کے ہر لَشکری کو وافر مقدار میں ٹَھنڈا اور میٹھا پانی مل گیا لیکن جب اِس ناشُکری قوم نے ھماری اِس نعمت کی بیقدری کی تو ھم نے اِس قدر فراموش قوم پر ٹڈی دَل کا ایک لَشکر مُسلّط کر کے اِس پر غم و اَندوہ کا ایک سایہ ڈال دیا اور پھر اِس سے کہا کہ اَب ھمارے اِس ھواٸ رزق کے علاوہ تُم کو یہاں پر کھانے اور پینے کے لیۓ جو کُچھ بھی مُیسر ھے تُم نے اُسی پر گزارا کرنا ھے ، تُمہارے ساتھ یہ جو کُچھ بھی ھوا ھے اور جو کُچھ بھی ھو رہا ھے ، یہ تُمہارا اپنا ہی کیا دَھرا ھے ، ھم نے تُمہارے ساتھ کوٸ بھی نا انصافی نہیں کی اور بعد ازاں جب ھم نے اِس قوم کی نافرمانیوں سے در گزر کرکے اِس کو ایک نٸ اور خوش گوار زندگی فراہم کرنے کے لیۓ ایک شہر میں جاکر آباد ھونے کی اجازت دی تو اُس وقت بھی اِس قوم نے ھمارے اُس حُکم کی بھی خلاف ورزی کی جو ھم نے اُس کو دیا تھا اور اِس قوم نے ھمارے حُکم کے بَر عکس اُس شہر کے اہلِ شہر کے ساتھ بے مروتی کا وہ رویہ اختیار کیا جس سے ھم نے اس کو منع کیاتھا اور اِس کے بعد ھم نے اِس پر اپنا وہ آسمانی عذاب بہیجا جو اِس کے اِس عمل کا ایک مَنطقی نتیجہ تھا !
🌹 مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات ! 🌹
قومِ مُوسٰی کے بارے میں قُرآن کے نقل کردہ مُختلف قصوں میں سے یہ ایک قصہ اُس اِبتداٸ زمانے کا ابتداٸ قصہ ھے جب قومِ مُوسٰی 2513 قبل مسیح میں مصر کے دارالحکومت ” رامیس “ سے مُوسٰی کے ساتھ ہجرت کر کے نکلی تھی اور سمندر عبُور کرنے کے بعد اِس مہاجر قوم کے ایک حصے نے مقامِ ” سکوت “ میں سکونت اختیار کی تھی اور دُوسرے حصے نے مقامِ ” مشام “ میں اپنا پڑاٶ ڈالا تھا ، قومِ مُوسٰی ایک طویل اور غیر معینہ مُدت تک سکوت اور مشام کے اِنہی دو مقامات پر قیام پزیر رہی تھی ، اِس لیۓ قُرآنِ کریم نے سُورة البقرة کی اٰیت 40 سے اٰیت 96 تک اور موجُودہ سُورت کی اٰیت 160 سے اٰیت 171 تک جو مُتفرق واقعات بیان کیۓ ہیں یہ سارے واقعات اُسی زمانے کے واقعات ہیں ، قومِ مُوسٰی کے جو اَفراد مُوسٰی کے ساتھ ہجرت کر کے یہاں آۓ تھے اُن کی تعداد 6 لاکھ 20 ہزار تھی اور اِس میں بیس برس سے کم اور ساٹھ برس سے زیادہ عُمر کے لوگ شامل نہیں تھے اور بظاہر ایسا معلوم ھوتا ھے اِن لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو یہاں پر خوراک کی کمی کے کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن پانی کا یہاں پر ” مرہ “ نامی ایک ہی چشمہ موجُود تھا جس کا پانی کُچھ زیادہ عُمدہ نہیں تھا ، اِس لیۓ قومِ مُوسٰی اکثر و بیشتر مُوسٰی علیہ السلام سے اپنے لیۓ ٹَھنڈے اور میٹھے پانی کا بار بار مطالبہ کرتی رہتی تھی اور اِس کے اِن کثرالمقدار مطالبوں کے بعد ہی اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام کو اِس مقام سے اُس مقام تک اپنی لاٹھی کے سہارے پر پیدل سفر کر کے پُہنچنا تھا جہاں پر ٹَھنڈے اور میٹھے پانی کے مُتعدد ، مطلوبہ چشمے موجود تھے اور اِس مقام پر پُہنچنے سے قبل قومِ مُوسٰی کے 6 لکھ 20 ہزار لَشکر کے جو بارہ انتظامی یُونٹ بناۓ تھے اُن میں سے ہر ایک یُونٹ کو اپنا اپنا ایک گھاٹ مل گیا تھا اور جو یُونٹ جس گھاٹ کے زیادہ قریب تھا اُس نے اُسی گھاٹ پر قبضہ کر لیا تھا ، قومِ مُوسٰی کے جو واقعات سُورةالبقرة کے علاوہ اِس سُورت میں اور اِس سورت سمیت قُرآن کی دیگر سورتوں میں بیان ھوۓ ہیں مُفسرینِ عجم کے جُملہ اہلِ تفسیر نے اُن سارے واقعات کو مافوق الفطرت Supernatural واقعات کے طور پر بیان کیا ھے جو غیر معمولی صورتِ حال کے تحت پیش آنے والے غیر معمولی واقعات تو ضرُور تھے لیکن قوانینِ فطرت کے تابع ہی تھے اور جن عجمی روایت پرستوں نے پانی کے اِن چشموں کو مُوسٰی کی لاٹھی کا معجزہ قرار دیا ھے اُن روایت پرستوں کو غالبا مُوسٰی کی لاٹھی پر ہی نہیں بلکہ خود مُوسٰی پر بھی کُچھ زیادہ اعتماد نہیں تھا اسی لیۓ وہ مُوسٰی اور عصاۓ مُوسٰی کو اتنی دُور تک لے گۓ ہیں کیونکہ اگر اِن چشموں کا پیدا ھونا دَستِ مُوسٰی اور عصاۓ مُوسٰی کا معجزہ ھوتا تو یہ معجزہ سکوت اور مشام کے اسی مقام پر ظاہر ھو جاتا جہاں آۓ دِن بنی اسراٸیل پانی کا مطالبہ کرتے رہتے تھے لیکن ظاہر ھے کہ یہ معجزہ سکوت اور مشام کے درمیان اِس لیۓ ظاہر نہیں ھوا کہ وہ جگہ سمندر سے قریب تر تھی اور وہاں پر میٹھے پانی کا کوٸ زیرِ زمین ذخیرہ موجُود ہی نہیں تھا اور اِسی لیۓ اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام کو سمندر کے اُس ساحلی مقام سے آگے بڑھ کر کوہِ سینا کے اُس مقام پر پُہنچنے کا حُکم دیا جہاں ہر طرف چشمے ہی چشمے تھے ، قُرآنِ کریم نے مُوسٰی علیہ السلام کو اِس مقام تک پُہنچنے اور پُہنچانے کے لیۓ ” فاضرب بعصاک الحجر “ کے جو اَلفاظ استعمال کیۓ ہیں اُن کا یہ استعمال اہلِ عرب کا ایک اُسلوُبِ کلام ھے ، جس طرح ھم لوگ اپنی زبان میں اپنی سنگلاخ زمینوں کو پہاڑی علاقے کہتے ہیں اسی طرح اہلِ عرب بھی اُن پہاڑی علاقوں کو ” عرب الحجر “ کہتے ہیں اور اہلِ عرب کے اِس اُسلوبِ کلام کے مطابق اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام کو ” فاضرب بعصاک الحجر “ کا جو حُکم دیا تھا تو اُس حُکم کا مطلب بھی مُوسٰی کا اپنے دَستِ عصا سے پانی کے چشمے جاری کرنانہیں تھا بلکہ اِس کا مطلب یہ تھا کہ تُم اپنا دَستِ عصا زمین پر ٹیکتے ھوۓ ھمارے بتاۓ ھوۓ اِس سنگلاخ راستے پر چلتے چلے چلے جاٶ ، یہاں تک کہ تمہیں وہ جگہ نظر آجاۓ جہاں پر تُمہاری تشنہ لَب قوم کے لیۓ پانی کے وہ ٹھنڈے اور میٹھے چشمے موجُود ہیں جن کی اُس کو ضرورت ھے ، چناچہ مُوسٰی علیہ السلام نے اللہ کے اِس حُکم کے تحت اپنے عصا کو زمین پر ٹیکتے ھوۓ اُس حجری علاقے کا سفر کیا تو آپ اُس علاقے میں پُہنچ گۓ جہاں پر پَتھریلی زمین کی بکھری ھوٸ مٹی اور پھیلے ھوۓ کنکروں کے درمیان وہ چشمے موجُود تھے جن پر پڑی ھوٸ مٹی کو مُوسٰی علیہ السلام نے ایک عقلی و فطری طریقے کے مطابق اپنے دَستِ عصا سے ہَٹا دیا اور مٹی کی گاد میں چُھپے ھوۓ وہ آبی چشمے اُبل کر باہر آگۓ اور قومِ مُوسٰی کے بارہ قبیلوں میں سے ہر ایک قبیلے نے اپنے مُستقر سے قریب تَر آبی چشمے کو اپنے قبیلے کا چشمہ بنا لیا ، قُرآنِ کریم علم و عمل کی ایک عملی کتاب ھے اِس لیۓ عقلِ سلیم بھی یہی کہتی ھے کہ اگر قُرآن میں قومِ مُوسٰی کے بیان کیۓ گۓ واقعات مُجرد تاریخی واقعات ہیں تو اِن واقعات میں مُستقبل کے ہر زمان و مکان کے لیۓ ایسی عبرتیں موجُود ہیں جن سے ہر زمانے اور ہر زمین کا ہر انسان درسِ عبرت حاصل کر سکتا ھے لیکن اگر یہ واقعات مُعجزات ہیں تو مُستقبل کے زمانے کی کسی زمین کے کسی انسان کے لیۓ اِن واقعات میں کُچھ بھی نہیں ھے کیونکہ انسان کا مُستقبل انسان کے اعمالِ حیات سے وابستہ ھے ، مُعجزاتِ حیات سے وابستہ نہیں ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے